تیسرے شخص کی ملکیت کوحق مہر کاحصہ نہیں بنایاجاسکتا،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کسی تیسرے شخص کی ملکیت کو مالک کی رضامندی کےبغیرحق مہر کاحصہ نہیں بنایاجاسکتا۔
سپریم کورٹ میں حق مہر میں سسر کی جائیداد کی شمولیت کے تنازع سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے کی اور کیس پر فیصلہ جاری کیا۔
سپریم کورٹ نے پشاورہائیکورٹ کے 22 مارچ 2024کے فیصلے کیخلاف اپیل جزوی طور پر منظور کی اور مدعیہ کے حق میں ایک کنال پلاٹ کی ڈگری منسوخ کرتے ہوتے ہوئے کہا کہ کسی تیسرے شخص کی ملکیت کو مالک کی رضامندی کے بغیرحق مہر کاحصہ نہیں بنایا جاسکتا۔
سپریم کورٹ نےحق مہر میں شامل ایک کنال پلاٹ کی حد تک فیملی کورٹ، اپیلٹ کورٹ اورہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیے تاہم حق مہرمیں شامل دیگر اشیاء بشمول 5 لاکھ روپے، سونے کے زیورات کی حد تک سابقہ فیصلے برقرار رکھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حق مہر میں درج پلاٹ مدعیہ کے شوہر کے نام نہیں تھا اور کیس ریکارڈ کے مطابق پلاٹ درخواست گزار سسر کی ملکیت تھا، ماتحت عدالتوں نےشواہد کا درست جائزہ نہیں لیا اور ملکیت کے اہم پہلو کو نظرانداز کیا۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ کیس کے مطابق مدعیہ کے حق مہرمیں رنگ روڈ پشاور پر واقع ایک کنال کاپلاٹ بھی شامل تھا، درخواست گزار کےمطابق پلاٹ ان کی ملکیت ہے اور انہوں نےاسےحق مہرمیں دینےکی رضامندی نہیں دی جبکہ نکاح نامہ کےگواہان جرح کےدوران دستاویزکی تیاری اوردستخط کےوقت اپنی موجودگی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلے قانونی غلطی پر مبنی تھے، ہائیکورٹ کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے تھی۔

Back to top button