وزیراعظم سے بیلاروس کے وزیر توانائی کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بیلاروس کے وزیر توانائی ڈزینس ماروز نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیاگیا۔
وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف نے بیلاروس کے وزیر توانائی ڈزینس ماروز اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔
ملاقات میں مشترکہ وزارتی کمیشن کے نویں اجلاس کے دوران ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیاگیا۔ اجلاس میں تجارت،صنعت، بینکاری، زراعت،افرادی قوت، ٹرانسپورٹ اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیاگیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کے فیصلے دونوں ممالک کےلیے عملی فوائد کا باعث بنیں گے اور پاکستان اور بیلاروس کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کو مزید مستحکم کریں گے۔
بیلاروس کے وزیر توانائی ڈزینس ماروز نے پرتپاک استقبال پر وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتےہوئے بیلاروسی قیادت کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں ہونےوالی اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔
دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیاگیا کہ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان طےپانے والے فیصلوں اور معاہدوں پر عملدرآمد تیز کیاجائے گا اور باہمی رابطے و تعاون کو مزید فروغ دیاجائے گا۔
قبل ازیں پاکستان اور بیلاروس کے درمیان نویں مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا،جس میں دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں عملی اقدامات پر اتفاق کیاگیا۔
اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور بیلاروس کے وزیر توانائی ڈزینس ماروز نے مشترکہ طور پر کی۔اجلاس کے اختتام پر دوطرفہ تعاون کے پروٹوکول اور میڈیا کے شعبے میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیےگئے۔
وزارت اقتصادی امور کے مطابق تجارتی مسائل کےحل کےلیے جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیاگیا، جب کہ خدمات کے شعبے میں تجارتی معاہدے کےلیے فزیبلٹی سٹڈی گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیاگیا۔
اجلاس میں پاکستان اور یوریشین اکنامک یونین کے درمیان آزادانہ تجارت کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیاگیا۔دونوں ممالک نے صنعتی تعاون،ٹیکنالوجی کی منتقلی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے درمیان شراکت داری مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
پاکستان نے منظم طریقہ کار کے تحت پاکستانی افرادی قوت بیلاروس بھیجنے کی پیشکش بھی کی،جب کہ خوراک،پھلوں اور ڈیری مصنوعات کی تجارت کے فروغ کےلیے آن لائن بی ٹو بی سیشنز منعقد کرنے پر اتفاق کیاگیا۔
پاکستان ایران ایک دوسرے کے سٹریٹجک معاون ہیں،محسن رضائی
وزارت اقتصادی امور کےمطابق سائنس و ٹیکنالوجی اور ویسٹ مینجمنٹ کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھایا جائےگا۔
