امریکی پابندیوں سے پاکستان کا میزائل پروگرام کتنا متاثر ہوگا ؟

امریکہ کی جانب سے ایک سال کے اندر دوسری بار چینی تحقیقی اداوں اور کمپنیوں پر پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے سازو سامان کی فراہمی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد کرنے کے بعد سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا امریکی پابندیوں کے بعد پاکستان کا میزائل پروگرام بند ہونے والا ہے؟
مبصرین کے مطابق جہاں ایک طرف اسلام آباد اور بیجنگ نے امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے بلا جواز قرار دیا ہے وہیں پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگراموں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے مطابق امریکی پابندیوں سے پاکستان کے میزائل پروگرام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پاکستان میزائل ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہے اسے اس حوالے سے کسی بھی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے مطابق حال ہی میں نافذ کی گئی امریکی پابندیاں ناقابل فہم لگتی ہیں اور موجودہ وقت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
9 مئی کے حملوں میں ملوث 3700 مفروروں کی گرفتاری کا فیصلہ
دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں ملوث افراد کو امریکی مالی نظام استعمال کرنے سے روکیں گی۔ دوسرا یہ کہ واشنگٹن اپنی پالیسی کے تحت اسلحے کے عدم پھیلاؤ کی پالیسی پر عمل درآمد کرے گا۔جہاں تک پاکستان کی میزائل بنانے کی صلاحیت کا تعلق ہے، ڈاکٹر ثمر مبارک مند کہتے ہیں کہ پاکستان نے یہ صلاحیت کئی سالوں قبل حاصل کر لی تھی۔”حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعہ اپنے میزائل کے مار کرنے کی رینج بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم پاکستان نے بغیر کسی دباؤ کےخود ہی ر ینج کو بڑھانے سے گریز کیا ہے۔”
شاہین اور بابر میزائلوں کو بنانے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر مبارک مندنے اس بات پر زور دیا کہ میزائل ٹیکنالوجی کا پروگرام پاکستان کو خطے میں در پیش خطرات کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ "اس لیے میں یہ نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیسے امریکہ کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔”ان کے مطابق پاکستان کے پاس اپنے اثاثوں کی حفاظت کا "جدید ترین کمانڈ اور کنٹرول نظام” ہے اور گزشتہ دہائیوں میں دہشت گردی کے بڑے چیلنجز کے دوران بھی پاکستان نے اپنے اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔
دوسری طرف بعض امریکی ماہرین کے مطابق پاکستان ان پابندیوں پر کوئی خاص توجہ نہیں دے گا کیونکہ امریکہ کی جانب سے یہ پابندیاں چین کے مخصوص اداروں اور کمپنیوں کے خلاف عائد کی گئی ہیں۔ان کے مطابق امریکہ کی طرف سے چینی کمپنیوں پر عائد کردہ پابندیوں سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر بھی کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا جو کہ اس وقت نہ تو بہت اچھے ہیں اور نہ ہی وہ تنزلی کا شکار ہیں۔”
تاہم پاکستان نے اس حوالے سے اپنے رد عمل میں امریکی کارروائی کو "جانبدارانہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد "سمجھتا ہے کہ امریکی پابندیوں کا محرک سیاسی ہے”۔
اسلام آباد میں محکمہ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے اس سلسلے میں سوالوں کے جواب میں جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ بات بڑے پیمانے پر معلوم ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایٹمی عدم پھیلاؤ پر کار بند ہونے کا کہتے ہوئے کچھ من پسند ملکوں کو جدید عسکری ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے استثنی دیا جاتا ہے۔ ایسے "دوہرے معیار اور امتیازی” اقدامات عدم پھیلاؤ کے نظام پر عدم اعتماد کا باعث بنتے ہیں، عسکری قوت میں فرق بڑھاتے ہیں اور "بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ” ہیں۔
تاہم امریکی ماہرین نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ امریکہ کے پابندیوں کے اقدام کے پیچھے پاکستان کو کسی مسئلے پر دباو میں لانے جیسا کوئی سیاسی محرک ہو سکتا ہے۔”یہ اقدام کسی کے لیے بھی حیران کن نہیں ہونا چاہیے کیونکہ امریکہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے خلاف اس طرح کے اقدامات ماضی میں بھی کرتا رہا ہے۔”
