امریکی صدر ٹرمپ ایران سے سیز فائر پر کیسے مجبور ہوئے

ایران نے طاقت کے نشے میں مخمور ہو کر خود پر حملہ ہونے والے امریکہ کو پانچ ہفتوں کی جنگ میں عبرتناک شکست سے دوچار کرتے ہوئے سیز فائر پر مجبور کر دیا جس کے بعد صدر ٹرمپ نے مذاکرات کی پاکستانی تجویز قبول کرنے میں ہی عافیت جانی۔

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے جنگ اخبار کے لیے سیاسی تجزیئےمیں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم دنیا صدیوں کی ذلت اور غلامی کے بعد ایک غیر معمولی نفسیاتی اور سیاسی تبدیلی کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ انکے مطابق جنگ بندی کے بعد پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک میں خوشی کا غیر معمولی ماحول دیکھنے میں آیا، جہاں عوام ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے دکھائی دیئے، گویا پوری قوم کسی بڑی فتح سے سرشار ہوئی ہو۔  انہوں نے کہا کہ ایران کی اس کامیابی نے نہ صرف مسلم دنیا میں یکجہتی کو فروغ دیا ہے بلکہ فرقہ وارانہ تقسیم کو بھی وقتی طور پر پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ ان کے مطابق اس جنگ کے بعد ایران خطے میں ایک بڑی مسلم طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

حفیظ اللہ خان نیازی نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار ہے جس کے نتیجے میں اب وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے بھاری محصولات وصول کیے جائیں گے، اس سے ایران کو سالانہ اربوں ڈالر کی آمدنی متوقع ہے جس سے وہ اپنے جنگی نقصان کا ازالہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ قطر اور عمان نے امریکی افواج کو اپنے اڈے ختم کرتے ہوئے اسکے علاقوں سے نکلنے کا عندیہ  دے دیا ہے جبکہ امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ بھی خلیج فارس سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیاہے۔

حفیظ اللہ خان نیازی کے مطابق جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ہزاروں حملے ایران کو وہ نقصان نہ پہنچا سکے جس کے نتیجے میں حکومت تبدیل ہو جاتی، دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیلی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا اور امریکہ کہ حمایتی خلیجی ممالک کو بھی ناکوں چنے چبوا دیئے۔ انہوں نے ایرانی میزائل سسٹمز اور اس کی عسکری حکمت عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران خلیجی ریاستوں میں زیادہ نقصان بھی کر سکتا تھا لیکن اس نے دانستہ طور پر جنگ کو محدود رکھا تاکہ یہ وسیع علاقائی تنازع میں تبدیل نہ ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ عارضی جنگ بندی کے قیام میں چین اور روس کا کردار انتہائی اہم رہا، جنہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے خلاف نیوکلئیر حملے سے باز رہنے کی وارننگ دی۔ ان کے مطابق عالمی طاقتوں کی مداخلت نے خطے کو بڑی تباہی سے بچایا اور مذاکرات کی راہ ہموار کی۔

نیازی نے کہا کہ پاکستانی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اب ایران اور امریکہ کے مابین اسلام اباد میں مذاکرات شروع ہو چکے ہیں جن کا کریڈٹ جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کو جاتا ہے۔ انہوں نے جنگ کے اسباب اور نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کی کامیابی کی بنیادی وجہ اس کی طویل المدتی عسکری حکمت عملی اور غیر متناسب جنگی تیاری تھی۔ ان کے مطابق ایران نے سٹرٹیجک، آپریشنل اور ٹیکٹیکل سطح پر جنگ کی مکمل تیاری کر رکھی تھی، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کا انحصار زیادہ تر تکنیکی برتری اور بیرونی حمایت پر تھا۔ ویسے بھی امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کے بارے میں غلط اندازہ لگایا۔

حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرکے دنیا کو تیل کی سپلائی روکتی تھی، جس سے امریکہ پر شدید دباؤ آیا اور وہ مذاکرات پر مجبور ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ امریکی قیادت کی جانب سے سخت بیانات اور دھمکیوں کے باوجود ایرانی عوام نے غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا اور اپنی اہم ترین تنصیبات کے گرد انسانی زنجیریں بنا کر ممکنہ حملوں کا مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

ایسے میں اگر جنگ زمینی مرحلے میں داخل ہو جاتی تو ایران کو عددی برتری حاصل تھی، کیونکہ اس کے پاس لاکھوں کی تعداد میں تربیت یافتہ فوج اور رضاکار موجود تھے، جبکہ امریکہ کے پاس خطے میں صرف 70 ہزار فوجی نفری موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں ایران اور امریکہ کے مابین ہونے والی جنگ کیس سٹڈی کے طور پر پڑھی جائے گی کیونکہ ایران نامی ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست نے سپر پاور ہونے کا دعوی کرنے والے امریکہ کو ناکوں چنے چبوا دیئے، نیازی کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن پر بھی مرتب ہوں گے۔

Back to top button