سٹیلتھ طیارے اورڈرون ٹیکنالوجی، پاک بھارت جنگی تیاریاں عروج پر کیوں؟

پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ برس ہونے والا چار روزہ تنازع اگرچہ مختصر تھا، مگر اس کے اثرات آج بھی خطے کی سیاست، سفارت کاری اور دفاعی پالیسیوں پر نمایاں ہیں۔ ایک سال گزرنے کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں، ویزا پابندیاں برقرار ہیں، تجارتی روابط محدود ہیں اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی جیسے اقدامات صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔
اس دوران دونوں ممالک نے اپنی عسکری سوچ میں بڑی تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں۔ اب جنگ صرف ٹینکوں اور توپوں کی نہیں رہی بلکہ ڈرونز، سٹیلتھ طیاروں، سپر سونک میزائلوں، سائبر حملوں اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے لڑی جانے والی “ملٹی ڈومین وارفیئر” میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جس کے بعد یہ سوال مزید شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا پاکستان اور انڈیا محض جنگی تیاریوں کے مرحلے میں ہیں یا خطہ ایک نئی عسکری دوڑ کے دہانے پر کھڑا ہے؟ چار روزہ تنازع کے ایک سال بعد دونوں ممالک نہ صرف اپنی کامیابیوں کے دعوے دہرا رہے ہیں بلکہ جدید جنگی حکمتِ عملی، راکٹ فورس، سٹیلتھ طیاروں، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر اور لانگ رینج میزائل سسٹمز پر غیر معمولی سرمایہ کاری بھی کر رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں اب روایتی جنگ کا تصور بدل چکا ہے؛ میدانِ جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہا بلکہ فضا، سمندر، سائبر اسپیس اور مصنوعی ذہانت تک پھیل چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا دونوں اپنی افواج کو “ملٹی ڈومین وارفیئر” کے نئے دور کے مطابق ڈھالنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیا نے حالیہ تنازع کے بعد اپنی عسکری حکمتِ عملی کو تیزی سے جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔ انڈیا نے ہنگامی بنیادوں پر اربوں روپے کے نئے دفاعی معاہدے کیے ہیں جن میں جدید میزائل سسٹمز، ڈرونز، فضائی دفاعی نظام اور جنگی طیارے شامل ہیں۔انڈین فوج اب “انٹیگریٹڈ بیٹل تھیٹر گروپس” کی تشکیل پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت بری، بحری اور فضائی افواج کو مشترکہ کمانڈ کے ذریعے مربوط انداز میں چلایا جائے گا۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد جنگ کے دوران فوری فیصلہ سازی اور مشترکہ آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔انڈیا نہ صرف روس سے مزید ایس-400 دفاعی نظام حاصل کر رہا ہے بلکہ “آکاش تیر” جیسے مقامی دفاعی منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئے کروز میزائل، جدید ڈرونز اور بحریہ کے لیے نئے جنگی جہاز بھی دفاعی تیاریوں کا حصہ بن چکے ہیں۔
انڈین دفاعی منصوبہ ساز ایران کی دفاعی حکمتِ عملی سے بھی متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق انڈیا سرحدی علاقوں میں زیرِ زمین میزائل سٹوریج، عسکری سرنگوں اور محفوظ دفاعی ٹھکانوں کے قیام پر غور کر رہا ہے تاکہ جدید میزائل حملوں سے حساس اثاثوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ماہرین کے مطابق جدید جنگوں میں دشمن کے میزائل اور ڈرونز کسی بھی ملک کے اندر دور تک تباہی پھیلا سکتے ہیں، اسی لیے زیرِ زمین تنصیبات کو مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی کا اہم جزو سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے بھی چار روزہ تنازع کے بعد اپنی عسکری حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔ دفاعی بجٹ میں بڑا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ “آرمی راکٹ فورس کمانڈ” کا قیام پاکستان کی نئی جنگی سوچ کی اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔پاکستانی عسکری ماہرین کے مطابق ماضی میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل زیادہ تر سٹریٹجک مقاصد کے لیے استعمال ہوتے تھے، تاہم اب روایتی جنگ میں بھی لانگ رینج راکٹ اور سپر سونک میزائلوں کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔اسی تناظر میں پاکستان نے فتح سیریز کے میزائل پروگرام کو تیز کیا ہے۔ “فتح تھری” کو سپر سونک صلاحیت کا حامل میزائل قرار دیا جا رہا ہے، جس کا موازنہ انڈیا کے براہموس میزائل سے کیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے حالیہ عرصے میں “ڈرون وارفیئر یونٹ” بھی قائم کیا ہے، جبکہ ڈرونز کی خصوصی مشقیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ مستقبل کی جنگ میں بغیر پائلٹ کے نظام کلیدی کردار ادا کریں گے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مطابق مستقبل کی جنگیں صرف زمینی محاذ تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ سائبر وارفیئر، الیکٹرانک جنگ، مصنوعی ذہانت اور لانگ رینج ہتھیار فیصلہ کن حیثیت اختیار کریں گے۔پاکستان اپنی سائبر صلاحیتوں اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کو بھی جدید بنا رہا ہے تاکہ دشمن کے مواصلاتی اور دفاعی نظام کو غیر مؤثر بنایا جا سکے۔
پاکستانی فضائیہ اب جدید سٹیلتھ طیاروں کے حصول کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اطلاعات کے مطابق چین کے جے-35 ففتھ جنریشن سٹیلتھ طیارے پاکستان کے ممکنہ دفاعی منصوبوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق اگر پاکستان جدید سٹیلتھ طیارے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو خطے میں فضائی طاقت کا توازن ایک نئی شکل اختیار کر سکتا ہے۔دوسری جانب انڈیا بھی اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے نئے جنگی جہاز، ڈرونز اور میزائل سسٹمز شامل کر رہا ہے۔
پاکستانی بحریہ نے بھی اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔ ہنگور کلاس آبدوزوں، نئے جنگی جہازوں اور جدید ایئر ڈیفینس سسٹمز کی شمولیت سے بحری دفاع کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندر سے لانچ ہونے والے میزائل تجربات بھی پاکستان کی بحری حکمتِ عملی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنوبی ایشیا نئی عسکری دوڑ میں داخل ہو چکا ہے؟دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور انڈیا اب ایک ایسی جنگی دوڑ میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ٹیکنالوجی، رفتار اور مصنوعی ذہانت فیصلہ کن عوامل ہوں گے۔ دونوں ممالک اپنی افواج کو “ملٹی ڈومین آپریشنز” کے مطابق ڈھال رہے ہیں، جس سے خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ تیز ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا پہلے ہی دو جوہری طاقتوں کے درمیان حساس خطہ ہے، اور اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
