پٹرول مہنگاکیوں ہوا؟قائمہ کمیٹی میں وزارت توانائی پرسوالات کی بوچھاڑ

ایران جنگ کے بعدپٹرول مہنگاکیوں ہوا؟ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم میں وزیرتوانائی اویس لغاری اور پٹرولیم ڈویڑن کو سخت سوالات کاسامناکرناپڑا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس ہوا جس دوران وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور پیٹرولیم ڈیویژن حکام نے ارکان کو بریفنگ دی۔
پیٹرولیم ڈیویژن حکام کا کہنا ہے کہ پیٹرول زیادہ مہنگا ہونے کہ وجہ 117 روپے فی لیٹر لیوی کا نفاذ ہے۔
رکن کمیٹی سیف اللہ ابڑونے سوال کیا کہ بتایا جائے 28 فروری تک پیٹرولیم مصنوعات کا کتنا سٹاک تھا؟ آپ نے 28 فروری کے فوری بعد پیٹرول اور ڈیزل 55 ، 55 روپے فی لیٹر مہنگا کیا۔
حکام پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا تھا کہ یکم مارچ کے بعد عالمی مارکیٹ میں ڈیزل 285 ڈالر فی بیرل جبکہ پیٹرول 150 ڈالر فی بیرل تک گیا، پاکستان کے پاس آج پیٹرول کے 30 دن کے اور ڈیزل کے 27 دن کے سٹاک ہیں۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پیٹرولیم سٹاکس کو یقینی بنانے کیلئے مہنگی پیٹرولیم مصنوعات بھی خریدیں، ہم نے تیل کے سٹاکس بھی برقرار رکھنے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس پیٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹیجک اسٹاک نہیں ہیں، پٹرولیم اسٹاکس تو کمپنیوں کے پاس ہیں۔
وزیر پیٹرولیم نے سیف اللہ ابڑو کو جواب دیتےہوئے کہا کہ ہم آپ کو ہر کمپنی کا ڈیٹا فراہم کر دیں گے، اس معاملے کو ایف آئی اے بھی دیکھ رہا ہے۔
رکن کمیٹی عامر چشتی نے کہا کہ تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا آڈٹ کر الیں، اس پر علی پرویز ملک نے کہا کہ تمام 42 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا آڈٹ کرا لیتے ہیں۔
سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ہمیں یہ بتایا جائے کہ قیمت کیسے بڑھاتے ہیں، تحریری طور پربتائیں کہ پیٹرولیم پرائسز پر ٹیکس کتنے ہیں، اس پر پیٹرولیم ڈویژن حکام نے کہا کہ پیٹرول زیادہ مہنگا ہونے کہ وجہ 117 روپے فی لیٹر لیوی کا نفاذ ہے۔
