ٹرمپ کی دھمکیوں پر تہران ڈٹ گیا، جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے

ٹرمپ کی دھمکیوں پر تہران ڈٹ گیا، جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگےمشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور سفارتی رابطوں کی تمام کوششوں کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جواب کو “ناقابلِ قبول” قرار دینے کے بعد خطے میں ایک نئی جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، جبکہ تہران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی دباؤ، دھمکی یا امریکی خوشنودی کیلئے اپنی قومی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے نہایت سخت لہجے میں ایران پر الزام عائد کیا کہ تہران گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکا اور دنیا کے ساتھ “کھیل” کھیل رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران صرف وقت حاصل کرنے کیلئے مذاکرات کو استعمال کر رہا ہے اور واشنگٹن اب مزید یہ صورتحال برداشت نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے بقول اگر ضرورت پڑی تو امریکا صرف چند ہفتوں میں اپنے تمام اہداف حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن دوسری طرف تہران نے امریکی مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دوٹوک پیغام دیا کہ ایران کسی صورت جھکنے والا نہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کے بیانات کی “کوئی اہمیت نہیں”، کیونکہ ایران نے اپنا جواب صرف اور صرف قومی مفاد اور عوام کے حق کیلئے دیا ہے۔ تہران نے واضح کیا کہ ایران میں کوئی بھی شخص ٹرمپ کو خوش کرنے کیلئے پالیسیاں تیار نہیں کرتا۔
ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا ہے کہ تہران اب دفاعی پوزیشن کے بجائے جارحانہ سفارتی اور عسکری حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ ایرانی صدر پزشکیان نے اعلان کیا کہ مذاکرات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران ہتھیار ڈال دے یا اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ دباؤ ڈال کر ایران کو جھکایا جا سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایران نے مذاکرات کیلئے جو شرائط پیش کی ہیں، وہ بھی انتہائی سخت اور واضح سمجھی جا رہی ہیں۔ تہران نے جنگ کے مکمل خاتمے، آبنائے ہرمز میں عدم مداخلت، مستقبل میں حملے نہ کرنے کی ضمانت، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، بحری ناکہ بندی ختم کرنے، نقصانات کے ازالے اور منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے مطالبات سامنے رکھے ہیں۔ ان شرائط سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران اس بار صرف مذاکرات نہیں بلکہ مکمل ضمانتیں چاہتا ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ ایران نے برطانیہ اور فرانس کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے جنگی جہاز اس حساس آبی گزرگاہ میں داخل ہوئے تو ایرانی افواج فوری اور فیصلہ کن کارروائی کریں گی۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ ہرمز کی سکیورٹی صرف ایران کی ذمہ داری ہے اور کسی بیرونی طاقت کو وہاں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب فرانس نے نسبتاً نرم مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد ایران کے ساتھ تصادم نہیں بلکہ خطے میں مشترکہ سکیورٹی تعاون کو یقینی بنانا ہے۔ قطر نے بھی خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا پورے مشرقِ وسطیٰ کو نئی تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
اسی دوران خطے میں عسکری سرگرمیوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ عرب امارات اور کویت نے اپنی فضائی حدود میں ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایرانی فوجی قیادت نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے اہم ملاقات کے بعد ممکنہ خطرات کے خلاف جنگی تیاریوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی فوجی ترجمان کے مطابق اگر دشمن نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران “نئے ہتھیاروں، نئے طریقوں اور نئے محاذوں” سے جواب دے گا۔ادھر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی اس بحران کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی فریق اس جنگ کو طول دینے میں دلچسپی نہیں رکھتا، کیونکہ یہ تنازع پورے خطے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق خطے کی موجودہ صورتحال یہ ظاہر کر رہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان محض لفظی جنگ نہیں بلکہ اعصاب کی ایک انتہائی خطرناک لڑائی جاری ہے۔ ایک طرف ٹرمپ طاقت کے اظہار اور دھمکیوں کے ذریعے دباؤ بڑھا رہے ہیں، تو دوسری جانب ایران یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ہر قسم کی عسکری اور اقتصادی جنگ کیلئے تیار ہے۔ تاہم دنیا کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتکاری اس بحران کو روک پائے گی یا مشرقِ وسطیٰ ایک نئی تباہ کن جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
