گوادر پورٹ کو ایرانی تجارت کا متبادل سمندری راستہ بنانے کا امکان

 

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ اسلام آباد کے دوران پاکستان کی گوادر بندرگاہ کو ایرانی تجارت کے لیے متبادل سمندری راستہ بنانے کے امکان پر بھی غور کیا گیا۔

اسلام آبااد میں باخبر سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون کے تناظر میں یہ تجویز مستقبل میں پاک ایران تجارتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ ذرائع اس کے مطابق اگر اس تجویز پر عمل ہو جاتا ہے تو گوادر بندرگاہ کی علاقائی اہمیت میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا۔ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ایرانی صدر کے دورہ اسلام اباد کے دوران دونوں اطراف کے مابین علاقائی صورت حال، آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت اور ایران کو متبادل تجارتی راستوں کی ضرورت کے پیش نظر پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اگر ایران اپنی درآمدات اور برآمدات کے لیے گوادر بندرگاہ سے استفادہ کرتا ہے تو اسے نسبتاً محفوظ، مختصر اور کم لاگت تجارتی راستہ میسر آ سکتا ہے، جبکہ پاکستان کو ٹرانزٹ فیس، بندرگاہی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، روزگار اور مکران کے ساحلی علاقوں کی معاشی ترقی کی صورت میں نمایاں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان پہلے ہی 2008ء کے پاک ایران بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ معاہدے کے تحت ایران کو متعدد زمینی اور ساحلی تجارتی راہداریوں کی پیشکش کر چکا ہے۔ ان میں گوادر۔گبد روٹ، کراچی اور پورٹ قاسم سے اورماڑہ، پسنی اور گبد کے راستے جبکہ کراچی، پورٹ قاسم، خضدار، دالبندین اور تفتان کے ذریعے زمینی راہداری بھی شامل ہے۔ ان راستوں کے فعال ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان سامان کی نقل و حمل کی لاگت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر کے حالیہ دورۂ پاکستان کے فوراً بعد ایف بی آر نے ایران جانے والے کارگو کی پاکستانی بندرگاہوں اور آف ڈاک ٹرمینلز پر ‘کراس سٹفنگ’ Cross Stuffing کی باقاعدہ اجازت دے دی ہے جس سے گوادر، مکران اور پاک ایران سرحدی تجارت کو مزید فروغ ملنے کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔ اگرچہ پاکستانی اور ایرانی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کی تمام تفصیلات سرکاری طور پر سامنے نہیں لائی گئیں، تاہم دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ گوادر کو ایران کی تجارت کے لیے ایک متبادل سمندری مرکز کے طور پر استعمال کرنے کا امکان بھی انہی مذاکرات کا حصہ تھا۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران طویل عرصے سے آبنائے ہرمز کو اپنی جغرافیائی اہمیت کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے، تاہم امریکہ سے حالیہ کشیدگی نے یہ حقیقت بھی واضح کر دی کہ کسی ایک بحری راستے پر انحصار ایران کی معیشت کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ امریکی دباؤ اور بحری پابندیوں کے دوران ایران کو روزانہ کروڑوں ڈالر کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث متبادل تجارتی راستوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ بحران نے خطے کے تمام ممالک کو یہ احساس دلایا ہے کہ تجارت کو صرف ایک بحری گزرگاہ تک محدود رکھنا مستقبل میں بڑے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران بھی اب متبادل راہداریوں کی تلاش میں ہے جبکہ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے اس ضرورت کو پورا کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی اقتصادی وابستگی صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی اہم تزویراتی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ ان میں افغانستان کی غیر یقینی صورتحال، بلوچستان میں سکیورٹی چیلنجز، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اور وسط ایشیا تک متبادل رسائی کی تلاش شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب پاکستان افغانستان کے ذریعے وسط ایشیا تک رسائی کو اپنی خارجہ اور اقتصادی پالیسی کا بنیادی حصہ سمجھتا تھا، لیکن دہشت گردی، سرحدی کشیدگی اور کابل کے ساتھ تعلقات میں تناؤ نے اس منصوبے کو عملی طور پر پس منظر میں دھکیل دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان نے وسط ایشیا کے ساتھ تجارت، توانائی اور اقتصادی تعاون کے متعدد منصوبے متعارف کرائے، تاہم ان میں سے بیشتر منصوبے عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔ اب پالیسی سازوں کی توجہ بتدریج ایران کے راستے وسط ایشیا تک رسائی پر مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے "اڑان پاکستان” اقتصادی منصوبے میں بھی گوادر کو عالمی تجارت کا مرکز بنانے کے لیے تین بڑی اقتصادی راہداریوں کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ پہلی بلیو گولڈ کوریڈور ہے جو گوادر کو چاغی، ہرات اور تاشقند کے ذریعے وسط ایشیا سے جوڑتی ہے، دوسری راہداری ایران کے شہر مشہد تک جاتی ہے جبکہ تیسرا راستہ سی پیک کے ذریعے گوادر کو کاشغر سے ملاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تینوں منصوبوں میں ایران کے راستے مشہد تک جانے والی راہداری نسبتاً کم لاگت، تیز رفتار اور پہلے سے موجود بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے سب سے زیادہ قابل عمل تصور کی جا رہی ہے، جبکہ گوادر اس منصوبے کا مرکزی نقطہ بن سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ تمام منصوبے مستقبل کے لیے نہایت پرکشش دکھائی دیتے ہیں، تاہم ان کی کامیابی کا انحصار مضبوط سکیورٹی، مؤثر منصوبہ بندی، مستقل حکومتی پالیسیوں اور ادارہ جاتی اصلاحات پر ہوگا۔ ان کے مطابق سکیورٹی خدشات، بیوروکریٹک رکاوٹیں اور طویل المدتی حکمت عملی کے فقدان نے گوادر اور سی پیک کی رفتار کو بھی متاثر کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں افغانستان کے بجائے ایران کے راستے وسط ایشیا تک پہلی تجارتی کھیپ ازبکستان بھیجے جانے سے یہ واضح اشارہ ملا ہے کہ پاکستان اب عملی طور پر نئے تجارتی راستوں پر کام شروع کر چکا ہے اور ایران کو وسط ایشیا تک رسائی کے لیے ایک متبادل گیٹ وے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مغربی ایشیا کی سیاست آئندہ برسوں میں کس سمت جائے گی، اس بارے میں ابھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم اگر پاکستان گوادر، ایران اور وسط ایشیا کو ایک مؤثر اقتصادی حکمت عملی کے تحت باہم منسلک کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو گوادر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم تجارتی اور ٹرانزٹ مرکز کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو حقیقی معاشی فوائد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

Back to top button