جی ایچ کیو فائرنگ کیسPTIکیلئے مزید مشکلات کا امکان

راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے مین گیٹ کے قریب فوجی اہلکاروں پر فائرنگ کے جواب میں مارے جانے والے نوجوان محمد حسین کی شناخت تحریک انصاف کے کارکن کے طور پر ہونے کے بعد عمران خان کی جماعت کے لیے مزید مشکلات کھڑی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ محمد حسین سے پی ٹی آئی کا جھنڈا اور دیگر مواد ملنے اور اسکی عمران خان سے سیاسی وابستگی کی تصدیق نے تحریک انصاف کو ایک نئے سیاسی دباؤ سے دوچار کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے اثرات 27 ستمبر سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے شروع کی جانے والی مجوزہ ملک گیر تحریک پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیونکہ حکومت اس واقعے کو پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی اور کارکنوں کی ذہن سازی سے جوڑ رہی ہے۔

راولپنڈی پولیس کے مطابق سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کرنے والے مسلح شخص کو جوابی کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس نے حملہ آور کی شناخت 22 سالہ محمد حسین کے نام سے کی ہے، جس کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ سے بتایا گیا ہے۔
پولیس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق واقعہ منگل کی صبح تقریباً 11 بجے پیش آیا، جب محمد حسین نے اپنے پاس موجود پستول سے سیکیورٹی فورسز کی ٹیم پر براہ راست فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوا، جس کے بعد جوابی فائرنگ میں حملہ آور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ محمد حسین کے قبضے سے ایک پستول، گولیاں، اہم دستاویزات اور پاکستان تحریک انصاف کا جھنڈا برآمد ہوا۔ پولیس کے مطابق ملزم کے موبائل فون اور دیگر سامان کی ابتدائی فرانزک جانچ کے دوران بعض اہم روابط کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جن کی بنیاد پر مزید تفتیش جاری ہے۔
تاہم اس واقعے کے سیاسی پہلو نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے، کیونکہ حکومت کی جانب سے محمد حسین کو پی ٹی آئی کا سرگرم کارکن قرار دیے جانے کے بعد تحریک انصاف نے اگرچہ اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ وہ جماعت کا کارکن تھا، تاہم فائرنگ کے واقعے کو پارٹی کی پالیسی یا سرگرمی قرار دینے سے انکار کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ جماعت ایک سیاسی تنظیم ہے اور اس کا دہشت گردی یا کسی بھی قسم کے پرتشدد کارروائی سے کوئی تعلق نہیں۔

پارٹی قیادت نے حکومت کی جانب سے واقعے کو فوری طور پر تحریک انصاف سے جوڑنے کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومتی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کا دہشت گردی یا کسی بھی پرتشدد واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور کسی ٹھوس انکوائری کے بغیر واقعے کا ملبہ پی ٹی آئی پر ڈالنا درست نہیں۔

ادھر باڑہ سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے بھی محمد حسین کے اقدام کو اس کا ذاتی فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف ایک سیاسی تنظیم ہے، عسکری تنظیم نہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی شخص نے ذاتی حیثیت میں قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اسے اس کے اپنے عمل کا ذمہ دار قرار دیا جانا چاہیے۔
اقبال آفریدی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر محمد حسین کی بعض ایسی ویڈیوز جاری کی گئی ہیں جن میں وہ تحریک انصاف کے اجتماعات میں دکھائی دیتا ہے یا پارٹی رہنماؤں سے ملتا ہے تو حساس علاقے میں پیش آنے والے اصل واقعے کی فوٹیج بھی سامنے لائی جانی چاہیے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی احتجاج کے نام پر سیکیورٹی اہلکاروں پر سرعام فائرنگ کا کوئی جواز نہیں۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے بھی پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اس سنگین اقدام سے خود کو الگ نہیں کر سکتی اور اگر کارکنوں کی مسلسل ایسی ذہن سازی کی جائے گی تو اس کے نتائج پرتشدد واقعات کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
محمد حسین کا سیاسی پس منظر کیا تھا؟

بی بی سی اردو سے گفتگو میں محمد حسین کے کزن نیاز ولی نے بتایا کہ محمد حسین عمران خان کا انتہائی پرجوش حامی تھا اور پورے علاقے کے لوگ اسے ’عمران خان کا عاشق اور دیوانہ‘ سمجھتے تھے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کا جلسہ ملک کے کسی بھی علاقے میں ہو، محمد حسین پارٹی کا جھنڈا اٹھا کر وہاں پہنچنے کی کوشش کرتا تھا۔ نیاز ولی کے مطابق خاندان، برادری اور محلے کے لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ محمد حسین راولپنڈی کیسے پہنچا اور اس کے پاس پستول کہاں سے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان واقعے پر حیران و پریشان ہے اور اسے یہ معلوم نہیں کہ محمد حسین نے ایسا قدم کیوں اٹھایا۔
محمد حسین کے کزن کے مطابق ان کے والدین وفات پا چکے تھے جبکہ دو بھائی سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں اور ایک بھائی صوبائی محکمہ تعلیم سے وابستہ ہے۔ والدین کے انتقال کے بعد انہی بھائیوں نے محمد حسین کی پرورش کی۔

نیاز گل نے بتایا کہ محمد حسین زیادہ تعلیم حاصل نہیں کر سکا تھا اور مختلف مسائل کی وجہ سے اس کی تعلیم کا سلسلہ رک گیا تھا۔ اس کے بھائی نے اسے ڈرائیونگ سکھائی تھی تاکہ اسے روزگار کے لیے سعودی عرب بھیجا جا سکے۔ ان کے مطابق محمد حسین کے لیے ویزے کا انتظام کیا جا رہا تھا کہ اس دوران راولپنڈی کا واقعہ پیش آ گیا۔ اہل خانہ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے محمد حسین کو گھر سے جیب خرچ بھی محدود کر دیا گیا تھا تاکہ وہ علاقے سے باہر نہ جائے اور کسی سرگرمی میں شریک نہ ہو۔ زیادہ تر وقت وہ اپنے حجرے میں گزارتا تھا جہاں آنے والے مہمانوں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔

ذہنی دباؤ اور علاج کا دعویٰ
محمد حسین کے کزن نیاز ولی کے مطابق وہ گزشتہ تقریباً تین برس سے شدید ٹینشن اور بعض نفسیاتی مسائل کا شکار تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بھائی اس کا علاج بھی کروا رہے تھے، وہ ڈاکٹر کے پاس آتا جاتا تھا اور کچھ ادویات بھی استعمال کرتا تھا۔
اہل خانہ نے واقعے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ محمد حسین راولپنڈی گیا ہے یا اس کے پاس پستول موجود ہے۔ ان کے مطابق خاندان قانون کی پابندی کرنے والا ہے اور وہ تحقیقات میں حکام سے مکمل تعاون کرے گا۔

محمد حسین کی پی ٹی آئی سے وابستگی کی تصدیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر سے ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ اس تناظر میں جی ایچ کیو جیسے انتہائی حساس مقام کے قریب سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کا واقعہ پارٹی کے لیے سیاسی طور پر خاصا حساس معاملہ بن گیا ہے۔
حکومت اس واقعے کو پی ٹی آئی کے کارکنوں کی مبینہ ذہن سازی اور سیاسی ماحول میں بڑھتی ہوئی شدت کے ساتھ جوڑ رہی ہے، جبکہ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ کسی ایک فرد کے مبینہ ذاتی فعل کی ذمہ داری پوری سیاسی جماعت پر عائد نہیں کی جا سکتی۔
یہ تنازع آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، بالخصوص اگر پولیس کی فرانزک تحقیقات میں محمد حسین کے روابط یا واقعے کے محرکات کے حوالے سے ایسے شواہد سامنے آتے ہیں جو براہ راست کسی منظم سیاسی یا دیگر نیٹ ورک کی جانب اشارہ کرتے ہوں۔ تاہم فی الحال پولیس کی جانب سے جن ’اہم روابط‘ کا ذکر کیا گیا ہے، ان کی مکمل تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔

اسی لیے واقعے کے محرکات، محمد حسین کے راولپنڈی پہنچنے کے مقصد، پستول کے حصول اور فائرنگ سے قبل اس کے رابطوں کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہی یہ طے کر سکیں گی کہ یہ ایک فرد کا انفرادی اقدام تھا یا اس کے پس پردہ کوئی وسیع تر منصوبہ موجود تھا۔ تاہم سیاسی اعتبار سے واقعہ پی ٹی آئی کے لیے ایک مشکل مرحلہ ضرور پیدا کر چکا ہے۔ ایک طرف پارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی مجوزہ 27 ستمبر کی تحریک مکمل طور پر سیاسی اور پرامن ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت کی جانب سے ایسے واقعات کو پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوشش اس تحریک کے لیے عوامی اور انتظامی سطح پر اضافی رکاوٹیں پیدا کر سکتی ہے۔

Back to top button