ایران کی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نئی وارننگ جاری

ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ تہران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستوں اور نیوی گیشن قوانین کی خلاف ورزی کریں گے تو انہیں فوری اور سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کی سلامتی اور جہاز رانی کا معاملہ اب بھی دونوں ممالک کے درمیان اہم اختلافی نکات میں شامل ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے مقرر کردہ بحری گزرگاہ سے انحراف یا جہاز رانی کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کو ایرانی مسلح افواج کے فوری اور فیصلہ کن ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا، جس سے ان کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔یہ وارننگ ایک روز قبل قطر کی ثالثی میں ہونے والے ایران امریکا بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی خبروں کے بعد سامنے آئی، جہاں ثالثوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک مستقل امن معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

اگرچہ ایران نے اس انتباہ کی کوئی براہِ راست وجہ بیان نہیں کی، تاہم یہ بیان امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے بحرین میں منعقدہ علاقائی سلامتی اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس میں شریک ممالک نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس میں سلامتی اور قانونی نظم قائم کرنے کا اختیار کسی بیرونی فورم کو حاصل نہیں۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن صرف بیرونی مداخلت کے خاتمے، امریکی افواج کے انخلا، علاقائی ممالک کی خودمختاری کے احترام اور نئی جغرافیائی و سیاسی حقیقتوں کو تسلیم کرنے سے ممکن ہے، نہ کہ امریکا کی عسکری موجودگی سے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تجارت گزرتی ہے، ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کا ایک نہایت حساس اور اہم موضوع بن چکی ہے۔ دونوں ممالک 17 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگرچہ ایران مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت میں تعاون کی یقین دہانی کرا چکا ہے، تاہم تہران مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ تمام جہاز ایرانی ساحل کے قریب متعین کردہ بحری راستہ استعمال کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔جہاز رانی کی نگرانی کرنے والے ادارے میرین ٹریفک کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد اب تک آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر کم از کم 49 حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن میں سنگاپور کے پرچم بردار مال بردار جہاز اور پاناما کے رجسٹرڈ تجارتی جہاز پر ڈرون حملے بھی شامل ہیں، جن کی ذمہ داری زیادہ تر ایران پر عائد کی جاتی رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 17 جون کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں اضافہ ضرور ہوا ہے، تاہم یہ اب بھی جنگ سے پہلے یومیہ تقریباً 130 جہازوں کی آمدورفت سے کم ہے۔ بدھ کو 45 جبکہ منگل کو 34 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔

دوسری جانب دوحہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی اطلاعات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، تاہم ایشیائی مارکیٹوں میں قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں۔ برینٹ خام تیل کے اگست کے سودے جمعہ کو 72.07 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتے رہے، جبکہ ایک روز قبل اس کی قیمت پہلی مرتبہ 71 ڈالر فی بیرل سے نیچے آئی تھی۔

Back to top button