میر رضا قتل کیس میں کون سی با اثر شخصیت ملوث ہے؟

کراچی کے 25 سالہ نوجوان تاجر میر رضا علی کی دوسری مرتبہ پوسٹ مارٹم اور تازہ فرانزک رپورٹس نے اس پراسرار موت کا معاملہ خودکشی سے قتل کی جانب موڑ دیا ہے، تاہم قتل کے دو ہفتے بعد بھی پولیس کسی ملزم تک نہیں پہنچ سکی۔ نئے طبی اور فرانزک شواہد سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ میر رضا علی کو پیچھے سے گولی ماری گئی۔ ان کے جسم پر موت سے قبل شدید تشدد کے نشانات بھی تھے، لیکن سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ انہیں قتل کرنے والے کون تھے اور اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کس کے اشارے پر کی گئی۔
اہم ترین سوال یہ بھی ہے کہ اگر ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی گئی تو اس کے پیچھے کون سی بااثر شخصیات کارفرما تھیں جن کا کردار تاحال بے نقاب نہیں ہو سکا۔ یاد رہے کہ میر رضا علی 28 جولائی کی رات اپنے گھر سے نکلے تھے، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے۔ اگلے روز ان کی لاش کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی۔
انکے اہلخانہ نے ابتدا ہی سے مؤقف اختیار کیا کہ میر رضا علی کو اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کیا گیا، جبکہ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں خودکشی کے امکان کو سامنے رکھا گیا۔ تاہم اہلخانہ کے مسلسل احتجاج اور ابتدائی پوسٹ مارٹم کے حوالے سے پولیس سرجن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے بعد معاملہ دوبارہ کھولا گیا۔ مقامی عدالت نے اہلخانہ کی درخواست پر قبر کشائی کی اجازت دی اور میڈیکو لیگل بورڈ نے میر رضا علی کا دوسری مرتبہ پوسٹ مارٹم کیا۔ اس پوسٹ مارٹم میں سامنے آنے والی چوٹوں نے خودکشی کے ابتدائی مؤقف کو شدید متنازع بنا دیا۔
چار صفحات پر مشتمل دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کو گولی کمر کے بالائی حصے سے ماری گئی جو جسم میں داخل ہونے کے بعد سینے کے اگلے حصے سے باہر نکلی۔ گولی کے نتیجے میں ان کی پسلیاں ٹوٹیں اور دل کو شدید نقصان پہنچا، جو موت کی بنیادی وجوہ میں شامل ہے۔
میڈیکل بورڈ نے مقتول کے جسم پر دیگر شدید زخموں کی بھی نشاندہی کی۔ میر رضا علی کی پیشانی کے دائیں جانب اور ناک کی ہڈی پر چوٹ کے نشانات پائے گئے، جبکہ اوپری دانتوں اور جبڑے کے قریب خون جما ہوا تھا۔ اس کے علاوہ کھوپڑی کے پچھلے حصے میں فریکچر بھی موجود تھا۔ میڈیکل بورڈ کے مطابق یہ تمام چوٹیں موت سے قبل لگی تھیں، جس سے واقعے میں تشدد کے امکان کو مزید تقویت ملتی ہے۔
اب سندھ فرانزک لیبارٹری کی نئی ڈی این اے رپورٹ نے بھی مقتول کی شناخت کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی ہنسلی کی ہڈی سے حاصل ہونے والا ڈی این اے ان کے والدین کے خون کے نمونوں سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔ فرانزک ماہرین نے جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کا بھی تجزیہ کیا۔ گملے کے ٹکڑوں اور پلاسٹک کی تھیلی سے حاصل کیے گئے انسانی خون کے نمونوں کا ڈی این اے بھی میر رضا علی سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہ شواہد اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جائے وقوعہ پر خون بہنے کا واقعہ پیش آیا تھا اور وہاں موجود مادی شواہد مقتول سے منسلک ہیں۔
دوسری جانب انڈسٹریل اینالیٹیکل سینٹر کی کیمیکل اور ہتھیاروں سے متعلق رپورٹ نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مقتول کی قمیض کے معائنے میں گولی لگنے کے واضح شواہد سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قمیض کے پچھلے حصے میں گولی داخل ہونے کا سوراخ تقریباً 6.99 ملی میٹر جبکہ سامنے کی طرف گولی نکلنے کا سوراخ تقریباً 35.37 ملی میٹر تھا۔
قمیض پر جدید الیکٹران مائکروسکوپی ٹیسٹ بھی کیا گیا، جس میں فائرنگ کے بعد باقی رہ جانے والے بارودی اجزا، جن میں لیڈ اور بیریم شامل ہیں، پائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق بارود کے ذرات نسبتاً زیادہ مقدار میں قمیض کے پچھلے حصے پر موجود تھے۔ یہ شواہد اس مفروضے کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ میر رضا علی کو پشت کی جانب سے گولی ماری گئی تھی۔ کیمیائی تجزیے میں ایک اور اہم انکشاف یہ ہوا کہ میر رضا علی کے خون کے نمونے میں جسم کو سن کرنے والی دوا ’بیوپیواکین‘ کے ذرات موجود تھے۔ تاہم معدے، پھیپھڑوں، جگر، گردے اور تلی کے نمونوں کے تجزیے میں کسی دوسرے زہریلے یا نشہ آور مادے کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے۔
رپورٹ میں میر رضا علی کی قمیض پر تیزاب کے اثرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ گولی کے زخم، جسم پر تشدد کے نشانات، خون کے فرانزک شواہد، بارودی ذرات اور نشہ آور دوا کے اثرات اور تیزاب کے شواہد نے اس کیس کو محض ایک عام قتل کے بجائے ایک ایسے پیچیدہ واقعے میں تبدیل کر دیا ہے جس میں مقتول کے ساتھ کیا گیا سلوک اور موت سے پہلے اور بعد کے حالات تفتیش کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ ان تمام شواہد کے باوجود پولیس تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی۔ میر رضا علی کی موت کو تقریباً دو ہفتے گزر چکے ہیں، لیکن تفتیشی ادارے ابھی تک یہ معلوم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ نوجوان تاجر کو کس نے قتل کیا، اسے وہاں کیسے پہنچایا گیا اور قتل کے بعد شواہد کو کس انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ کیس کا ایک اہم پہلو وہ قیاس آرائیاں بھی ہیں جو میر رضا علی کی لاش ملنے کے بعد سوشل میڈیا پر شروع ہوئیں۔ ان قیاس آرائیوں میں ایک گیسٹ ہاؤس کا ذکر بھی سامنے آیا جو گلستانِ جوہر میں اس مقام کے قریب واقع ہے جہاں سے میر رضا کی لاش ملی تھی۔ میر رضا کے والد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ تدفین کے دوسرے روز اس مقام پر گئے تو انہیں دیکھ کر گیسٹ ہاؤس کے ملازمین فرار ہو گئے تھے۔ تاہم پولیس تفتیشی حکام نے اس حوالے سے کسی حتمی ثبوت کی موجودگی سے انکار کیا ہے۔
سندھ پولیس کے آئی جی جاوید عالم اوڈھو نے اعتراف کیا ہے کہ اس معاملے میں کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ سندھ بار کونسل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل لیگل محکمے کی جانب سے بھی غلطیاں ہوئیں اور پولیس نے ابتدا میں وہی سمت اختیار کی جو اسے میڈیکل لیگل حکام کی جانب سے بتائی گئی تھی۔ ان کے مطابق اب میڈیکل بورڈ کے نتائج کی روشنی میں تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔ آئی جی سندھ نے یہ بھی کہا کہ میر رضا علی کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی نئی کمیٹی کھلے ذہن کے ساتھ تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ ان کے مطابق پولیس پر نہ پہلے کوئی دباؤ تھا اور نہ اب ہے۔
دوسری جانب کیس کی تفتیش کے لیے نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی عامر فاروقی کو کمیٹی کا سربراہ جبکہ ایس ایس پی ریپڈ رسپانس فورس علی رضا کو سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی میں ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی قیس خان، ایس پی سینٹرل انویسٹی گیشن انعم تجمل اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ زمان ٹاؤن کا ایک افسر بھی شامل ہے۔ نئی کمیٹی کو واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات، میر رضا علی کی موت کے حالات کا ازسرنو جائزہ لینے اور دستیاب طبی و فرانزک شواہد کی روشنی میں تفتیش آگے بڑھانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
اب اس کیس کا سب سے اہم سوال یہ نہیں رہا کہ میر رضا علی کی موت خودکشی تھی یا قتل، کیونکہ دستیاب نئے طبی اور فرانزک شواہد قتل کے امکان کو انتہائی مضبوط بنا چکے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس نوجوان تاجر کو کس نے قتل کیا، قتل کی وجہ کیا تھی، اسے نشانہ بنانے والے افراد کون تھے اور قتل کے بعد واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کس نے کی۔ اگر تحقیقات اس پہلو تک پہنچتی ہیں کہ قتل کے شواہد موجود ہونے کے باوجود اسے خودکشی قرار دینے کی کوشش کیوں کی گئی تو ممکن ہے اس کیس کے پیچھے موجود اصل کردار بھی سامنے آ جائیں۔ تاہم فی الحال کسی بااثر شخصیت کے ملوث ہونے کا دعویٰ ثابت شدہ حقیقت نہیں بلکہ ایک اہم تفتیشی سوال ہے، جس کا جواب پولیس کو ٹھوس شواہد کے ذریعے دینا ہوگا۔
