جرگوں کے حکم پر غیرت مند مرد کب تک عورت کا قتل کرتے رہیں گے؟

حال ہی میں بلوچستان میں غیرت کے نام پر ایک عورت اور ایک مرد کو جرگے کے حکم پر سرعام گولیاں مار کر قتل کرنے کا اندوہناک واقعہ نہ صرف ملکی بلکہ عالمی میڈیا کی توجہ کا بھی مرکز بنا ہوا ہے جس نے پاکستان کی بدنامی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ڈیڑھ مہینے قبل پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ تب عوام کی نظروں میں آیا جب اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ ایسے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ یہ واقعہ چھ ہفتوں تک کیسے چھپا رہا؟ پولیس حکام اس سے کیوں لاعلم رہے؟

حقیقت یہ ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کا یہ پہلا واقعہ نہیں جو کہ چھپا رہا اور مین سٹریم میڈیا پر تب تک رپورٹ نہیں ہوا جب تک اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل نہیں ہوئی۔ مسئلہ یہ ہے کہ مقامی لوگ قبائلی روایات یا خوف کی وجہ سے ایسے معاملے کو چھپا دیتے ہیں، لیکن اس واقعے کے اتنا عرصہ چھپے رہنے کی وجہ علاقے میں امن عامہ کی ابتر صورتحال، جغرافیائی تنہائی اور یہاں تک عام آدمی کی عدم رسائی بھی بنی۔ اردو نیوز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق جس علاقے میں واقعہ پیش آیا وہ بظاہر تو بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ سے جڑا ہوا ہے مگر درحقیقت ’ڈیگاری‘ پہاڑوں کے پیچھے ایک ایسی دور افتادہ بستی ہے جو قانون کی عملداری اور ترقی سے محروم ہے۔ یہاں زندگی آج بھی زمانہ قدیم کی تاریکی میں ٹھہری ہوئی محسوس ہوتی ہے، اغوا یا قتل کے خدشے سے عام آدمی وہاں جانے سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

پولیس کی درج کردہ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ تھانہ ہنہ کی حدود میں سنجیدی ڈیگاری نامی علاقے میں پیش آیا جو تھانے سے تقریباً 45 کلومیٹر مشرق کی جانب واقع ہے۔ کوئٹہ شہر سے یہ علاقہ تقریباً 50 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔

یاد رہے کہ پیالہ نما وادی کوئٹہ چاروں طرف سے پہاڑوں میں گری ہوئی ہے۔ مقامی لوگ اس علاقے کو ڈیگاری بھی کہتے ہیں جہاں خاتون اور مرد کا قتل کیا گیا ہے۔ یہ علاقہ کوئٹہ کے مشرقی پہاڑوں کے اُس پار واقع ہے جو شہر سے الگ تھلگ، دشوار گزار، دیہی اور سکیورٹی کے لحاظ سے نہایت حساس شمار ہوتا ہے۔

ڈیگاری نہ صرف کوئلے کے ذخائر سے مالا مال ہے بلکہ کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہ بھی بن چکا ہے۔ یہ علاقہ سکیورٹی فورسز پر حملوں اور کان کنوں کے اغوا اور قتل کے باعث بھی بدنام ہے۔ یہاں سکیورٹی فورسز اور کوئلہ کان کنوں پر درجنوں حملے ہوچکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اسے نو گو ایریا سمجھا جاتا ہے۔ اس علاقے میں آبادی کم اور پھیلی ہوئی ہے اور قبائلی ڈھانچے کی گرفت آج بھی بہت مضبوط ہے، لہذا اکثر معاملات ریاستی نظامِ انصاف سے دور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر فیصلے جرگوں کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک فیصلہ عید الاضحی سے چند روز پہلے ایک جرگے کی جانب سے جاری کیا گیا جس کی صدارت مقامی سردار نے کی۔

کوئٹہ پولیس کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ خاتون اور مرد کے قتل کا واقعہ پولیس کے علم میں کم از کم 6 ہفتوں بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے ذریعے آیا۔ لیکن پولیس افسر نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ اسکے باوجود پولیس تب ہی اس علاقے میں گئی اور دوہرے قتل کی تحقیقات شروع کیں جب حکومت پر دباؤ پڑنا شروع ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے علاقے میں نہ جانے کی وجہ ہی علاقے کی خراب ترین سکیورٹی صورت حال تھی۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی پریس کانفرنس میں علاقے میں سکیورٹی چیلنجز درپیش ہونے کی بات کی تائید کی۔ گذشتہ برسوں میں یہاں سیکیورٹی فورسز پر ہولناک حملوں اور کوئلہ کانوں میں کئہ جان لیوا حادثات کے بعد صورتحال یہ ہے کہ صحافی بھی اس طرف جانے کا سوچتے نہیں۔ حتیٰ کہ دوہرے قتل کے اس واقعے کے بعد بھی کوئی میڈیا ٹیم علاقے میں نہیں گئی۔ پولیس کی ٹیم کو بھی درجنوں گاڑیوں، سینکڑوں اہلکاروں اور مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ ہی بھیجا گیا تھا۔

عمران کے بیٹے امریکہ سے پاکستان آنے کی بجائے واپس لندن چلے گئے

یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر اس واقعے کی ویڈیوز نہ بنائی جاتیں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ نہ کی جاتیں تو یہ بھی بہت سے دوسرے واقعات کی طرح خاموشی سے دب جاتا۔ ڈیگاری کا یہ علاقہ کوئٹہ کے دامن میں واقع ہے لیکن یہاں پر زندگی ابھی بھی انیسویں صدی میں چل رہی ہے۔ شہر کی طرف آمدورفت اور ٹرانسپورٹ کا کوئی انتظام نہیں سوائے موٹر سائیکل اور سوزوکیوں کے۔ صحت و تعلیم کا نام و نشان نہیں۔ ایسے میں اگر جرگے کے حکم پر اور غیرت کے نام پر ایک خاتون اور مرد کا قتل ہو جاتا ہے تو یوں سمجھیے کہ انیسویں صدی کے سماج کا واقعہ اکیسویں صدی میں رپورٹ ہوتا ہے۔

Back to top button