خیبر پختون خواہ میں گورنر راج لگا کر حکومت تبدیل کرنے کا امکان

 

 

 

خیبر پختونخوا میں مسلسل بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو کاؤنٹر کرنے کی بجائے وزیر اعلی سہیل آفریدی کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان سے ملاقات کے لیے دھرنا دینے کے اعلان کے بعد طاقتور فیصلہ سازوں نے صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے پر باضابطہ غور شروع کر دیا ہے۔

 

اسلام آباد میں باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاق میں یہ تاثر تقویت پکڑ گیا ہے کہ صوبائی حکومت نہ صرف انتظامی طور پر ناکام ہو چکی ہے بلکہ امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے سبب بھی صوبائی معاملات کو اب مرکز کے ذریعے سنبھالنے کی ضرورت پیدا ہو گئی ہے۔ اسی پس منظر میں وفاقی حکومت نے گورنر راج کے نفاذ پر ابتدائی مشاورت تیز کر دی ہے۔ حکومتی حلقوں میں یہ رائے مضبوط ہو رہی ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نہ صرف دہشت گردی کی بڑھتی وارداتوں پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے بلکہ وفاقی اداروں کے ساتھ رابطہ کاری بھی مؤثر انداز میں نہیں کر رہی۔

 

اطلاعات کے مطابق گورنر راج کی صورت میں فیصل کریم کنڈی کو ان کے عہدے پر برقرار رکھنے کی تجویز ہے، تاہم اگر اصل فیصلہ سازوں کا اس پر اتفاق نہ ہو سکا تو پھر کسی سابق جرنیل یا سابق وزیراعلی کو گورنر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گورنر راج صرف دو ماہ کے لیے نافذ کیا جائے گا جس کے دوران خیبر پختون خواہ میں سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے وزیراعلی اور حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی جائے گی۔ جیسے ہی مطلوبہ نتائج حاصل ہو جائیں گے، گورنر راج کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ تاہم اگر صوبے میں تحریک طالبان کی دہشت گردی کاؤنٹر کرنے کے لیے کسی فوجی آپریشن کا آغاز ہو گیا تو پھر گورنر راج کی معیاد میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

 

اسلام آباد میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تو فیصل کریم کنڈی کو ہٹا کر کسی سینیئر سیاستدان کو گورنر بنایا جاتا ہے تو سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی، سابق وزیر اعلی پرویز خٹک اور سابق وزیر اعلی آفتاب احمد شیرپاؤ کے ناموں پر غور ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر سیاسی گورنر کے حوالے سے اتفاق رائے ممکن نہ ہوا تو پھر اس منصب کے لیے تین سابق فوجی جرنیلوں کے نام بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔ ان میں سابق کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور محمود اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان کے نام شامل ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کا خیال ہے کہ دہشت گردی کی موجودہ لہر سے نمٹنے اور ممکنہ آپریشنز کو مربوط انداز میں آگے بڑھانے کے لیے فوجی پس منظر رکھنے والا گورنر زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

 

ادھر پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان خبروں سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ نہ انہیں گورنر کی تبدیلی کے بارے میں کچھ بتایا گیا ہے اور نہ ہی گورنر راج کے حوالے سے کوئی مشاورت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت صوبے کے حالات احتجاج کی اجازت نہیں دیتے اور ان کے علم کے مطابق ابھی تک گورنر راج کا معاملہ زیر غور ہی نہیں آیا۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل نے جیو ٹی وی پر بتایا کہ صوبے میں دہشت گردی، بدامنی اور انتظامی ناکامی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ گورنر راج کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وفاق سے تعاون نہیں کرتی اور جہاں دہشت گردوں کے خلاف کسی کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے وہاں صوبائی مشینری مفلوج دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق دو ماہ کے لیے گورنر راج لگایا جا سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس میں توسیع بھی ممکن ہے۔ بیرسٹر عقیل نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی خود منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں، اور اس حوالے سے ثبوت بھی اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔

 

اسی دوران وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، اسکی کارکردگی صفر ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نہ صرف اپنے علاقے میں پوست کی کاشت کر رہے ہیں بلکہ ان پر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کا سنگین الزام بھی سامنے آیا ہے۔ عطا تارڑ کے مطابق صوبے میں گورنرز کی بنیادی ذمہ داری امن و امان بہتر بنانا اور عوامی مسائل حل کرنا ہوتی ہے، مگر 13 برس سے خیبر پختون خواہ میں اقتدار کے مزے لوٹنے والی تحریک انصاف کی حکومت ان ذمہ داریوں کو یکسر فراموش کر بیٹھی ہے۔

 

اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو عہدے سے ہٹا کر اپنے بالکے سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ تو بنوا دیا لیکن اسکے بعد سے صوبے کے حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں اور دہشت گردی کے واقعات دوگنا ہو گئے ہیں۔ تاہم بجائے کہ دہشت گردی کے ناسور کو کاؤنٹر پر توجہ دی جائے، وزیراعلیٰ پشاور چھوڑ کر راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے دینے میں مصروف ہیں۔  وفاقی سطح پر یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ وزیراعلیٰ کی مسلسل غیر موجودگی کے باعث صوبہ ’’یتیم‘‘ ہو گیا ہے، اور وہاں معاملات سنبھالنے والا کوئی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت اس صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے گورنر راج نافذ کرنے کے آپشن کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔

اے این پی کو گورنر راج کے معاملے سے دور رکھا جائے : ایمل ولی خان

اگرچہ وزیراعظم آفس باضابطہ طور پر کہہ چکا ہے کہ ابھی اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم سیاسی اور عسکری سطح پر جاری مشاورت اور بڑھتی ہوئی سنگین صورتحال اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ آنے والے چند روز کے اندر خیبر پختونخوا کے حوالے سے کوئی بڑا قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں گورنر راج کے امکانات پہلے سے کہیں زیاد بڑھ چکے ہیں اور یہ امکان موجود ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ اچانک سامنے آ جائے۔

Back to top button