اسلام آباد کا ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سکینڈل،اصل ایشو کیا ہے؟

اسلام آباد کے حساس ترین علاقے شاہراہ دستور پر واقع “ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو” ٹاور ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا ہے، مگر اس بار وجہ اس کی شان و شوکت نہیں بلکہ ایک سنگین قانونی اور مالیاتی تنازع ہے جس نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف پراپرٹی سیکٹر بلکہ حکومتی اداروں، عدلیہ اور عام خریداروں کیلئے بھی ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔

یہ کہانی 2005 میں شروع ہوتی ہے جب ساڑھے 13 ایکڑ کا قیمتی پلاٹ تقریباً 4 ارب 88 کروڑ روپے میں ایک نجی گروپ کو فائیو اسٹار ہوٹل اور سروس اپارٹمنٹس کی تعمیر کیلئے الاٹ کیا گیا۔ معاہدے کے مطابق اس پلاٹ پر ہوٹل تعمیر ہونا تھا، تاہم الاٹی نے اس شرط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی اپارٹمنٹس تعمیر کر کے انہیں فروخت کر دیا۔ یوں منصوبہ اپنی اصل نوعیت سے ہٹ کر ایک کمرشل ہاؤسنگ پروجیکٹ میں تبدیل ہو گیا۔

کمپنی نے تقریباً 240 اپارٹمنٹس فروخت کر کے اربوں روپے کمائے، مگر یہ سارا عمل الاٹمنٹ کی شرائط کے برعکس تھا۔ نتیجتاً سی ڈی اے نے 2016 میں الاٹمنٹ منسوخ کر دی، جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ معاملہ بالآخر سپریم کورٹ تک پہنچا، جہاں 2019 میں ایک اہم فیصلہ سنایا گیا۔ عدالت نے پلاٹ کو مشروط طور پر ریگولرائز کرتے ہوئے کمپنی کو 17 ارب 50 کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم دیا، جو آٹھ سالہ اقساط میں جمع کرانے تھے۔

لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ کمپنی مقررہ رقم ادا کرنے میں ناکام رہی اور صرف 2 ارب 90 کروڑ روپے ہی جمع کرا سکی۔ اس مسلسل نادہندگی کے بعد سی ڈی اے نے 2023 میں دوبارہ الاٹمنٹ منسوخ کر دی۔ حالیہ دنوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی کمپنی کی درخواست خارج کر دی، جس کے بعد سی ڈی اے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عمارت کا قبضہ حاصل کر لیا اور مکینوں کو مختصر نوٹس پر اپارٹمنٹس خالی کرنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ اس عمارت میں کل 253 اپارٹمنٹس ہیں، جن میں سے بیشتر خالی ہیں جبکہ کچھ میں مستقل رہائش بھی ہے۔ اس صورتحال نے ان خریداروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر یہ جائیداد خریدی۔ ان میں سابق وزیراعظم، سیاستدان، ججز، کھلاڑی اور صحافی شامل ہیں، جن میں عمران خان، حماد اظہر، شاندانہ گلزار، برجیس طاہر، جسٹس (ر) ناصرالملک، کشمالہ طارق، فضیلہ عباسی، حمزہ عباسی، اسفندیار بھنڈارا، شہزاد وسیم، فریال گوہر، شعیب اختر، جسٹس (ر) اعجاز الاحسن، احمد مختار، حفیظ شیخ، سلمان بشیر، ایڈمرل آصف سندھیلہ، جاوید جہانگیر، نسیم زہرہ، ابصار عالم، جام کمال خان اور احسان مانی سمیت دیگر شخصیات شامل ہیں۔متاثرہ خریداروں کا مؤقف واضح ہے کہ انہوں نے قانونی طریقے سے اپارٹمنٹس خریدے اور ان کے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں، لہٰذا اگر کمپنی نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کا خمیازہ خریداروں کو کیوں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جو اس پورے کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے، کیونکہ یہاں ریاست، کمپنی اور عوامی سرمایہ کاری تینوں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا رہے ہیں۔اب سب کی نظریں وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی پر ہیں، جو اس معاملے کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ انہی سفارشات کی روشنی میں یہ طے ہوگا کہ خریداروں کو ریلیف ملے گا یا نہیں، اور نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔

مبصرین کے مطابق یہاں اصل مسئلہ ان سینکڑوں خریداروں کا ہے جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر یہ اپارٹمنٹس خریدے۔ ان میں سابق وزیراعظم، سیاستدان، ججز، صحافی اور دیگر معروف شخصیات شامل ہیں۔ ان خریداروں کا مؤقف ہے کہ انہوں نے قانونی طریقے سے جائیداد خریدی، اگر کمپنی نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کی سزا خریداروں کو کیوں دی جا رہی ہے؟ ناقدین کے مطابق یہ کیس پاکستان کے پراپرٹی سیکٹر میں ریگولیٹری کمزوریوں اور نگرانی کے فقدان کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر منصوبہ ابتدا ہی سے قواعد کے خلاف تھا تو متعلقہ اداروں نے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی؟ اور اگر خریدار نیک نیتی سے شامل ہوئے تو ان کے حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟ حکومت کی جانب سے اس معاملے کے حل کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو جلد اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ تاہم، قانونی ماہرین کے مطابق یہ ایک پیچیدہ کیس ہے جس میں ریاست، کمپنی اور خریدار تینوں کے مفادات آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔

ناقدین کے مطابق “ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو” محض ایک عمارت کا تنازع نہیں بلکہ یہ پاکستان میں پراپرٹی قوانین، سرمایہ کاری کے تحفظ اور ادارہ جاتی شفافیت کا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ آنے والے فیصلے نہ صرف متاثرہ خریداروں کا مستقبل طے کریں گے بلکہ ملک کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے بھی ایک اہم نظیر ثابت ہوں گے۔

Back to top button