پاکستان کی ثالثی پر UAEمیں مقیم پاکستانی مشکل میں کیوں؟

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی کی سفارتی کوششوں کے بیچ پاکستان ایک نئے سفارتی دباؤ کا سامنا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور پاکستان کے تعلقات میں حالیہ ہفتوں کے دوران تناؤ پیدا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی کارکنوں کی بڑی تعداد کو ملک بدر کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام ایسی کسی بھی پیشرفت کی تردید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی کوششوں میں کردار ادا کیا، تاہم یہ سفارتی سرگرمی مبینہ طور پر خلیجی اتحادیوں کے لیے باعث تشویش بنی۔ خاص طور پر یہ مؤقف سامنے آیا کہ پاکستان نے ایران کی جانب سے خطے میں ہونے والے بعض حملوں کی واضح مذمت نہیں کی، جبکہ بیک وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کی کوششیں بھی جاری رکھیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یو اے ای میں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد پاکستانی شہریوں کو اچانک حراست میں لیا گیا، ان سے پوچھ گچھ کی گئی اور بعد ازاں انہیں پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض کاروباری اداروں نے اپنے پاکستانی ملازمین کے ویزوں کی منسوخی یا عدم تجدید کی تصدیق کی ہے۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر کسی قسم کی ملک بدری نہیں ہو رہی، اور صرف وہ افراد واپس بھیجے گئے جن پر مقامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات تھے۔ تاہم وزارت نے اس بات پر تفصیلی وضاحت نہیں دی کہ آیا یہ اقدامات کسی سیاسی یا سفارتی تناؤ کا نتیجہ ہیں یا نہیں۔ تاہم نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یو اے ای میں تقریباً 20 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جو نہ صرف ملک کی لیبر مارکیٹ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ سالانہ اربوں ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان بھیجتے ہیں۔ اسی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات کو پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
سابق سفارتکاراور تجزیہ کار اس معاملے پر مختلف آرا دیتے نظر آتے ہیں۔ بعض کے مطابق پاکستان کی سفارتی حکمت عملی میں توازن قائم رکھنا مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ ایک طرف خلیجی اتحادی ہیں اور دوسری طرف ایران کے ساتھ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس توازن کی کوششیں بعض اوقات علاقائی اتحادیوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہیں۔اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یو اے ای اس بات پر بھی حساس ہے کہ پاکستان کے ایران اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کس سمت جا رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب متعدد پاکستانی خاندانوں اور کمیونٹی نمائندوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں اچانک ویزا منسوخی اور ملک بدری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔اس تمام صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا پاکستان کی خطے میں سفارتی سرگرمیاں اس کے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہو رہی ہیں یا یہ محض وقتی سفارتی تناؤ ہے۔فی الحال نہ تو اماراتی حکومت اور نہ ہی امریکی حکام نے ان دعوؤں پر باضابطہ طور پر کوئی تفصیلی ردعمل دیا ہے، جس کے باعث صورتحال مزید ابہام کا شکار ہے۔
