حکومت نے ایران امریکہ جنگ کو کمائی کا ذریعہ کیسے بنایا؟

وفاقی حکومت نے ایران امریکہ جنگ کو کمائی کا آسان ذریعہ بنا لیا۔ مبصرین کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے جہاں عالمی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وہیں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی تبدیلی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا جا رہا ہے، اور اس اضافے کی اصل وجہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ نہیں بلکہ “پیٹرولیم لیوی” ہے جس کو حکومت ہر گزرت دن کے ساتھ بڑھاتی ہی جا رہی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت ایران-امریکہ جنگ کو ایک معاشی موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھا کر اپنے ٹیکس شارٹ فال کو پورا کر رہی ہے؟ یا واقعی یہ اضافہ ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے؟

ناقدین کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ضرور آیا، مگر پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں جس تیزی سے اضافہ ہوا، اس نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق حالیہ اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت 414 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ڈیزل بھی تقریباً اسی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ نہ ہونے کے باوجود پاکستان میں قیمتیں بڑھانے کی بنیادی وجہ “پیٹرولیم لیوی” میں اضافے کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسے میں اہم سوال یہ یہ کہ یہ پیٹرولیم لیوی آخر ہوتی کیا ہے؟ معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم لیوی دراصل وہ اضافی رقم ہے جو حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس کی صورت میں وصول کرتی ہے۔ ماضی میں اس لیوی کا مقصد عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو متوازن رکھنا تھا تاکہ عوام کو اچانک مہنگائی کے جھٹکے سے بچایا جا سکے۔ تاہم اب ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس لیوی کو مستقل ریونیو حاصل کرنے کا سب سے آسان ذریعہ بنا لیا ہے اور اب یہی ٹیکس حکومتی آمدن کا بڑا سہارا بنتا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت مستحکم رہنے کے باوجود حکومت نے پیٹرول پر لیوی بڑھا کر فی لیٹر تقریباً 15 روپے کا اضافہ کر دیا۔ اسی طرح ڈیزل کی عالمی قیمت میں محدود اضافے کے باوجود صارفین پر دوگنا بوجھ منتقل کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کا اصل مقصد حکومت کے “ریونیو شارٹ فال” کو کم کرنا ہے تاکہ مالی خسارے پر قابو پایا جا سکے۔ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت ریٹیل، ہول سیل اور زرعی شعبوں سے مطلوبہ ٹیکس وصول نہیں کر پا رہی، اس لیے پیٹرولیم لیوی کو ایک آسان راستے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ٹیکس براہِ راست عوام سے وصول ہو جاتا ہے اور اس میں مزاحمت بھی نسبتاً کم ہوتی ہے۔

معاشی ماہرین کے بقول ایران-امریکہ جنگ نے حکومت کو قیمتیں بڑھانے کا سیاسی جواز فراہم کر دیا ہے۔ چونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بے یقینی موجود ہے، اس لیے حکومت لیوی میں اضافے کو باآسانی “عالمی بحران” سے جوڑ دیتی ہے۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ پیٹرولیم لیوی کی ایک حد طے تھی، مگر اب یہ اس حد سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ان کے بقول حکومت کفایت شعاری اور ٹیکس اصلاحات کے بجائے لیوی بڑھا کر ٹیکس اکٹھا کرنے کا آسان راستہ اختیار کر رہی ہے۔ جس سے عوام مہنگائی کی چکی میں پستے دکھائی دے رہے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ حکومت اپنے ٹیکس شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے لیوی پر انحصار بڑھا رہی ہے کیونکہ دیگر شعبوں سے ٹیکس اکٹھا کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے عوامی بوجھ کم کرنے کی بجائے براہِ راست ایندھن مہنگا کر کے اپنی مالی مشکلات کا آسان حل تلاش کر لیا ہے۔

ناقدین کے مطابق حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا اثر پوری معیشت پر پڑتا ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزیں مزید مہنگی ہو جاتی ہیں۔ صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے بقول حکومت کی یہ پالیسی مختصر مدت میں ریونیو تو دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہے کیونکہ مہنگائی کاروباری سرگرمیوں اور معاشی ترقی کو سست کر دیتی ہے۔ ان کے مطابق جب عوام کی قوتِ خرید کم ہوتی ہے تو مارکیٹ میں طلب بھی کم ہو جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمتِ عملی وقتی ریلیف تو دے سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں مہنگائی کے بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی غصہ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ صارفین کا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہنا ہےکہ ہر معاشی ناکامی کا بوجھ عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ کئی افراد نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ حکومت کو مہنگائی بڑھانے کے لیے “جنگ” کی صورت میں بہترین بہانہ مل گیا ہے، جبکہ کچھ صارفین نے اسے متوسط طبقے کے لیے معاشی تباہی قرار دیا۔بعض صحافیوں اور سیاسی شخصیات نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے دعوے صرف بیانات تک محدود رہ گئے ہیں جبکہ حقیقت میں مہنگائی کا بوجھ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب معاشی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر حکومت مسلسل پیٹرولیم لیوی پر انحصار کرتی رہی تو اس کے نتیجے میں مہنگائی مزید بڑھے گی، عوامی بے چینی میں اضافہ ہوگا اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اگر حکومت نے بروقت بنیادی معاشی اصلاحات نہ کیں تو مستقبل میں پیٹرولیم لیوی عوام اور معیشت دونوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

Back to top button