کیا اسلام آباد پھر عالمی سفارتکاری کا مرکز بننے والا ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں وقتی کمی کے بعد اب ایک بار پھر مذاکراتی عمل کے دوسرے دور کے آغاز کے امکانات پر سفارتی حلقوں میں بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی نسبتاً پرسکون فضا نے خطے میں ایک نئی امید پیدا کی ہے کہ شاید دونوں روایتی مخالف فریق دوبارہ بات چیت کی میز پر آ سکتے ہیں۔

موجودہ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مذاکراتی عمل کا ایک دور پہلے ہی اسلام آباد میں منعقد ہو چکا ہے، تاہم دوسرے مرحلے کی پیش رفت مختلف سفارتی پیچیدگیوں کے باعث تعطل کا شکار رہی۔ اب تازہ سفارتی سرگرمیوں اور بیک ڈور رابطوں نے اس بات کو تقویت دی ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور جلد شروع ہو سکتا ہے۔ سفارتی مبصرین کے مطابق پاکستان اس پورے عمل میں ایک اہم سہولت کار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ خاموش سفارت کاری کے ذریعے نہ صرف اعتماد سازی کی کوششیں جاری ہیں بلکہ ممکنہ فریم ورک پر بھی ابتدائی بات چیت ہو رہی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق مستقبل میں کسی ابتدائی معاہدے یا مشترکہ اعلامیے کے امکانات بھی موجود ہیں جسے غیر رسمی طور پر “اسلام آباد ڈیکلریشن” کا نام دیا جا سکتا ہے۔

سابق سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران دونوں اب اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ موجودہ بحران کا حل فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری میں مضمر ہے۔ تاہم اصل چیلنج دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ہے، جسے ختم کیے بغیر کسی بڑے معاہدے تک پہنچنا مشکل ہوگا۔ دوسری جانب عالمی سیاست میں بھی اہم تبدیلیاں جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورہ چین اور خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں نے اس پورے معاملے کو مزید پیچیدہ لیکن اہم بنا دیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بڑی طاقتوں کے درمیان جاری اقتصادی اور اسٹریٹجک مقابلہ بھی اس مذاکراتی عمل کو براہ راست متاثر کر رہا ہے۔

سابق سفیر نائلہ چوہان کے مطابق خطے میں آنے والے دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے، تاہم ان کے مطابق امریکا کی توجہ اس وقت زیادہ تر چین کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی معاملات پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین امریکی دباؤ کو بخوبی سمجھتا ہے اور اپنی حکمت عملی کے مطابق جواب دے رہا ہے۔دوسری جانب سابق سفیر مسعود خالد کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اس وقت تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں جب واشنگٹن ایرانی تجاویز پر واضح اور مثبت ردعمل دے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک اب یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ تصادم کا راستہ مسئلے کا حل نہیں۔اسی طرح سینیئر صحافی انس ملک کے مطابق اس وقت خاموش سفارت کاری جاری ہے اور آئندہ چند دنوں میں اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اعتماد سازی کے اقدامات میں پیش رفت ہو رہی ہے، جن میں قیدیوں کی منتقلی اور بحری تنازعات میں کمی جیسے عوامل شامل ہیں۔

سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی دباؤ اور علاقائی طاقتوں کے مفادات نے امریکا اور ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی طرف مائل کیا ہے۔ پاکستان اس پورے عمل میں ایک متوازن اور اہم کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔اگر موجودہ سفارتی رفتار برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں نہ صرف مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز ممکن ہے بلکہ خطے میں ایک نئے سفارتی باب کی بنیاد بھی پڑ سکتی ہے۔

Back to top button