پاکستان میں ترسیلات زر 50ارب ڈالر سے بڑھنے کا امکان

پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی انقلاب برپا کرتی دکھائی دیتی ہے، جہاں ماہرین کے مطابق کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دے کر باقاعدہ ریگولیٹ کرنے سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ جس سے آنے والے دنوں میں ترسیلات زر 50 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں، جس سے ملکی معیشت میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق پاکستان اب ایک اہم ڈیجیٹل مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں کرپٹو کرنسی کو قانونی فریم ورک میں لانے سے نہ صرف ترسیلات زر کے حجم میں اضافہ ہوگا بلکہ ان کی لاگت میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ ان کے مطابق اس وقت ترسیلات زر کی اوسط لاگت تقریباً 6 فیصد ہے، جو جدید ڈیجیٹل اور ریگولیٹڈ نظام کے تحت کم ہو کر تقریباً 1 فیصد تک آ سکتی ہے، جس سے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے رقوم بھیجنا زیادہ آسان اور سستا ہو جائے گا۔ دوسری جانب چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے بتایا کہ ایک مجوزہ کرپٹو کونسل کے تحت ایکسچینج کمپنیوں کو مرحلہ وار لائسنس جاری کیے جائیں گے۔ ابتدائی مرحلے میں کمپنیوں کو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) حاصل کرنا ہوگا، جس کے بعد انہیں اکاؤنٹس کھولنے اور محدود ڈیجیٹل سرگرمیوں کی اجازت دی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں انہیں مکمل طور پر ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں ضم کر دیا جائے گا تاکہ عوام براہ راست اس نظام سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اس پیشرفت بارے ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے سیکریٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام ایک اہم قدم ہے جو غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق اس فریم ورک کا بنیادی مقصد ایکسچینجز کو ریگولیٹ کرنا، مالی شفافیت کو فروغ دینا اور ڈیجیٹل اثاثوں کو غیر منظم مارکیٹ سے نکال کر ملکی معیشت کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا ہے۔ کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے قانونی دائرہ کار میں آنے سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ نظام کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف ترسیلات زر میں اضافہ کرے گا بلکہ پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
اس حوالے سے ملک بوستان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیجیٹل لائسنسنگ اور جدید مالیاتی نظام کے نفاذ سے پاکستان میں مالیاتی لین دین کے اخراجات میں انقلابی کمی آئے گی اور ایک شفاف، تیز اور محفوظ نظام وجود میں آئے گا جو عالمی معیار کے مطابق ہوگا۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دینے کی یہ بحث پاکستان کے مالیاتی مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک طرف یہ معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف اس کے لیے مضبوط ریگولیشن، نگرانی اور شفافیت کا نظام بنانا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
