امریکی دباؤ مسترد، ایران کا جوہری پروگرام ختم کرنے سے صاف انکار

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے جنگ کے خاتمے کیلئے بھیجے گئے اپنے جواب میں محدود مدت کیلئے یورینیم افزودگی روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم امریکا کی طویل المدتی شرائط تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آئندہ 20 برس تک یورینیم افزودگی نہ کرے، مگر ایرانی قیادت نے اس شرط کو ناقابل قبول قرار دیا۔ ذرائع کے مطابق تہران نے اپنے جواب میں مرحلہ وار جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو بتدریج کھولنے اور آئندہ 30 روز کے اندر نئے مذاکرات شروع کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اقتصادی پابندیاں ختم کر دی جائیں اور بحری ناکہ بندی ہٹا دی جائے تو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ تہران نے اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں فوری ختم کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجاویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ امریکی مؤقف ہے کہ تہران مزید وقت حاصل کرنے کیلئے سفارتی چالیں چل رہا ہے اور اب اسے مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔
ادھر ایرانی سرکاری ذرائع نے وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق تہران کے اصل مؤقف میں فوری اور مکمل جنگ بندی، مستقبل میں کسی بھی حملے کے خلاف ضمانت، تمام اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور معاہدے پر دستخط ہوتے ہی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔ایرانی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جوہری تنصیبات ختم کرنے یا مکمل طور پر جوہری پروگرام بند کرنے کا امریکی مطالبہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے اور وہ اپنے دفاعی و سائنسی حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
