ایرانی تجاویز مسترد، ایران کو مزید گیم نہیں کھیلنے دینگے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کیلئے پیش کی گئی نئی تجاویز کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا جائزہ لیا، مگر یہ تجاویز امریکا کیلئے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ امریکی صدر نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں اور ایران کا جواب امریکی توقعات کے مطابق نہیں۔ ذرائع کے مطابق تہران نے اپنی جوابی تجاویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی تھیں، تاہم امریکی قیادت نے انہیں رد کر دیا۔
دوسری جانب ٹرمپ نے ایک اور سخت بیان میں ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ گزشتہ 47 برس سے امریکا اور دنیا کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران مسلسل وقت حاصل کرنے، مذاکرات کو طول دینے اور عالمی دباؤ سے بچنے کیلئے مختلف حربے استعمال کرتا رہا ہے۔
ٹرمپ نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اوباما انتظامیہ نے ایران کو بے پناہ مالی فوائد پہنچائے، جس سے تہران کو نئی طاقت ملی۔ ان کے مطابق ایران کو سیکڑوں ارب ڈالر فراہم کیے گئے جبکہ اربوں ڈالر نقد رقم کی صورت میں بھی دیے گئے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اس مالی مدد کے باوجود خطے میں اپنی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی بلکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایران نے احتجاجی مظاہروں کو سختی سے کچلا اور ہزاروں مظاہرین کو ہلاک کیا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب امریکا ایران کو مزید موقع نہیں دے گا اور نہ ہی پرانی پالیسیوں کو دہرایا جائے گا۔ ان کے مطابق واشنگٹن اب تہران کے ساتھ سخت اور واضح مؤقف اختیار کرے گا تاکہ ایران پر مزید دباؤ ڈالا جا سکے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی سطح پر امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت پر نظریں جمی ہوئی ہیں۔
