17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل میں اور کتنے لوگ  شریک تھے؟

بظاہر تو 17 سالہ ثناء یوسف پر اسلام آباد میں اس کے گھر میں گھس کر گولی تو 22 سالہ عمر حیات نے چلائی لیکن اس بہیمانہ قتل میں ہر وہ پاکستانی شریک جرم ہے جو اس گھنائونے جرم کے حق میں تاویلیں پیش کر رہا ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں معروف لکھاری بلال غوری ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بیٹیاں محض آنکھوں کا نور اور دل کا سرور ہی نہیں ہوتیں، باپ کا غرور بھی ہوتی ہیں۔ اس رشتے کی مٹھاس صرف وہی شخص محسوس کر سکتا ہے جس کے آنگن میں کسی ننھی پری بہار لائی ہو۔ لیکن ستم تو یہ ہے کہ ایک روز بابا کی پری کو خود اپنے ہاتھوں سے رُخصت کرنا پڑتا ہے۔ یہ جدائی کسی عذاب سے کم نہیں۔ اگر بیٹی کسی جاہل، اجڈ یا گنوار کے کھونٹے سے باندھ دی جائے تو مرتے دم تک اذیت مقدر ہو جاتی ہے اور انسان جیتےجی بھی مر ہی جاتا ہے۔ اب سوچیے کہ اگر کسی کی معصوم بیٹی سرخ عروسی جوڑا پہنے بغیر ہی اپنے لہو میں ڈوب کر داغ مفارقت دے جائے تو دل فگار باپ کی کیا حالت ہو گی؟ یہ سوچ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔

بلال غوری کہتے ہیں کہ پھولوں کی طرح مہکتی اور بلبل کی مانند چہکتی ثناء یوسف کی بے وقت اور افسوسناک موت پر انہی بے ربط خیالات نے پریشان کر رکھا ہے۔ زندگی کی توانائیوں سے بھرپور، شوخ اور چنچل ثنا کا قصور کیا تھا کہ اسے 17 سال کی عمر میں ہی قتل کر دیا گیا؟ دراصل اس نے کسی اجڈ گنوار کی بانہوں میں جانے کی پیشکش ٹھکرا دی تھی، اس نے دوستی کی آڑ میں ہوس کا نشانہ بننے سے انکار کر دیا تھا۔ اپنی مرضی سے زندگی جینے کی جستجو ہی اس کا جرم بن گئی۔ اس کی آنکھوں میں نجانے کتنے خواب تھے جو قبر میں دفن ہو گئے۔ ثنا یوسف میڈیکل کی تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر یعنی مسیحا بننا چاہتی تھی مگر ایک جنونی مریض کے ہاتھوں قتل ہو گئی۔

بلال غوری کہتے ہیں کہ اسلام اباد پولیس نے یقینا اس پیچیدہ اور اُلجھے ہوئے مقدمہ کی گتھی بہت جلد سلجھا لی اور قاتل کو 24 گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا۔ لیکن اس سانحے کے کئی پہلو توجہ طلب ہیں اور ان سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ پولیس حکام کے مطابق 17سالہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو گھر میں گھس کر قتل کرنے والا 22 سالہ عمر حیات المعروف کاکا فیصل آبادی کچھ عرصہ سے مسلسل میل جول بڑھانے کیلئے کوشاں تھا۔ پہلے اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی، پھر موبائل فون نمبر لیکر بات کرنے کی تگ و دو میں مصروف رہا لیکن جب بات نہ بنی تو اسلام آباد آکر ثناء کے گھر کے باہر ڈیرے ڈال لیے۔ جب کوئی طریقہ کارگر ثابت نہ ہوا تو اس کی مردانگی کو ٹھیس پہنچی اور جرات انکار پر گستاخ لڑکی کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاملہ والدین کے علم میں تھا؟ اگر بچی نے اپنے والد کو صورتحال سے آگاہ نہیں کیا تو اس المناک واقعہ میں سب بچیوں کیلئے سبق آموز بات یہ ہے کہ کوئی شخص مسلسل ہراساں کرنے کی کوشش کر رہا ہو تو بات چھپانے کے بجائے گھر کے بڑوں کو بتائی جائے تاکہ وہ اس کا حل تلاش کر سکیں یا قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی مدد لی جا سکے۔ اگر ملزم کے جنونی رویوں کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ تھانے میں ہراساں کیے جانے کی شکایت کی گئی ہوتی تو شاید یہ نوبت نہ آتی۔ ایک اور اہم پہلو لڑکوں کی تربیت کا ہے۔ میں ان بیہودہ لوگوں پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا جو اس طرح کے ہر واقعہ کے بعد ملزم کے بجائے مدعی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،متاثرہ فریق کی کردار کشی کے مرتکب ہوتے ہیں یا پھر گِدھوں کی طرح لاشوں کو بھنبھوڑنے کا شوق رکھتے ہیں۔

بلال  غوری کے مطابق میرے مخاطب درد دل رکھنے والے وہ اصحاب ہیں جن کی اپنی بیٹیاں ہیں۔ بچوں کی تربیت کے دوران لڑکوں کے دماغ میں بالخصوص یہ بات راسخ کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی لڑکی آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی، آپ سے کسی قسم کے تعلق سے انکار کرتی ہے یا پھر شادی کی پیشکش مسترد کر دیتی ہے تو اس کا مطلب آپ کی تضحیک و تذلیل یا اہانت نہیں ہے۔ جس طرح مرد کو اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق ہے اسی طرح عورت بھی ہر طرح کے فیصلے کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اور ناں کا مطلب انکار ہی سمجھا جائے جسکے بعد اصرار کی روش ہراساں کرنا کہلاتی ہے اور اس جرم کے ارتکاب پر جیل کی ہوا کھانا پڑ سکتی ہے۔ اگر والدین اپنے بیٹوں کو یہ بنیادی اخلاقیات اور معاشرتی اصول سکھانے سے قاصر ہیں تو پھر قانون کی عملداری یقینی بناتے ہوئے لاتوں کے بھوت ڈنڈے سے سیدھے کیے جائیں۔

مردوں کی یہ غلط فہمی بھی دور کرنا ضروری یے کہ اگر کوئی لڑکی ڈیجیٹل میڈیا پر ہے، فلم یا ڈرامہ انڈسٹری میں کام کر رہی ہے، روشن خیال ہے تو لامحالہ بدکردار ہوگی اور باآسانی دستیاب ہو گی۔ کسی کا مداح اور پرستار ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس پھول کو توڑ کر ہتھیلی میں مسل دیا جائے۔ تکلف برطرف، میرا ذاتی مشاہدہ تو یہ ہے کہ بظاہر لبرل دکھائی دینے والی خواتین کی نسبت مذہبی نظر آنے والی خواتین ترنوالہ ثابت ہوتی ہیں لیکن اس بحث سے قطع نظر، خاتون کسی بھی پس منظر کی ہو، اسکی ذاتی زندگی اور مشاغل خواہ کچھ بھی ہوں، اپنی حدود و قیود اس نے خود طے کرنی ہیں، آپ اپنے تاثر یا توقع کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرکے اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتے۔

بلال غوری کے مطا ق بظاہر تو ثناء یوسف پر گولی 22 سالہ ملزم عمر حیات نے چلائی لیکن اس بہیمانہ قتل میں ہر وہ شخص شریک جرم کی حیثیت سے ملوث ہے جو اس گھناؤنے جرم کے حق میں تاویلیں پیش کر رہا ہے۔ وہ لوگ جو عورت کی ہنسی کو فحاشی کا نام دیتے ہیں، غیرت کے نام پر قتل کو بہادری خیال کرتے ہیں، خود مختار اور بااعتماد عورت کو بدکردار سمجھتے ہیں، خواتین پر تشدد کو مردانگی تعبیر کرتے ہیں، لڑکیوں کو غیرت کی آگ دہکانے کیلئے جلائی جا رہی لکڑیاں تصور کرتے ہیں، قاتل کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے مقتولہ کو قصور وار قرار دیتے ہیں، میرا جسم میری مرضی کے نعرے کی مخالفت کرتے ہیں، کم عمری کی شادیوں کی حمایت کرتے ہیں، بہنوں کو جائیداد میں حصہ نہیں دیتے، عورت کو کمتر مانتے ہیں، بچیوں کی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں، بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دیتے ہیں، وہ سب ظالم، جابر اور ثنا کے قتل میں شریک جرم ہیں۔

Back to top button