آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے ابہام کیسے ختم کیا گیا؟

 

 

 

پاکستانیوں کی خوش نصیبی ہے کہ ملک کے تمام سیاسی اور غیر سیاسی مسائل 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم سے یکسر حل ہو گئے ہیں۔ آرمی چیف کی تقرری کا مسئلہ حکومتوں کے لیے ایک دردِ سر رہتا تھا لیکن وہ مسئلہ اب اس طریقے سے حل کر لیا گیا ہے کہ اگلے دس سال کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ 2025ء ختم ہونے کو ہے اور اگلے پانچ سال کسی نئے تقرر نامے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ 2030 سے آگے کا راستہ قانونی اور آئینی طریقے سے ہموار ہو چکا ہے۔ آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی ابہام رکھا ہی نہیں گیا۔ 1973 کے آئین میں واضح طور پر سب کچھ درج کر دیا گیا ہے، حتیٰ کہ ہر ممکنہ اندیشے کی گنجائش ختم کر دی گئی ہے۔

 

تحریک انصاف کے لیے ہمدردیاں رکھنے والے معروف لکھاری اور تجزیہ کار کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 73ء کے آئین کو بیچارا ہی کہنا چاہیے‘ اسکے لیے کوئی اور تشریح فِٹ نہیں ہوتی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کوششوں سے بنائے گئے پاکستان کے متفقہ آئین کے ساتھ تو وہ ہوا ہے جو بھٹو کے فرشتوں نے بھی کبھی نہ سوچا ہوگا۔ آئین کیساتھ کھلواڑ تو شروع دن سے ہونے لگا تھا۔ مردِ مومن مرد حق ضیالحق نے بھٹو کا تختہ الٹنے کے بعد آئین کا بستر ہی گول کر دیا۔ غیر جماعتی انتخابات کے بعد آئین کا کتابچہ کھولا بھی تو اتنی ترمیمات کے ساتھ کہ اُس کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔

 

کچھ نہ کچھ پھر بھی بچا ہوا تھا لیکن یہ جو مبارک سال اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے اس میں جو کسر بچی تھی وہ پوری کر دی گئی ہے۔ ایاز امیر کہتے ہیں کہ کوئی پھر بھی بچے ہوئے کتابچے کو 73ء کا آئین کہے تو اُس کی مرضی۔ اسے اب 2025 کا انمول تحفہ سمجھنا چاہیے۔ نئی ترامیم کے ذریعے عسکری تقرریوں کی راہ بالکل صاف ستھری کر دی گئی ہے۔ عدلیہ کے ساتھ بھی وہ کچھ ہوا ہے جو کبھی بھولا نہ جائے گا۔ مسئلہ اب یہ نہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے اختیارات گِنے جائیں بلکہ یہ دیکھا جائے کہ اعلیٰ عدلیہ کے پاس رہ کیا گیا ہے۔ پہلے ادوار میں زبردستی کے حکمران نئے حلف کا شوشہ کھڑا کر کے مرضی کے جج صاحبان کا چناؤ کر لیا کرتے تھے۔ اب کی بار یہ انقلابی قدم لیا گیا ہے کہ مرضی کے جج صاحبان کا تردد نہیں کیا گیا بلکہ نفاست کے تمام طریقے ایک طرف رکھ کر صاف بلڈوزر چلایا گیا ہے۔

 

ایاز امیر کہتے ہیں کہ کسی جج صاحب کو کرسی سے ہٹایا نہیں گیا۔ سب ججز اپنی کرسیوں پر براجمان ہیں لیکن جو مزاجِ یار میں تھا وہ نہایت خوش اسلوبی سے پورا ہو گیا ہے۔ چوں چراں کے تمام زاویے ختم کر دیے گئے ہیں اور لطف کی بات یہ کہ وکلا برادری کی بھاری تعداد نے عدلیہ مکاؤ مہم میں معاون کا کردار ادا کیا ہے۔ قانون دان ہمیشہ ہی سمجھدار ہوتے ہیں لیکن مملکتِ خداداد پر جو یہ رُت آن پڑی ہے اس میں کچھ زیادہ ہی سمجھدار ہو گئے ہیں۔ وہ دن گے جب سڑکوں پر قانون کی حکمرانی کے نعرے لگا کرتے تھے۔ اب دوست احباب اونچی کرسیوں اور مراعات پر نظریں رکھتے ہیں۔ اسے ایک مثبت تبدیلی ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ مملکت کا سارا مزاج ایسا بن گیا ہے کہ ہر ایک اپنے فائدے کی سوچتا ہے۔

 

الیکشنز کا طریقہ کار بھی اس طرح وضع کر دیا گیا ہے کہ انتخابی عمل سے ساری ٹینشن ختم ہو گئی ہے۔ سوویت یونین کے عظیم رہنما جوزف سٹالن نے انتخابی عمل کے بارے میں کہا تھا کہ اہمیت ووٹوں کی نہیں‘ بلکہ ووٹ گننے والوں کی ہوتی ہے۔ وہی سنہری اصول اب یہاں کا الیکشن اصول بن چکا ہے۔ یہ اصول پہلے ہم نے 2018 کے الیکشن میں دیکھا اور پھر 2024 کے انتخابات میں اسے دہرایا گیا۔ اب یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس عہدِ استحکام میں الیکشن ایسے ہی صاف ستھری انداز میں ہوا کریں گے۔ جو سرکاری اتحاد کا نمائندہ ہو گا اُسی کا پلڑا بھاری رہے گا کیونکہ اہمیت ووٹ کی بجائے ووٹ گننے والوں کی ہو گی۔ اس قباحت سے بھی جان چھڑائی جا چکی ہے کہ ووٹ گننے کے وقت امیدواروں کے الیکشن ایجنٹ موجود ہوں۔ لہذا اب الیکشن میں گند پڑنے کا امکان ختم ہو گیا ہے۔

 

ایاز امیر کہتے ہیں کہ اب تو پاکستان میں جلسے جلوس بھی ختم ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی جو جلسے کر بیٹھی عہدِ استحکام کے شاید آخری جلسے تھے۔ ہاں‘ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی جلسے کراتی پھرے لیکن اُن کا اسلام آباد یا پنجاب پر کیا اثر پڑے گا۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں نو منتخب ممبران کے سامنے میاں نواز شریف کا خطاب سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ میں نے انکی تقریر سنی اور مجھے مولا کی شان کا اعتراف کرنا پڑا ۔ ممبران کی بھی داد بنتی ہے کہ سر ایسے ہلا رہے تھے جیسے کوہِ طور کے سامنے بیٹھے ہوں۔ زیادہ کچھ کہنا جچتا نہیں کیونکہ اس کنویں کا پانی ہم بھی پی چکے ہیں۔ مگر اتنا یاد ہے کہ پارلیمانی پارٹی کی میٹنگز جب ہوتی تھیں تو اُن میں خوشامد کے ایسے پہاڑ کھڑے کئے جاتے کہ ہمالیہ کے پہاڑ سنیں تو شرما جائیں۔ ایک جملہ بار بار دہرایا جاتا کہ قائدِ محترم پاکستان کے کروڑوں عوام آپ کے منتظر ہیں۔ کئی ممبران مکھن لگانے کے واقعی چیمپئن تھے اور میاں صاحب کا یہ کمال کہ ہر اجلاس میں انہی چنے ہوئے ممبران کو پہلے بولنے کی دعوت دیتے۔

 

خیر دورِ استحکام میں سیاست کے چیپٹر کو اب کلوز سمجھنا چاہیے۔ ٹی وی چینلز بہت حد تک ناپسندیدہ چہروں سے صاف ہو چکے ہیں۔ اخبارات کی حالت ویسے ہی پتلی ہے اور سوشل میڈیا کے دور میں ویسے بھی اخبارات کو کون پڑھتا ہے۔ سوشل میڈیا کی البتہ یہ قباحت ہے کہ اس میں بہت کچھ من گھڑت بھی ہوتا ہے اور یار لوگ خاصے مبالغے سے کام لیتے ہیں۔ یوٹیوب پر جہاں بہت شاندار باتیں ہیں وہاں ڈالرز کی جستجو میں پاکستانی صحافت کا ستیاناس ہو گیا ہے۔ ہر کوئی یوٹیوبر بنا ہوا ہے۔ جب آپ نے روز ایک وی لاگ کرنا ہے اور بات کرنے کے لیے کچھ نہ ہو تو کچی خبروں کو طول دینا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے وی لاگ بے معنی لگتے ہیں۔ بات کو بتنگڑ بنانے کی کوشش ہو رہی ہوتی ہے۔

فیض حمید نے نواز شریف کی رہائی کا راستہ کیسے ہموار کیا تھا ؟

ایاز امیر مریم نواز کی حکومت کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پنجاب میں ایک نہ ختم ہونے والی اشتہاری مہم کی داد دینا پڑتی ہے۔ گمان ہوتا ہے کہ پنجاب میں کوئی انقلاب آ چکا ہے اور ترقی کی منزلیں کسی انہونی رفتار سے طے ہو رہی ہیں۔ صحافت کی یہ حالت کہ جو تعلیم اور صحت کے نظام آؤٹ سورس ہو رہے ہیں‘ اس موضوع پر کوئی ایک مضمون نظروں سے نہیں گزرا۔ ہر طرف چپ لگی ہوئی ہے۔ اگلے روز معلوم ہوا کہ آؤٹ سورس پالیسی کے تحت ہمارے قریب کے گاؤں پیروال کے بچیوں کا سکول ایک مقامی دکاندار نے لے لیا ہے۔ انقلاب کے تناظر میں اسے بھی ایک انقلابی قدم سمجھنا چاہیے۔ اب وطنِ عزیز میں یہ جانکاری بھی ہو گئی کہ رونے روانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مذمتی بیانات دیتے رہیں۔ اڈیالہ جیل کے سامنے کوئی چھوٹا موٹا دھرنا ہونے سے بھی فرق نہیں پڑتا۔ ہم یہ بات سمجھ چکے خیبر پختونخوا کے سی ایم کو پتا نہیں کب یہ بات سمجھ آئے گی۔ بس یہ ٹی ٹی پی اور بلوچستان والا مسئلہ ہے۔ اس کا فی الحال تو حل یہ نکالا گیا ہے کہ ان دونوں مسئلوں کو ہندوستان کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔ حملے البتہ رک نہیں رہے۔ کہیں نہ کہیں ضرور اس پر کچھ سوچ بچار ہو رہی ہو گی۔

Back to top button