20لاکھ میں نئی گاڑی، حکومت کا خواب کو حقیقت بنانے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے ملک میں آٹو سیکٹر کی بحالی، مقامی صنعت کے فروغ اور عام شہریوں کو کم قیمت گاڑیوں کی فراہمی کے لیے نئی آٹو پالیسی جولائی 2026 سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت چھوٹی گاڑیوں کی قیمت 20 سے 25 لاکھ روپے تک لانے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیے ملک بھر میں چارجنگ انفراسٹرکچر بھی تیزی سے بڑھانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔یہ پیش رفت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں سامنے آئی، جہاں گاڑیوں کی قیمتوں، الیکٹرک وہیکلز، حکومتی سبسڈی، صارفین کے حقوق اور مقامی مینوفیکچرنگ کے معیار پر تفصیلی غور کیا گیا۔
وزارتِ صنعت و پیداوار کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری کی سربراہی میں قائم آٹو پالیسی کمیٹی اپنی سفارشات جولائی میں مکمل کرے گی، جس کے بعد نئی پالیسی نافذ کر دی جائے گی۔حکومت کے مطابق نئی پالیسی کے بنیادی مقاصد میں مقامی آٹو انڈسٹری کو مضبوط بنانا، درآمدات پر انحصار کم کرنا، متوسط طبقے کے لیے کم قیمت گاڑیاں متعارف کرانا اور ماحول دوست الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دینا شامل ہے۔
حکام کے مطابق حکومت کی خواہش ہے کہ نئی پالیسی کے تحت چھوٹی الیکٹرک گاڑیاں 20 سے 25 لاکھ روپے کی قیمت میں متعارف کرائی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی شہری ذاتی گاڑی خریدنے کے قابل ہو سکیں۔تاہم قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید حفیظ الدین کا کہنا ہے کہ ابھی پالیسی کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، اس لیے قیمتوں اور دیگر اقدامات کے بارے میں حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کم قیمت الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، لیکن اس پر عملدرآمد میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت حکومت نے 2030 تک ملک بھر میں 3 ہزار جدید الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔حکام نے بتایا کہ رواں سال مقامی سطح پر ایک لاکھ 60 ہزار الیکٹرک موٹر سائیکلیں اور 12 ہزار 800 الیکٹرک گاڑیاں تیار کی گئی ہیں، جو اس شعبے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار کی عکاسی کرتی ہیں۔چارجنگ اسٹیشنز کے قیام سے نہ صرف الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
اجلاس کے دوران الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور ان کی بیٹریوں کے معیار پر بھی شدید تحفظات سامنے آئے۔کمیٹی کے ارکان نے دعویٰ کیا کہ کئی مقامی کمپنیوں کی بیٹریاں صرف چند ماہ کے اندر اپنی کارکردگی کھو دیتی ہیں، جس سے صارفین کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ارکان نے مطالبہ کیا کہ اگر پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کو کامیاب بنانا ہے تو عالمی معیار کے مطابق مینوفیکچرنگ، کوالٹی کنٹرول اور بیٹریوں کی جانچ کو لازمی بنایا جائے۔
اجلاس میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر دی جانے والی 80 ہزار روپے کی حکومتی سبسڈی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔کمیٹی کے بعض ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ سبسڈی کی تقسیم میں شفافیت کا فقدان ہے اور بعض علاقوں، خصوصاً سندھ کے شہری، اس سہولت سے پوری طرح مستفید نہیں ہو سکے۔اسی طرح بعض ایسی کمپنیوں کو بھی مینوفیکچرنگ کی اجازت دینے پر اعتراض کیا گیا جو مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اترتی تھیں۔ان معاملات کی تحقیقات کے لیے قائمہ کمیٹی نے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو ناقص معیار، بیٹریوں کی کارکردگی اور سبسڈی کی تقسیم سے متعلق تمام معاملات کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
اجلاس میں گاڑیوں کی بکنگ کے بعد رقم واپس نہ ملنے والے صارفین کے مسئلے پر بھی پیش رفت سامنے آئی۔پروٹون کمپنی کے نمائندے نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کی مداخلت کے بعد اب تک 93 فیصد متاثرہ صارفین کو ان کی ایڈوانس رقم واپس کر دی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 816 صارفین کو ایک ارب 10 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی کیسز قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد نمٹا دیے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی مجوزہ نئی آٹو پالیسی صرف سستی گاڑیاں متعارف کرانے کا منصوبہ نہیں بلکہ مقامی آٹو انڈسٹری، الیکٹرک وہیکلز، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور صارفین کے تحفظ کو ایک ہی فریم ورک میں لانے کی کوشش ہے۔تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف کم قیمت گاڑیاں متعارف کرانے پر نہیں ہوگا بلکہ معیار، چارجنگ انفراسٹرکچر، شفاف سبسڈی، مقامی مینوفیکچرنگ اور صارفین کے اعتماد کی بحالی پر بھی ہوگا۔اگر حکومت اپنے اہداف کے مطابق کم قیمت معیاری الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرانے، چارجنگ نیٹ ورک مکمل کرنے اور سخت کوالٹی کنٹرول نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان میں آٹو سیکٹر ایک نئی سمت اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم فی الحال پالیسی کی حتمی منظوری اور اس پر عملدرآمد کا انتظار کرنا ہوگا۔
