سیز فائر وینٹی لیٹر پر، ٹرمپ نے ایران کو بڑی دھمکی دےدی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اگرچہ وقتی جنگ بندی قائم ہے، لیکن حالات اب بھی مکمل طور پر قابو میں نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ دھمکیوں اور ایران پر دوبارہ حملوں کے حوالے سے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کی طلبی نے عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جبکہ ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر اس پر کسی قسم کی جارحیت مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف ایران کے ساتھ جاری سیز فائر کو “وینٹی لیٹر پر موجود” قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اگر تہران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کیں تو جنگ بندی کسی بھی لمحے ختم ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی قیادت غیر سنجیدہ، غیر مستقل مزاج اور ناقابلِ اعتماد ہے۔ ان کے مطابق ایران بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ معاہدہ اب انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کو جنگ میں شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس کی عسکری صلاحیت تقریباً ختم ہوچکی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ اپنی فوجی طاقت بحال کرنے کی کوشش کی تو امریکا ایک ہی دن میں اسے تباہ کرسکتا ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آگئے تو صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ پورا مشرق وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا، اور اس کے بعد یورپ بھی خطرے میں آسکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی بیانات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران دباؤ میں آنے والا نہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت لہجے میں کہا کہ ایران کی مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق غلط فیصلے ہمیشہ تباہ کن نتائج پیدا کرتے ہیں اور دنیا اب امریکا کی پالیسیوں کو سمجھ چکی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نسبتاً محتاط مگر معنی خیز مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے تحفظات اور ایران کے قومی مفادات کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ ایران سفارتکاری کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتا، لیکن مذاکرات عزت اور وقار کے ساتھ ہوں گے۔ پزشکیان نے مزیدکہا کہ ایران اس وقت تین راستوں کے درمیان کھڑا ہے: پہلا مکمل وقار کے ساتھ مذاکرات، دوسرا جنگ اور امن کے درمیان غیر یقینی کیفیت کو برقرار رکھنا، جبکہ تیسرا راستہ جنگ اور مذاکرات دونوں کو بیک وقت جاری رکھنا ہے۔ ان کے مطابق ایران کیلئے سب سے بہتر راستہ وہی ہے جس میں قومی مفادات محفوظ رہیں اور سفارتی کامیابی حاصل ہو۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ ثالثی صرف پاکستان کر رہا ہے۔ ان کے مطابق مختلف ممالک نے کشیدگی کم کرنے کیلئے تہران سے رابطہ کیا، لیکن عملی سفارتی کوششوں میں پاکستان مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ بیان پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ ایک بڑے بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ امریکا ایک بار پھر تجارتی جہازوں کو بحری تحفظ فراہم کرنے کیلئے عسکری آپریشن شروع کرنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کی اسٹریٹجک ترجیحات میں شامل ہے اور اس پر کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔

اسی دوران ایران اور سعودی عرب کے درمیان بھی سفارتی رابطے جاری ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی صورتحال اور امریکا ایران مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس پیش رفت کو خطے میں ممکنہ سفارتی توازن کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال صرف ایران اور امریکا کے درمیان تنازع نہیں بلکہ یہ عالمی طاقتوں، خلیجی سیاست، اسرائیل کی سلامتی، توانائی کی رسد اور عالمی معیشت سے جڑا ایک بڑا بحران بنتا جا رہا ہے۔ اگر سیز فائر ٹوٹتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آسکتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ واقعی جنگ بندی ختم کرنے جا رہے ہیں؟ کیا ایران آخری حد تک مزاحمت کرے گا؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا پاکستان اس خطرناک بحران کو سفارتکاری کے ذریعے روکنے میں کامیاب ہوسکے گا یا دنیا ایک نئی جنگ کے دہانے پر پہنچ جائے گی؟

Back to top button