مریم نواز کی حکومت نے پنجاب کو شریفوں کی جاگیر کیسے بنا ڈالا؟

پہلی مرتبہ پنجاب کی وزیر اعلی بننے والی مریم نواز کی حکومت نے صوبے کو شریف خاندان کی جاگیر بنا ڈالا ہے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین ڈان اخبار کے لیے اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خود نمائی کی بیماری میں مبتلا مریم نواز نے صوبائی خزانے کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ لیا ہے لہٰذا وہ ہر ترقیاتی منصوبے پر اپنے اور اپنے شریف باپ کے ناموں کی تختیاں لگاتی دکھائی دیتی ہیں۔

زاہد حسین کے بقول گزشتہ ہفتے ٹی وی چینلز کی ہیڈ لائینز پر ایک خبر کچھ یہ تھی کہ ’مری میں ہونے والے شریف خاندان کے اجلاس میں پنجاب میں کئی ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی منظوری دے دی گئی‘۔ یہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح ملک کے سب سے بڑے صوبے میں حکومتی معاملات عملی طور پر ایک خاندان کا ذاتی کاروبار بن چکے ہیں۔ زاہد حسین کے بقول پاکستانی سیاست میں خاندانی تسلط کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن پنجاب میں جس قسم کی خاندانی حکمرانی رائج ہے، وہ رجعت پسند طاقت کے ڈھانچے کی کہانی بیان کرتی ہے۔

بظاہر نہ صرف اہم پالیسی معاملات بارے فیصلے شریف خاندان آپسی ملاقات کے دوران ہی کرتا ہے بلکہ حکومتی سرپرستی میں سابق وزیراعظم اور شریف خاندان کے سربراہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کسی فرقے کے لیڈر جیسا درجہ حاصل کر چکے ہیں جس کی ہر بات حرف آخر ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ صوبے میں زیادہ تر بڑے سرکاری ترقیاتی منصوبے دونوں میں سے کسی ایک کے نام پر ہیں۔ حکومت کے زیر انتظام چلنے والے کچھ پرانے پروجیکٹس کا نام بھی وزیر اعلیٰ اور انکے ابا حضور کے نام پر ہی رکھے جا رہے ہیں حالانکہ دونوں ابھی حیات ہیں۔ روایت یہ ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ کارڈ کی طرح بڑے منصوبوں کے نام ان قومی رہنماؤں سے منسوخ کیے جاتے ہیں جو ملک و قوم کی خاطر جدوجہد کرتے ہوئے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرتے ہیں۔

زاہد حسین کہتے ہیں کہ خود نمائی پر یقین رکھنے والی وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی صوبائی حکومت مختلف شعبوں میں اپنی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بڑے پیمانے پر اشتہاری مہم چلا رہی ہے جس میں مریم نواز کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں کی جاتی ہیں، چاہے وہ کوڑے کا کنٹینر ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح دیگر کئ پراجیکٹس کے اشتہارات میں مریم کے ابا حضور میاں نواز شریف کی تصاویر لگی نظر آتی ہیں۔ یہ اشتہاری مہم یقینا عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھے کیے جانے والے سرکاری خزانے سے چلائی جارہی ہے۔ حال ہی میں صوبے میں آویزاں پوسٹرز میں وزیر اعلیٰ کو ’مادرِ ملت‘ یعنی قوم کی ماں کہا گیا حالانکہ یہ خطاب بانی پاکستان محمد علی جناح کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کا کو دیا گیا تھا۔ لہذا اپ موجودہ حکمرانوں کی ذہنی حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

زاہد حسین کہتے ہیں کہ اگرچہ پاکستان میں موروثی سیاست عام ہے لیکن پاکستانی قوم نے شاذ و نادر ہی اتنے بڑے پیمانے پر خود نمائی کی منظم مہم چلتی دیکھی ہو گی۔ اس طرح کی بھونڈی اشتہاری مہمات صرف ایسی آمرانہ طرزِ حکمرانی میں ہی دیکھنے کو ملتی ہیں جس کی قانونی حیثیت مبہم ہو۔ اپنی جائز قانونی حیثیت اور مقبولیت کو ریاستی سرپرستی میں چلنے والی تشہیری اقدامات کے بَل پر نہیں جیتا جا سکتا۔ اس قسم کی ذاتی تشہیری مہم خود نمائی اورنخود پرستی کا آخری درجہ ظاہر کرتی ہے جس کے واضح سیاسی مقاصد ہیں۔ درحقیقت حکومت کے زیرِ اہتمام اشتہارات میں ذاتی تصاویر لگانا اور ایسے پروجیکٹس کو کسی حکومتی سربراہ کا نام دینا جن میں ریاستی فنڈز استعمال ہوتے ہیں، بہت سے ممالک میں غیرقانونی سمجھا جاتا ہے۔

ظاہر حسین بتاتے ہیں کہ 2022 میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’ریاست کے تنخواہ دار ملازمین، آئینی عہدے داروں اور حکومت میں سیاست دانوں کو اپنے عہدوں کو ذاتی، متعصبانہ یا مالی مفاد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے‘۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان کسی کی سلطنت یا جاگیر نہیں ہے جہاں عوام اپنے حکمرانوں کے آگے جھک جائیں‘۔ لیکن زاہد حسین کے بقول آج یہی

گمان ہوتا ہے کہ پاکستان واقعی ایک خاندان کی ذاتی جاگیر میں تبدیل ہوچکا ہے جہاں اصولوں اور اخلاقی اقدار کا کوئی احترام نہیں۔

ایسے میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر ہونا ممکن تھا؟ پذیرائی کی یہ مہم صرف عوامی قائدین تک محدود نہیں ہے بلکہ ملٹری قیادت بھی اس میں پیش پیش ہے۔ سویلین اور فوجی قیادت کے لیے اپنا تشخص بہتر بنانے کی کوششیں طاقت کے ہائبرڈ ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے ٹھوس منصوبے کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ یہ واضح ہے کہ پردے کے پیچھے حقیقی طاقت کس کے پاس ہے۔ شریف خاندان کو ثانوی کردار دیا گیا ہے اور وہ فرمانبرداری سے یہ کردار ادا کر رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ شریف فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ہی اقتدار میں واپس آئے ہیں۔

عمران نے تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی ناکامی کا اعتراف کر لیا

 

لیکن زاہد حسین کا کہنا ہے کہ شریف خاندان سے تعلق رکھنے والے شہباز شریف اور مریم نواز کو پتا ہونا چاہیے کہ اقتدار کی سیاست کتنی خطرناک اور غیرمستحکم ہوسکتی ہے۔ وہ ماضی میں بھی کئی بار پاکستانی سیاست کے تیزی سے بدلتے منظرنامے میں اپنا اقتدار کھو چکے ہیں۔ اس کے باوجود اقتدار کی کشش اتنی مضبوط ہے کہ وہ اپنی ہی مثال بھُلا بیٹھے ہیں۔ وہ جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوششوں میں اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ ان کی اقتدار میں واپسی انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کا نتیجہ ہے جوکہ عوامی مینڈیٹ سے محروم حکومت کی کمزوری کو بھی وضاحت کرتا ہے۔

یاد رہے کہ تین بار برسرِ اقتدار آنے والے نواز شریف کو 2017 میں سپریم کورٹ نے برطرف کردیا تھا اور ایک اور متنازع فیصلے کے ذریعے عوامی عہدہ سنبھالنے کے لیے تاحیات نااہل قرار دے دیا تھا۔ انہیں اپنی بیٹی اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ کرپشن کے متعدد الزامات میں سزا سنائی گئی۔ اقتدار سے بےدخلی کے بعد وہ اور ان کی جماعت نے ’ووٹ کو عزت دو‘ جیسے نعروں سے عوام کو اپنی حمایت میں متحرک کرنے کی کوششیں کیں۔ لیکن ڈیل ہونے کے بعد تمام جمہوریت نواز اور دوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیان بازیوں کا سلسلہ تھم گیا۔ اپنی برطرفی کے بعد 4 سالوں سے بھی کم عرصے میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر اقتدار میں آگئی۔ عمران خان کو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ہٹائے جانے کے بعد بنائے گے نئے نظام میں اب نواز شریف کی بجائے انکے چھوٹے بھائی شہباز شریف وزیر اعظم جبکہ مریم نواز وزیراعلی بن چکی ہیں۔

 

زاہد حسین کہتے ہیں کہ شریف خاندان کے وہ افراد جنہیں ماضی میں سزائیں ہوئی تھیں اب حکمران بن چکے ہیں اور طاقت کے ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ نواز شریف نے پس منظر میں رہنے اور پارٹی قیادت سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنی بیٹی کے پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بننے پر خوش دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر بڑے میاں صاحب 2024 کے دھاندلی زدہ الیکشن میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ووٹ کو عزت دلوا چکے ہیں اس لیے اب وہ سکون سے بیٹھے نظر آتے ہیں۔

Back to top button