جاپانی وزیراعظم کا ایرانی صدر سے رابطہ، آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت پر زور

جاپانی وزیراعظم سانے تاکائیچی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا،جس میں آبنائے ہرمز کی صورت حال،بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جاپان کی وزیراعظم سانے تاکائیچی نے کہاکہ آبنائے ہرمز کی صورت حال انتہائی نازک مرحلے میں پہنچ چکی ہے،اس لیے موجودہ فوجی کشیدگی میں کمی،صورت حال کو جلد معمول پر لانے اور مختلف معاملات،بشمول جوہری مسئلے،کو امریکا اور ایران کے درمیان طےشدہ مفاہمت کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔
سانےتاکائیچی نے آبنائےہرمز سے آزادانہ اور محفوظ بحری آمدورفت بغیر اضافی اخراجات کے یقینی بنانےکی اہمیت پر زور دیتےہوئے ایران سے مطالبہ کیاکہ وہ آبنائے ہرمز استعمال کرنےوالی ریاستوں سمیت عالمی برادری کے ساتھ اس معاملے پر قریبی مشاورت کرے۔
جاپانی وزیر اعظم نے آبنائےباب المندب میں استحکام کو توانائی کے تحفظ کےلیے اہم قراردیتے ہوئے یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کےخلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان اور تجارتی جہازوں و تیل سے متعلق تنصیبات پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے ایران سے حوثیوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنےپر آمادہ کرنے کی درخواست بھی کی۔
سانے تاکائیچی نے ایران میں زیرحراست ایک جاپانی شہری کے معاملے کو بھی جلد حل کرنے کی درخواست دہرائی،جسے گزشتہ اپریل میں ضمانت پر رہا کیاگیا تھا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آبنائےہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان جاری رابطوں اور آئندہ کے لائحہ عمل سے جاپانی وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔
صدر مسعود پزشکیان نے باب المندب کی صورت حال پر بتایا کہ ایران مسائل کے حل کےلیے کوششیں کررہا ہے اور اس سلسلے میں سعودی عرب کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں۔
ٹرمپ کاآبنائےہرمزکاکنٹرول حاصل کرنےکادعویٰ
دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی میں جلد کمی لانے کےلیے قریبی رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
