افغان طالبان کا 4 سالہ اقتدار پاکستان کا کتنا نقصان کر چکا؟

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ طالبان کے چار سالہ اقتدار نے افغانستان کو خطرناک دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بنا دیا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں جن دہشت گرد تنظیموں نے اپنے قدم جما لیے ہیں ان میں تحریک طالبان، داعش خراسان، القاعدہ، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ان دہشت گرد تنظیموں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نائن الیون جیسے ایک اور سانحے کو جنم دے سکتی ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے بیان کردہ خدشات کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تحریکِ طالبان اس وقت پاکستان اور بالخصوص اسکے قبائلی علاقوں میں ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔ اگرچہ یہ تنظیم 2007 میں اپنے قیام کے بعد ہی ریاستِ پاکستان کے لیے چیلنج رہی ہے، تاہم اگست 2021 میں امریکی فوجوں کے انخلا کے طالبان کے افغانستان میں دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد سے اسکی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، کابل میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سرحدی نگرانی اور دوطرفہ تعلقات میں بہتری آنے کی بجائے دہشت گردی میں ملوث تنظیموں کو حوصلہ ملا، اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں 70 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ اس صورت حال کو بلوچستان میں بدامنی نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں بلوچ لبریشن آرمی جیسی دہشت گرد تنظیموں کو افغان حکومت نہ صرف فنڈنگ دے رہی ہے بلکہ اسکے دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور ٹھکانے بھی فراہم کر رہی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود افغان طالبان حکومت اپنی پشت پناہی تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور کوے کو سفید قرار دے رہی ہے۔ قطر اور ترکی میں افغانستان اور پاکستان کے مابین دہشت گردی کے مسئلے پر مذاکرات کے باوجود اب تک افغان طالبان حکومت کا رویہ مبہم رہا ہے۔ وہ ایک جانب سرِعام ٹی ٹی پی کی موجودگی سے انکار کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب نجی سطح پر اس کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان سے مالی معاونت طلب کرتے ہے تاکہ ان شرپسند عناصر کو افغانستان کے ادر دھکیلا جا سکے۔ بین الاقوامی مبصرین اور اقوامِ متحدہ کے تخمینوں کے مطابق، افغان طالبان ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو ’مہمان‘ قرار دے کر پشتون ولی نامی ضابطۂ اخلاق کے تحت انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔ اندازوں کے مطابق افغانستان میں 6 ہزار ٹی ٹی پی جنگجو اور ان کے تقریباً 56 ہزار اہلِ خانہ مقیم ہیں۔ یہ حقیقت بھی خفیہ نہیں کہ بھارت بالواسطہ افغان ذرائع کے ذریعے ٹی ٹی پی کو مالی معاونت فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ بلوچستان میں سرگرم بی ایل اے کو بھی بھارت سے براہِ راست رقوم مل رہی ہیں۔
کیا صرف فوجی کاروائیوں سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اور افغان طالبان کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات نہ صرف طالبان حکومت کے لیے وسائل تک رسائی آسان بنا سکتے ہیں بلکہ پاکستان کے خلاف شدت پسند گروہوں کو سرگرم رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس تناظر میں بھارت کو فائدہ اسی صورت میں ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کو اس کی مغربی سرحد پر الجھائے رکھے۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے تسلسل کے پیچھے کئی باہم جڑے عوامل کارفرما ہیں۔ سابق قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی کا مضبوط نیٹ ورک، افرادی قوت اور رابطہ کاری کے نظام کے ساتھ موجود ہے۔ یہ نیٹ ورک بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، منشیات فروشی اور سمگلنگ میں ملوث ہے ۔ دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام امن و استحکام لانے میں ناکام رہا ہے۔ 2018 میں دس سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم 2024 تک صرف 70 ارب روپے خرچ ہو سکے، جس سے فاٹا کے علاقوں میں غربت اور محرومی برقرار رہی ہے۔ یہ صورت حال ٹی ٹی پی کے لیے نوجوانوں کی بھرتی کا باعث بھی بن رہی ہے۔
