جنگ بندی ختم، ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ حملوں کا اشارہ

پاکستان کی امریکہ اور ایران کے مابین امن معاہدے کیلئے جاری کوششیں ناکام ہونے لگیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے اور دوبارہ ممکنہ حملوں کا اشارہ دے دیا ہے۔ واشنگٹن میں اوول آفس کے اندر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی جاری رکھنے کی “ضرورت نہیں بھی پڑ سکتی، لیکن پڑ بھی سکتی ہے۔”صدر ٹرمپ کے مطابق ایران پر عائد پابندیاں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں اور تہران تیل کی فروخت سے محروم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے، تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ جوہری ہتھیار اس کے پاس نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی معیشت تیزی سے کمزور ہو رہی ہے اور اس کی میزائل فیکٹریوں کا بڑا حصہ تباہ کیا جا چکا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران میں قیادت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ یہ واضح نہیں کہ اصل طاقت کس کے پاس ہے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دی جانی چاہیے۔ایک موقع پر امریکی صدر نے پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے آٹھ جنگیں رکوائیں، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع بھی شامل تھا، جس میں ان کے مطابق 11 طیارے گرائے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ بندی کروا کر انہوں نے کروڑوں جانیں بچائیں۔

ٹرمپ کے مطابق اگر ایران جنگ ختم ہو جاتی ہے تو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں فوری کمی آئے گی۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اس راستے پر انحصار نہیں کرتا کیونکہ اس کے پاس اپنی وافر توانائی موجود ہے۔

Back to top button