انڈیا مئی 2025 کی جنگ میں ہونے والا نقصان تسلیم کیوں نہیں کرتا؟

مئی 2025 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی چار روزہ شدید عسکری کشیدگی ختم ہوئے ایک برس گزر چکا ہے، لیکن اس مختصر مگر غیرمعمولی فضائی و میزائل جنگ کا سب سے بڑا سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: آخر انڈیا اپنے جنگی نقصانات، خصوصاً لڑاکا طیاروں کی تباہی، کو تسلیم کرنے سے گریزاں کیوں ہے؟
یہ سوال تب مزید اہم ہو گیا جب انڈین عسکری قیادت نے حالیہ پریس کانفرنس میں ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا کہ پاکستان انڈیا کو کوئی بڑا نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوا، جبکہ دوسری جانب پاکستان مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا کہ اس نے انڈین فضائیہ کے کم از کم چھ جنگی طیارے مار گرائے تھے۔ امریکی صدر ٹرمپ بھی بار بار پاکستانی دعووں کی تصدیق کر چکے ہیں جنہوں نے جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی 2025 کی جنگ میں “6-0” کی اصطلاح پاکستان کے سرکاری بیانیے کا مرکزی حصہ بن چکی ہے۔ پاکستان کا دعویٰ تھا کہ چھ سے دس مئی کے دوران ہونے والی فضائی کارروائیوں میں انڈین فضائیہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد انڈیا نے چھ اور سات مئی 2025 کی درمیانی شب ایک غیر ضروری پنگا لیتے ہوئے آزاد کشمیر، لاہور اور بہاولپور میں ہماری طرف میزائل حملے کر دیے۔ اس کے بعد جوابی فضائی کارروائی میں انڈیا کے پانچ جنگی طیارے گرائے جن میں تین رفال، ایک مگ 29 اور ایک ایس یو 30 شامل تھے۔
بعدازاں پاکستانی فضائیہ کے ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے یہ تعداد بڑھا کر چھ بتائی۔ اس وقت انڈین فضائیہ کے ایئر مارشل اے کے بھارتی نے ان دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ میں “دونوں جانب نقصان ہوتا ہے” اور انڈیا اپنے نقصانات کا جائزہ لے گا۔
تاہم اس کے بعد ایک سال گزرنے کے باوجود نئی دہلی نے کبھی باضابطہ طور پر کسی طیارے کے گرائے جانے یا کسی بڑے فوجی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ابتدائی دنوں میں انڈین حکام محتاط زبان استعمال کر رہے تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ سرکاری مؤقف زیادہ سخت اور قطعی ہوتا گیا۔ حال ہی میں انڈین فوجی قیادت کی مشترکہ پریس کانفرنس میں ایئر مارشل اے کے بھارتی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نہ تو انڈیا کے کسی اہم عسکری ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکا اور نہ ہی کوئی بڑا ہدف حاصل کر سکا۔ ان کے مطابق انڈیا نے پاکستان کے “11 فضائی اڈے” اور “13 طیارے” تباہ کیے۔
تاہم جب ان سے براہ راست پوچھا گیا کہ کیا انڈیا کا کوئی جہاز تباہ ہوا تھا تو انھوں نے کسی نقصان کی تردید کی۔
دراصل یہی تضاد تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کیونکہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں “نقصان کے جائزے” کی بات کرنے والے حکام اب مکمل انکار کی پوزیشن میں دکھائی دیتے ہیں۔ انڈین انکار کے باوجود کئی ایسے شواہد سامنے آئے جنہوں نے سوالات کو مزید تقویت دی۔ بی بی سی ویریفائی نے تین ایسی ویڈیوز کی تصدیق کی تھی جن میں دکھایا گیا ملبہ ممکنہ طور پر فرانسیسی ساختہ رفال طیارے کا تھا۔ ان میں سے ایک ویڈیو کی جیو لوکیشن انڈین پنجاب کے علاقے بھٹنڈہ میں کی گئی تھی جہاں وردی میں ملبوس اہلکار ملبہ جمع کرتے دکھائی دیے۔
اسی طرح انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے پام پور، رام بن اور دیگر علاقوں میں بھی طیارہ گرنے اور ملبہ ملنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں نے ایسے مقامات کا دورہ کیا جہاں بھاری مشینری کے ذریعے جہاز کے ٹکڑے منتقل کیے جا رہے تھے۔ اگرچہ انڈین حکام نے ان واقعات کی مکمل وضاحت کبھی نہیں کی، مگر انھوں نے یہ بھی واضح طور پر نہیں بتایا کہ یہ ملبہ کس نوعیت کا تھا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق انڈیا کی ہچکچاہٹ صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی، سفارتی اور نفسیاتی نوعیت کی بھی ہے۔
دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی کے مطابق اس جنگ کا سب سے اہم مرحلہ پہلی رات کی فضائی لڑائی تھی۔ ان کے بقول عالمی سطح پر یہ تاثر موجود تھا کہ روایتی جنگ میں انڈیا کو پاکستان پر واضح برتری حاصل ہے، مگر مئی 2025 کی لڑائی نے اس تصور کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکی کانگریس کی بعداز جنگ رپورٹ میں بھی پاکستانی فوج کی بہتر کارکردگی کا ذکر کیا گیا، جس کے بعد انڈیا کی “علاقائی عسکری برتری” کی شبیہ متاثر ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر نئی دہلی باضابطہ طور پر رفال جیسے جدید اور مہنگے طیاروں کے نقصان کو تسلیم کر لیتا تو یہ نہ صرف عسکری ساکھ بلکہ دفاعی منصوبہ بندی اور سیاسی قیادت کے بیانیے کے لیے بھی دھچکا ثابت ہو سکتا تھا۔ رفال طیارے انڈین فضائیہ کی جدید ترین صلاحیتوں کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ فرانس سے اربوں ڈالر مالیت کے ان طیاروں کی خریداری پہلے ہی انڈیا میں سیاسی تنازعات کا موضوع رہ چکی تھی۔ ایسے میں اگر ان کی تباہی تسلیم کی جاتی تو سوال اٹھ سکتا تھا کہ آیا انڈیا کی جدید فضائی حکمت عملی اور دفاعی تیاری مؤثر تھی یا نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں قومی سلامتی کا بیانیہ حکمران جماعت کی سیاسی طاقت کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔ کسی بڑے عسکری نقصان کا اعتراف سیاسی اپوزیشن کو حکومت پر حملے کا موقع دے سکتا تھا۔ اسی لیے سرکاری بیانیے میں “کامیاب جوابی کارروائی” اور “دہشت گرد ٹھکانوں کی تباہی” پر زور دیا گیا، جبکہ نقصانات کے سوال کو پس منظر میں رکھا گیا۔
اس جنگ کے دوران پاکستان اور انڈیا کے میڈیا ہینڈلنگ کے طریقوں میں بھی واضح فرق دیکھا گیا۔
پاکستان نے بین الاقوامی میڈیا کو ان مقامات تک رسائی دی جہاں انڈین حملے ہوئے تھے، جبکہ تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کی گئیں۔ اس کے برعکس انڈیا میں میڈیا کو فضائی اڈوں یا حساس فوجی تنصیبات تک رسائی نہیں دی گئی۔ بیشتر معلومات صرف سرکاری پریس بریفنگز تک محدود رہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ممکن نہ تھی۔ اسی وجہ سے عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ نئی دہلی مکمل معلومات سامنے لانے سے احتراز کر رہا ہے۔
کچھ انڈین دفاعی ماہرین اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ انڈیا کو “بڑی شکست” ہوئی تھی۔ تجزیہ کار راہل بیدی کے مطابق پاکستان نے وسیع فضائی اور ڈرون حملے ضرور کیے، مگر انڈیا کے کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام، خصوصاً ایس-400، نے زیادہ تر حملے ناکام بنا دیے۔ ان کے مطابق غیر سرکاری سطح پر چار یا پانچ طیاروں کے نقصان کی باتیں ضرور گردش کرتی رہیں، مگر اگر بڑے پیمانے پر جانی نقصان یا پائلٹ ہلاکتیں ہوتیں تو ان کا چھپانا مشکل ہوتا۔ دوسری جانب پاکستان کے کئی دعوؤں، مثلا ایس-400 نظام تباہ کرنے، کے واضح ثبوت سامنے آ چکے ہیں۔ مئی 2025 کی یہ لڑائی اب صرف عسکری نہیں بلکہ “بیانیے کی جنگ” بھی بن چکی ہے۔ پاکستان مسلسل یہ دعوی کرتا رہا کہ اس نے محدود وسائل کے باوجود انڈین فضائی طاقت کو مؤثر جواب دیا، جبکہ انڈیا اس تاثر کو رد کرتے ہوئے اپنی عسکری برتری برقرار دکھانا چاہتا ہے۔
تاہم عالمی سطح پر بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ انڈیا کی مسلسل خاموشی، متضاد بیانات اور شواہد تک محدود رسائی نے ان سوالات کو ختم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیا ہے۔ اسی لیے ایک سال بعد بھی جنوبی ایشیا کی اس مختصر مگر خطرناک جنگ کا سب سے بڑا معمہ یہی ہے: اگر انڈیا کو واقعی کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا تھا، تو پھر اس نے اپنے عسکری ریکارڈ، فضائی نقصانات اور جنگی تفصیلات مکمل شفافیت کے ساتھ کبھی عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھیں؟
