2025 کی پاک بھارت جنگ نے خطے میں طاقت کا توازن کیسے بدلا؟

 

 

 

مئی 2025 میں پاکستان پر بھارتی حملے کے جواب میں پاکستان کی جانب سے کیے گئے منہ توڑ حملوں کے بعد نہ صرف جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے بلکہ اس جنگ نے دونوں ممالک کی عسکری قیادت پر یہ حقیقت بھی واضح کر دی ہے کہ مستقبل کی جنگیں اب طویل روایتی لڑائیوں کے بجائے تیز رفتار، ٹیکنالوجی پر مبنی، انتہائی مربوط اور محدود دورانیے کی ہوں گی، جن میں فیصلہ ابتدائی چند گھنٹوں یا دنوں میں ہی ہو جائے گا۔

 

یاد رہے کہ آزاد کشمیر، لاہور اور بہاولپور پر بھارتی میزائل حملوں کے ردعمل میں پاک فضائیہ نے بھارت کے 6 جدید ترین لڑاکا طیارے، جن میں 3 فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے بھی شامل تھے، مار گرائے تھے، جس کے بعد بھارت نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے جنگ بندی کروائی تھی۔ ایک سال گزرنے کے باوجود مئی 2025 کی چار روزہ پاک بھارت جنگ جنوبی ایشیا کے عسکری اور دفاعی حلقوں میں مسلسل زیر بحث ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ تنازع محض ایک سرحدی جھڑپ یا محدود فوجی کارروائی نہیں تھا بلکہ اس نے جنوبی ایشیا میں جنگی حکمتِ عملی، دفاعی تیاری، ٹیکنالوجی کے استعمال اور عسکری سوچ کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھ دی ہے۔

 

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ماضی میں کئی جنگیں ہو چکی ہیں، تاہم مئی 2025 کی جنگ نے دونوں ممالک کو یہ احساس دلایا کہ اب جنگیں فوجیوں کی تعداد، روایتی اسلحے یا طویل زمینی لڑائیوں سے نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، سائبر ٹیکنالوجی اور فضائی برتری سے جیتی جائیں گی۔

پاکستانی عسکری ذرائع کے مطابق مئی 2025 کی جنگ نے ثابت کیا کہ آپریشنل تیاری، فوری ردعمل اور جدید ٹیکنالوجی ہی مستقبل کی کامیابی کا اصل معیار ہوں گے۔ پاکستانی فوج اور فضائیہ نے جنگ کے دوران نہ صرف بھارتی حملوں کا مؤثر جواب دیا بلکہ محدود وقت میں ایسی جوابی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جس نے بھارت کی عسکری منصوبہ بندی کو متاثر کیا۔

 

اسی پس منظر میں پاکستانی عسکری حکام یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ گزشتہ جنگ نے بھارتی فضائیہ کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا جبکہ پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں کافی محدود وسائل کے باوجود بہتر حکمتِ عملی، مربوط کمانڈ اور فضائی برتری کا عملی مظاہرہ کیا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی ایک نفسیاتی رکاوٹ کے طور پر کام کرتی تھی۔ 1998 کے پاکستانی ایٹمی دھماکوں کے بعد تقریباً تین دہائیوں تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ دونوں ممالک کشیدگی بڑھا سکتے ہیں لیکن مکمل جنگ سے گریز کریں گے کیونکہ ایٹمی تصادم دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم مئی 2025 کی جنگ نے اس تصور کو جزوی طور پر بدل دیا۔

 

دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی اہم فوجی تنصیبات، فضائی مراکز اور آپریشنل اہداف کو نشانہ بنایا لیکن اس کے باوجود جنگ مکمل ایٹمی تصادم میں تبدیل نہیں ہوئی۔ اسی وجہ سے اب دونوں ممالک میں یہ سوچ ابھر رہی ہے کہ محدود اور تیز رفتار روایتی جنگ ایٹمی حد عبور کیے بغیر بھی لڑی جا سکتی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس جنگ نے پہلے حملے کی برتری کے نظریے کو بھی مزید اہم بنا دیا ہے۔ اب دونوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آئندہ کسی بھی تصادم میں جو فریق پہلے زیادہ مؤثر اور مربوط حملہ کرے گا وہ ابتدائی برتری حاصل کر لے گا۔ اسی لیے پاکستان اور بھارت دونوں ڈرون ٹیکنالوجی، کروز میزائلوں، فضائی دفاعی نظام، سیٹلائٹ نگرانی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹارگٹنگ سسٹمز پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

 

دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری تنازعات نے پہلے ہی عالمی عسکری سوچ کو تبدیل کرنا شروع کر دیا تھا، لیکن مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ نے ان تجربات کو جنوبی ایشیا میں عملی شکل دے دی۔ اب ڈرون صرف نگرانی یا جاسوسی کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ حملوں، انٹیلی جنس، الیکٹرانک وارفیئر اور دشمن کے مواصلاتی نظام کو تباہ کرنے کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ عسکری ماہرین کے مطابق مستقبل کی جنگوں میں صرف ٹینک، توپیں اور لڑاکا طیارے اہم نہیں ہوں گے بلکہ دشمن کے ریڈار، کمیونیکیشن نیٹ ورک، سیٹلائٹ لنکس اور ڈیجیٹل سسٹمز کو جام کرنا بھی اتنا ہی اہم ہوگا۔ اسی وجہ سے اب الیکٹرو میگنیٹک اسپیکٹرم کو بھی ایک مکمل جنگی محاذ تصور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ مئی 2025 کی جنگ کے بعد اپنی عسکری حکمتِ عملی میں کئی اہم تبدیلیاں شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اب روایتی جنگ میں بھارت کے برابر آنے کے بجائے ایسی دفاعی اور جوابی صلاحیت پیدا کرنے پر توجہ دے رہا ہے جو دشمن کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکے۔ اسی مقصد کے تحت گائیڈڈ راکٹ سسٹمز کی توسیع، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی تیاری، مخصوص راکٹ فارمیشنز کے قیام، فضائیہ اور بری فوج کے درمیان مزید مربوط تعاون اور فورسز کی محفوظ و منتشر تعیناتی پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ جنگ کی صورت میں دشمن کے لیے اہداف کو مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل ہو جائے۔

 

پاکستانی عسکری حلقے اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ ملک کے کئی اہم صنعتی، عسکری اور شہری مراکز بھارتی سرحد کے نسبتاً قریب واقع ہیں، اس لیے مستقبل کی کسی شدید جنگ میں یہ تنصیبات ابتدائی مراحل میں ہی بھارتی حملوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔ اسی خطرے کے پیش نظر اب عسکری انفراسٹرکچر کی بقا، متبادل نظاموں اور فوری نقل و حرکت کی صلاحیت کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

بحری محاذ پر بھی نئی سوچ سامنے آ رہی ہے۔ مئی 2025 کی جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات نے پاکستان کو یہ احساس دلایا ہے کہ مستقبل میں معاشی دباؤ، بحری ناکہ بندی اور سمندری راستوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں بھی جنگ کا حصہ بن سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان بحریہ اب طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، اینٹی ایکسس صلاحیتوں، جدید سمندری نگرانی اور محفوظ بحری اثاثوں پر زیادہ توجہ دے رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحری دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکے۔

 

دوسری جانب بھارت نے بھی اس جنگ سے کئی اہم نتائج اخذ کیے ہیں۔ بھارتی عسکری حلقوں کے مطابق نئی دہلی اب صرف علامتی یا محدود حملوں تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ وہ ایسی فضائی اور میزائل صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو ایٹمی حد عبور کیے بغیر دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکیں۔ اسی تناظر میں بھارت اب “ملٹی ڈومین وارفیئر” multi domain warfare پر زور دے رہا ہے، جس میں سائبر حملے، ڈرون آپریشنز، الیکٹرانک وارفیئر، میزائل حملے، فضائی طاقت، مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ نگرانی کو بیک وقت استعمال کیا جاتا ہے۔

 

بھارت آئندہ برسوں میں براہموس کروز میزائل، ایس-400 فضائی دفاعی نظام، مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹارگٹنگ، سیٹلائٹ نگرانی اور تیز رفتار “سینسر ٹو شوٹر” censor to shooter نظام پر مزید انحصار بڑھا رہا ہے۔ بھارتی دفاعی ماہرین کے مطابق مستقبل کی جنگیں آغاز کے چند گھنٹوں میں فیصلہ کن رخ اختیار کر سکتی ہیں، اسی لیے فوجی کمانڈ، انٹیلی جنس اور مختلف افواج کے درمیان رابطے کو مزید تیز اور مربوط بنایا جا رہا ہے۔

 

نئی دہلی میں اب پاکستان کو صرف ایک الگ حریف کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا بلکہ بھارتی سٹریٹیجک حلقے پاکستان کو چین کے ساتھ ایک مشترکہ عسکری نظام کا حصہ سمجھنے لگے ہیں۔ بھارتی دفاعی اداروں کو خدشہ ہے کہ کسی بھی مستقبل کے تنازع میں چین پاکستان کو انٹیلی جنس، سیٹلائٹ نگرانی، الیکٹرانک وارفیئر، اسلحے اور ٹیکنالوجی کی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ اسی لیے بھارت “ایک سرحد، دو دشمن” کے نظریے کے تحت اپنی دفاعی منصوبہ بندی کو آگے بڑھا رہا ہے۔

انڈیا مئی 2025 کی جنگ میں ہونے والا نقصان تسلیم کیوں نہیں کرتا؟

مئی 2025 کی جنگ کے بعد بھارت میں تھیٹر کمانڈز اور بری، بحری و فضائی افواج کے درمیان مکمل مشترکہ آپریشنل نظام کے قیام کی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ جنگ نے واضح کر دیا کہ مستقبل کی جنگیں بیک وقت کئی محاذوں پر لڑی جائیں گی، اس لیے تینوں افواج کے درمیان مکمل انضمام اور حقیقی وقت میں فیصلہ سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں ایٹمی سطح پر توازن اور خوف تو برقرار ہے، لیکن اس کے نیچے محدود، تیز رفتار اور ٹیکنالوجی پر مبنی جنگوں کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق مئی 2025 کی جنگ نے شاید خطے میں طاقت کا توازن مکمل طور پر تبدیل نہ کیا ہو، لیکن اس نے جنگ کے مستقبل کی نئی تصویر ضرور واضح کر دی ہے، جہاں کامیابی کا انحصار فوجی تعداد سے زیادہ مصنوعی ذہانت، ڈرونز، سائبر حملوں، الیکٹرانک وارفیئر، سیٹلائٹ نگرانی، مربوط کمانڈ سسٹمز اور فوری فیصلہ سازی پر ہوگا۔

 

Back to top button