امریکہ–ایران کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی اتنی اہم کیوں؟

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران پاکستان ایک اہم اور متحرک ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، جس نے نہ صرف سفارتی سطح پر سرگرمی دکھائی بلکہ علاقائی استحکام کے لیے عملی کردار بھی ادا کیا۔ یہ کردار کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی تذویراتی اور معاشی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس کے ذریعے پاکستان نے عالمی سطح پر خود کو ایک مؤثر سفارتی کھلاڑی کے طور پر منوایا ہے۔
مبصرین کے مطابق حالیہ بحران میں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان 15 نکاتی جنگ بندی فریم ورک میں سہولت کاری کی اور بعد ازاں جنگ بندی میں توسیع بھی اسی ہم آہنگی کے تحت ممکن ہوئی۔ ایران کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کو قبول کرنا اس بات کا مظہر ہے کہ تہران کو یقین تھا کہ اسلام آباد کی تجاویز کو واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جو پاکستان کی ثالثی کو روایتی “غیر جانبداری” کے تصور سے مختلف بناتا ہے۔ پاکستان کی سفارتی طاقت کا ایک اہم پہلو اس کے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان براہ راست رابطے اور ذاتی سطح پر قربت نے پاکستان کو ایک منفرد حیثیت دی ہے۔ یہ تعلقات وائٹ ہاؤس کے حالیہ دوروں کے ذریعے مزید مضبوط ہوئے، جس کے باعث پاکستان کی تجاویز کو براہ راست امریکی فیصلہ ساز حلقوں تک رسائی حاصل ہوئی۔
دوسری جانب پاکستان نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے واشنگٹن کے ساتھ بھی روابط کو مضبوط کیا، جس کے نتیجے میں اسے نمایاں معاشی فوائد حاصل ہوئے۔ 2025 میں امریکہ نے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے لیے 397 ملین ڈالر کی سکیورٹی معاونت کی منظوری دی، جس کا مقصد ایف-16 طیاروں کی دیکھ بھال اور دفاعی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کی ثالثی کے پیچھے ایک بڑی وجہ اس کے معاشی مفادات بھی ہیں، خاص طور پر خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات۔ 2025 میں پاکستان کو مجموعی طور پر 38.3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جن میں سے 60 سے 65 فیصد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک سے آئیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی تقریباً 85 فیصد تیل کی درآمدات اور تقریباً تمام مائع قدرتی گیس کی سپلائی بھی اسی خطے سے وابستہ ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے پاس تین ارب ڈالر بطور امانت رکھنا اور مزید مالی معاونت فراہم کرنا بھی اس تعلق کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول معاشی وابستگیوں کے باعث خلیجی خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی پاکستان کے لیے براہ راست خطرہ بن سکتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں کسی رکاوٹ کی صورت میں توانائی کی فراہمی اور ترسیلات زر دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد بھی پاکستان کے لیے ایک حساس پہلو ہے، جہاں کسی بھی طویل تنازع سے سکیورٹی اور مہاجرین کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ صرف ایک مبصر نہ رہے بلکہ فعال سفارتی کردار ادا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ثالثی پاکستان کے لیے ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک ضرورت بن چکی ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر ترکیہ کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو وہ بھی ایک حد تک ثالثی کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے، تاہم نیٹو رکن ہونے کی وجہ سے اس کی سفارتی آزادی محدود ہے۔ ترکیہ کو اپنی پالیسیوں کو مغربی اتحادیوں کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا پڑتا ہے، جس کے باعث وہ مکمل آزاد ثالثی کا کردار ادا نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس پاکستان نے نسبتاً زیادہ لچکدار حکمت عملی اختیار کی ہے۔ تاہم ایران امریکہ کشیدگی کے دوران دوسری بڑی طاقتوں جیسے چین اور روس کا کردار محدود رہا ہے۔ چین نے اپنی روایتی پالیسی کے مطابق تنازعات سے گریز کرتے ہوئے صرف تجارتی مفادات کے تحفظ پر توجہ دی، جبکہ روس یوکرین جنگ کے باعث سفارتی طور پر زیادہ متحرک نہ ہو سکا۔ اس خلا نے پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک کو آگے آنے کا موقع فراہم کیا۔
تاہم اس صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ درمیانے درجے کی طاقتوں کی ثالثی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتی بلکہ بڑی طاقتوں کے فریم ورک کے اندر ہی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ پاکستان کی کامیابی بھی اسی میں ہے کہ اس نے امریکہ، چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ بیک وقت توازن برقرار رکھا، جس نے اسے ایک “سہ جہتی سفارتی برتری” فراہم کی۔ ماہرین کے مطابق اس پورے تناظر سے چند اہم نکات سامنے آتے ہیں۔ اول، جدید سفارت کاری میں ثالث کی حیثیت اس کی غیر جانبداری سے زیادہ اس کی بڑی طاقتوں تک رسائی سے طے ہوتی ہے۔ دوم، معاشی کمزوری بھی سفارتی سرگرمی کو بڑھا سکتی ہے کیونکہ ایسے ممالک عدم استحکام سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ سوم، درمیانے درجے کی طاقتوں کے لیے مواقع اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب بڑی طاقتیں براہ راست مداخلت سے گریز کریں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی ثالثی ایک بڑے رجحان کی عکاسی کرتی ہے جہاں مشرق وسطیٰ میں درمیانے درجے کی طاقتیں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہی ہیں، لیکن ان کی مؤثریت اب بھی بڑی طاقتوں کی ترجیحات اور حمایت سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی حقیقت مستقبل کی عالمی سفارت کاری کی سمت کا تعین کرتی نظر آتی ہے۔
