مربوط کارروائیوں کے باوجود افغان دہشتگرد اب بھی آزاد کیوں؟

سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے بنوں میں پیش آنے والے حالیہ دہشتگرد حملے کو “پلانٹڈ واقعہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشتگردی کا مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو مسلسل اندرونی خطرات کا سامنا ہے۔ بیرونی محاذ پر پیش رفت کے باوجود پاکستان کے اندرونی سکیورٹی چیلنجز اب بھی ایک سنگین مسئلہ ہیں، حکومت اور ادورں کو انٹرنل سیکیورٹی کو مزید مربوط بنانے اور دہشتگرد گروہوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیں
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے بیرونی معاملات اس وقت بہتر سمت میں جا رہے ہیں اور عالمی سطح پر ملک کا امیج بھی مضبوط ہوا ہے، تاہم اندرونی سکیورٹی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق بنوں میں ہونے والا حملہ اچانک نہیں تھا بلکہ یہ ایک منظم اور منصوبہ بند کارروائی لگتی ہے، جس کا مقصد واضح طور پر ریاستی اداروں اور عوام کو پیغام دینا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم اندازہ یہی ہے کہ اس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان جیسے عناصر ملوث ہو سکتے ہیں یا پھر خطے میں سرگرم دیگر شدت پسند نیٹ ورکس اس کے پیچھے ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایک طرف پاکستان عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنا رہا ہو تو ایسے واقعات اس پیش رفت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہوتے ہیں۔
نجم سیٹھی کے مطابق صرف بیرونی سکیورٹی مضبوط کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اندرونی سکیورٹی کو بھی مزید مؤثر بنانا ہوگا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض واقعات بظاہر مقامی لگتے ہیں لیکن ان کے پیچھے وسیع تر علاقائی منصوبہ بندی موجود ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور بعض قوتیں پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
انڈیا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ نئی دہلی میں دفاعی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں آ رہی ہیں اور نئی عسکری قیادت جارحانہ حکمت عملی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق بعض بھارتی حلقے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف آپریشنل حکمت عملیاں تیار کر رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں خطے میں جاری دہشتگردی کے بعض واقعات کو سیاسی اور اسٹریٹجک مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر دباؤ میں لایا جائے اور اس کی ترقیاتی رفتار کو سست کیا جا سکے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی سازشی تھیوری پر یقین نہیں رکھتے، بلکہ صرف زمینی حقائق اور موجودہ سکیورٹی حالات کا تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کو اندرونی استحکام اور سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی بیرونی یا اندرونی خطرے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
بنوں واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا خطے میں دہشتگردی کے نیٹ ورکس واقعی کمزور ہو رہے ہیں یا وہ نئے انداز میں دوبارہ متحرک ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال میں پاکستان کو ایک مربوط، سخت اور طویل المدتی سکیورٹی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
