ٹریک ٹو ڈپلومیسی، کیا واقعی پاک بھارت تعلقات بحال ہونے والے ہیں؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ سرحدی کشیدگی، دہشت گردی کے الزامات، کشمیر تنازع، سندھ طاس معاہدہ، سفارتی تعلقات کی معطلی اور حالیہ فوجی کشیدگی نے دونوں ایٹمی طاقتوں کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں براہ راست مذاکرات تقریباً منقطع ہو چکے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک بار پھر "ٹریک ٹو ڈپلومیسی” یعنی غیر سرکاری سفارتی رابطے عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

حالیہ دنوں قطر، تھائی لینڈ اور سری لنکا میں بعض غیر رسمی ملاقاتوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ پاکستان اور بھارت کے ایک سو سے زائد ممتاز سابق سفارتکاروں، سیاست دانوں، دانشوروں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور سماجی رہنماؤں نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم شہباز شریف اور نریندر مودی کے نام مشترکہ خط لکھ کر فوری مذاکرات، سفارتی تعلقات کی بحالی، تجارت کے آغاز اور عوامی روابط کو فروغ دینے کی اپیل کر دی۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے ان ملاقاتوں کی نہ تصدیق کی اور نہ تردید، تاہم واضح کیا کہ اگر کوئی ملک جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہے تو پاکستان اس کا خیر مقدم کرے گا۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ پاکستان کا ہر مؤقف بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے، اس لیے اسے کسی بھی بین الاقوامی رابطے سے گریز نہیں۔دوسری جانب نئی دہلی نے بھی ان غیر رسمی ملاقاتوں کو سرکاری حیثیت دینے سے انکار کیا۔ بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مصری کے مطابق ایسی ملاقاتوں میں شریک ریٹائرڈ سفارتکار، سابق فوجی افسران یا سول سوسائٹی کے نمائندے اپنی ذاتی حیثیت میں شریک ہوتے ہیں اور ان کے خیالات بھارتی حکومت کی نمائندگی نہیں کرتے۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کی ممتاز شخصیات کی جانب سے جاری کی گئی اپیل میں کہا گیا کہ مسلسل دشمنی نے جنوبی ایشیا کے کروڑوں عوام، خصوصاً نوجوان نسل کو ترقی، روزگار اور خوشحالی سے محروم کر دیا ہے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ تصادم کے بجائے مکالمے، مخاصمت کے بجائے تعاون اور تنہائی کے بجائے روابط کو فروغ دیا جائے۔خط میں دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ مکمل سفارتی تعلقات بحال کیے جائیں، نئی دہلی اور اسلام آباد میں دوبارہ ہائی کمشنرز تعینات ہوں، ویزا پابندیاں نرم کی جائیں، تجارت بحال کی جائے، واہگہ سرحد کھولی جائے، فضائی رابطے بحال ہوں، دہلی لاہور بس، سمجھوتہ ایکسپریس، تھر ایکسپریس اور سرینگر مظفرآباد بس سروس دوبارہ شروع کی جائے تاکہ تقسیم شدہ خاندان ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے سے مل سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر سمیت تمام متنازع معاملات پر بامعنی اور مسلسل مذاکرات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

اس اپیل پر پاکستان اور بھارت کی کئی معروف شخصیات نے دستخط کیے ہیں۔بھارت سے سابق "را” سربراہ اے ایس دُلت، فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، میر واعظ عمر فاروق، منی شنکر ایئر سمیت متعدد ممتاز شخصیات شامل ہیں۔پاکستان سے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق سفارتکار اشرف جہانگیر قاضی، پروفیسر پرویز ہودبھائی، فرحت اللہ بابر، بینا سرور، شیما کرمانی، سلیمہ ہاشمی اور دیگر سماجی رہنماؤں نے اس اپیل کی حمایت کی۔

اس خط نے بھارت میں شدید سیاسی ردعمل بھی پیدا کیا۔ حکمراں جماعت بی جے پی کے بعض رہنماؤں نے اسے فوج اور شہداء کی قربانیوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی، جبکہ امن کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بات چیت دشمنوں کے ساتھ ہوتی ہے، دوستوں کے ساتھ نہیں۔سابق "را” سربراہ اے ایس دُلت نے کہا کہ اگر دونوں ممالک کو مسائل حل کرنے ہیں تو مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ موجود نہیں۔ ان کے مطابق جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہو سکتی۔

اسی طرح میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے بھی ناگزیر ہیں، کیونکہ طاقت کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔پاکستان کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مطابق متنازع مسائل کا واحد دانشمندانہ راستہ مکالمہ ہے، نہ کہ جذباتی قوم پرستی اور جنگی بیانات۔سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بھی زور دیا کہ عوامی روابط ہی مستقل امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جب لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو غلط فہمیاں خود بخود کم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

اگرچہ دونوں حکومتوں نے باضابطہ مذاکرات کے کسی نئے عمل کا اعلان نہیں کیا، تاہم غیر سرکاری سطح پر رابطوں میں اضافہ اس بات کا اشارہ ضرور سمجھا جا رہا ہے کہ مکمل تعطل کے باوجود دونوں ممالک کے بعض حلقے مستقبل میں کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ٹریک ٹو سفارتکاری ماضی میں بھی کئی بار پاک بھارت مذاکرات کی بنیاد بنی ہے۔ 2003 کی جنگ بندی، جامع مذاکراتی عمل، عوامی رابطوں میں اضافہ اور مختلف اعتماد سازی کے اقدامات کے پیچھے بھی ایسے ہی غیر رسمی رابطوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

مبصرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ حالات میں کسی بڑی سفارتی پیش رفت کی پیش گوئی قبل از وقت ہوگی، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں اور کسی بھی نئی کشیدگی کی قیمت صرف حکومتیں نہیں بلکہ کروڑوں عام شہری ادا کرتے ہیں۔شہباز شریف اور نریندر مودی کے نام لکھا گیا یہ مشترکہ خط شاید فوری طور پر حکومتی پالیسی تبدیل نہ کر سکے، لیکن اس نے ایک مرتبہ پھر یہ بحث ضرور زندہ کر دی ہے کہ جنوبی ایشیا کا مستقبل جنگ میں نہیں بلکہ مکالمے، تجارت، عوامی روابط اور اعتماد سازی میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دونوں ممالک کو پائیدار امن، معاشی ترقی اور علاقائی استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Back to top button