کیا واقعی چین پاکستان کو جدید جنگی آبدوزیں دینے والا ہے؟

پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں چین نے جلد پاک بحریہ کو جدید چینی ساختہ آبدوزوں کا ایک بیڑا فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف دونوں ممالک کے سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بناتا ہے بلکہ پاکستان کی بحری دفاعی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔

ایک سرکاری اہلکار کے مطابق یہ منصوبہ مجموعی طور پر آٹھ جدید آبدوزوں پر مشتمل ہوگا، جن میں سے چار چین میں تیار کر کے پاکستان کے حوالے کی جائیں گی، جبکہ باقی چار مقامی سطح پر ٹیکنالوجی ٹرانسفر پروگرام کے تحت پاکستان میں تیار کی جائیں گی۔ اس منصوبے کو دفاعی صنعت میں خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون پہلے ہی غیر معمولی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ برس ہونے والے علاقائی تنازعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان عسکری اشتراک میں مزید اضافہ دیکھا گیا ہے، جس میں جدید جنگی طیاروں اور دیگر عسکری ٹیکنالوجی کی شراکت بھی شامل ہے۔

چینی ساختہ جے-10 سی لڑاکا طیارے، جو حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پہلی بار عملی جنگ میں استعمال ہوئے، اس بڑھتے ہوئے تعاون کی ایک مثال ہیں۔ اسی طرح اب ہانگور کلاس آبدوزیں پاکستانی بحریہ کے بیڑے میں شامل کی جا رہی ہیں، جو جدید سینسرز، جدید ہتھیاروں اور ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن سسٹم سے لیس ہوں گی، جس سے یہ بغیر آکسیجن کے بھی طویل وقت تک سمندر میں رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران پہلی آبدوز کو پاکستانی بحری بیڑے میں شامل کیا گیا تھا، جس میں صدر آصف علی زرداری اور بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر اسے پاکستان کی بحری تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا تھا۔ ایڈمرل نوید اشرف کے مطابق یہ آبدوزیں پاکستان کی بحری دفاعی صلاحیت کو نہ صرف مضبوط کریں گی بلکہ خطے میں توازن برقرار رکھنے اور کسی بھی جارحیت کی روک تھام میں اہم کردار ادا کریں گی۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کی بحریہ کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔

ایک حکومتی اہلکار نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں پاکستان نہ صرف ان آبدوزوں کی تیاری میں خود کفیل ہوگا بلکہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں برآمدات کی صلاحیت بھی حاصل کر سکے گا، جو ملکی دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی۔یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان حالیہ مہینوں میں میزائل ٹیسٹنگ سمیت اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق چین کے ساتھ یہ بڑھتا ہوا تعاون خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔مجموعی طور پر یہ پیش رفت پاکستان کی بحری طاقت کو ایک نئے دور میں داخل کرتی ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی، مقامی پیداوار اور سٹریٹجک شراکت داری ایک ساتھ ملک کی دفاعی پالیسی کو نئی سمت دے رہے ہیں۔

Back to top button