داعش کا نوجوانوں کو گمراہ کرنے کیلئے ٹک ٹاک کا استعمال

بی بی سی اردو نے انکشاف کیا ہے کہ داعش نامی جہادی تنظیم کے حامی پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنا پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے اب ٹک ٹاک جیسے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا رخ کر رہے ہیں، جہاں وہ ایسے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ ٹک ٹاک اب ایک ایسا آن لائن نیٹ ورک بنتا جا رہا ہے جہاں کم عمر اور نوجوان صارفین نسبتاً کم شدت والے مگر منظم جہادی مواد کے ذریعے بتدریج شدت پسندی کی طرف مائل کیے جاتے ہیں۔

بی بی سی نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ٹک ٹاک اب صرف تفریحی پلیٹ فارم نہیں رہا بلکہ شدت پسند عناصر بھی اسے نوجوانوں تک رسائی کے ایک نئے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق مختصر ویڈیوز، الگورتھم پر مبنی تجاویز، مقبول ثقافتی رجحانات اور خفیہ علامتوں کے امتزاج نے ایسے عناصر کو ایک نیا ڈیجیٹل میدان فراہم کیا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں، متعلقہ اداروں اور صارفین کو مسلسل چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

بی بی سی کی تفصیلی تحقیق کے مطابق داعش کے حامی ٹک ٹاک کو صرف اپنے نظریات پھیلانے کے لیے استعمال نہیں کرتے بلکہ اسے نئے افراد کی بھرتی اور انہیں شدت پسند نیٹ ورکس تک پہنچانے کے ابتدائی مرحلے کے طور پر بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا طریقۂ کار ایسا ہوتا ہے کہ بعض اوقات صارفین کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ شدت پسند مواد دیکھ رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی صارف لاعلمی میں داعش سے منسلک کسی ایک اکاؤنٹ کو فالو کر لے تو ٹک ٹاک کا تجویز کرنے والا الگورتھم خود بخود اسی نوعیت کے مزید اکاؤنٹس اور ویڈیوز اس کے سامنے لانا شروع کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ بتدریج ایسے مواد کی زیادہ مقدار دیکھنے لگتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق یہی رجحان پہلے انسٹاگرام پر بھی دیکھا جا چکا ہے۔

بی بی سی کی تحقیق کے مطابق داعش کے حامی مختصر، جذباتی اور فوری توجہ حاصل کرنے والے ویڈیوز تیار کرتے ہیں کیونکہ یہی انداز ٹک ٹاک کی مقبول ترین خصوصیت سمجھا جاتا ہے۔ ان کی ویڈیوز روایتی شدت پسند مواد کے مقابلے میں نسبتاً ہلکی، سادہ اور نوجوانوں کے ذوق کے مطابق تیار کی جاتی ہیں تاکہ انہیں عام تفریحی مواد سے الگ نہ سمجھا جائے۔
بی بی سی کے مطابق اس مواد میں میمز، مغربی پاپ کلچر، موسیقی، وائرل ٹرینڈز اور دیگر سوشل میڈیا رجحانات کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے پہلی نظر میں یہ ویڈیوز عام تفریحی ویڈیوز جیسی محسوس ہوتی ہیں جبکہ ان میں خفیہ انداز سے شدت پسند پیغامات شامل کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش کے حامی اپنی شناخت چھپانے کے لیے ویڈیوز اور آواز کو تبدیل کرتے ہیں، غیر متعلقہ ہیش ٹیگز استعمال کرتے ہیں، پس منظر میں عام موسیقی شامل کرتے ہیں اور ایسے عنوانات اختیار کرتے ہیں جن سے بظاہر کسی شدت پسند تنظیم کا تاثر نہ ملے۔ ان کا مقصد پلیٹ فارم کے نگرانی کے نظام سے بچنا اور زیادہ سے زیادہ صارفین تک رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ بی بی سی مانیٹرنگ کی اس تحقیق میں دو ماہ کے دوران ٹک ٹاک پر فالو کیے گئے 355 اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 30 اکاؤنٹس کو داعش سے متعلق قرار دیا گیا۔ ان اکاؤنٹس کی پوسٹس، تبصروں، لائکس، شیئرز، پروفائل تصاویر، صارف نام، تعارف اور مخصوص نعروں کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق ایک بڑی مشکل یہ سامنے آئی کہ ایسے اکاؤنٹس اپنی اصل شناخت چھپانے کے لیے مبہم زبان، طنزیہ انداز، اشاروں اور خفیہ علامات کا استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون واقعی تنظیم کا حامی ہے اور کون محض مذاق یا تنقید کے طور پر ایسا مواد شیئر کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر مواد عربی اور انگریزی زبان میں ملا، تاہم فرانسیسی، ترک اور پرتگالی زبانوں میں بھی اسی نوعیت کی سرگرمیاں دیکھی گئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نیٹ ورک مختلف زبانوں اور خطوں میں بھی اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

بی بی سی کے مطابق داعش سے متعلق مواد میں اس تنظیم کو فعال، مضبوط اور ناقابلِ شکست ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں نوجوانوں کے ذہنوں میں مثبت تاثر پیدا کرنے کے لیے عراق اور شام میں تنظیم کے عروج کے دور یعنی 2014 سے 2017 کی پرانی ویڈیوز اور تصاویر کو نئے انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جن میں سماجی سرگرمیوں، روزمرہ زندگی اور تنظیم کے اندر باہمی تعلقات کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض اکاؤنٹس پروفائلز پر "الدولہ الاسلامیہ باقیہ” اور "باقیہ” جیسے نعرے نمایاں طور پر درج ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ ایسی تصاویر بھی استعمال کی جاتی ہیں جن میں شہادت کی انگلی اٹھائے ہوئے افراد دکھائے جاتے ہیں، جو شدت پسند حلقوں میں ایک مخصوص علامت سمجھی جاتی ہے۔

بی بی سی کے مطابق بعض اکاؤنٹس داعش کے ہفتہ وار اخبار "النبا” کے تازہ شمارے شیئر کرتے ہیں اور ساتھ ہی ٹیلیگرام چینلز کے لنکس فراہم کرتے ہیں تاکہ صارفین کو زیادہ خفیہ پلیٹ فارمز تک منتقل کیا جا سکے۔ اگر کوئی اکاؤنٹ بند ہو جائے تو اس کی جگہ متبادل اکاؤنٹس پہلے سے تیار رکھے جاتے ہیں تاکہ پروپیگنڈا کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ داعش کے سابق رہنماؤں، جن میں ابو بکر البغدادی، ابو محمد العدنانی اور دیگر نمایاں شخصیات شامل ہیں، کو مختصر ویڈیوز، تقاریر اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر کے ذریعے ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بعض ایسی ویڈیوز کو ہزاروں لائکس اور بڑی تعداد میں ویوز بھی حاصل ہوئے، جس سے ان کی رسائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بی بی سی کے مطابق داعش کے حامی جنگجوؤں کو بہادر، مذہبی، قربانی دینے والے اور ناانصافی کے خلاف لڑنے والے کرداروں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے پیغامات میں ہیرو بننے، ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور موت کو قبول کرنے جیسے جذباتی تصورات شامل ہوتے ہیں تاکہ نوجوانوں کو متاثر کیا جا سکے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تنظیم کے حامی اپنے مواد کو چھپانے کے لیے قدرتی مناظر، پھولوں، کھانے کی تصاویر، عام زندگی کے مناظر اور مقبول ہیش ٹیگز کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ بعض پوسٹس میں خوبصورت لینڈ سکیپ ویڈیوز کے ساتھ خفیہ شدت پسند پیغامات یا تنظیم کے نعروں کو اس انداز میں شامل کیا جاتا ہے کہ عام صارف فوری طور پر ان کی اصل نوعیت کو نہ سمجھ سکے۔

بی بی سی کے مطابق داعش کے حامی خفیہ اشاروں کے طور پر مخصوص نمبرز اور تاریخوں کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر بعض اعداد مخصوص حملوں یا واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کا مطلب صرف تنظیم کے حامی ہی سمجھتے ہیں، جبکہ عام صارفین انہیں محض بے معنی نمبرز تصور کرتے ہیں۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ٹک ٹاک پر بعض اکاؤنٹس خواتین اور بچوں کی تکلیف، جنگی حالات اور انسانی المیوں کی منتخب تصاویر اور ویڈیوز استعمال کرتے ہوئے تنظیم کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ جذباتی موسیقی، سابق رہنماؤں کی آڈیو تقاریر اور ہمدردی پیدا کرنے والے جملے شامل کیے جاتے ہیں تاکہ ناظرین کی جذباتی وابستگی پیدا ہو سکے۔
بی بی سی کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کا الگورتھم غیر ارادی طور پر ایسے مواد کو مزید فروغ دے سکتا ہے کیونکہ ایک جیسے موضوعات پر مبنی ویڈیوز دیکھنے کے بعد اسی نوعیت کا مزید مواد صارف کے سامنے آنے لگتا ہے۔ اس طرح ایک ایسا آن لائن ماحول تشکیل پاتا ہے جہاں ایک ہی بیانیہ بار بار دہرایا جاتا ہے اور بعض نوجوان رفتہ رفتہ شدت پسند حلقوں کی طرف کھنچ سکتے ہیں۔

Back to top button