کیا سفارتی خطوط کے ذریعے پاک بھارت تعلقات کی بحالی ممکن ہے؟

پاکستان اور بھارت کی 117 ممتاز سیاسی، سفارتی، تعلیمی اور سماجی شخصیات کی جانب سے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم شہباز شریف اور نریندر مودی کو مشترکہ مکتوب ارسال کرنا جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مکتوب میں مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی، ہائی کمشنرز کی دوبارہ تعیناتی، ویزا سروس کی بحالی، فضائی حدود کھولنے اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا دونوں جوہری ہمسایہ ممالک دیرینہ تنازعات، بالخصوص مسئلہ کشمیر، پر پیش رفت کے بغیر تعلقات کو معمول پر لا سکتے ہیں یا یہ کوشش بھی ماضی کی طرح صرف ایک علامتی اقدام ثابت ہوگی؟
مبصرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے شدید تناؤ، سفارتی سرد مہری اور باہمی بداعتمادی کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت تقریباً معطل ہے، سفارتی روابط محدود ہو چکے ہیں اور عوامی سطح پر بھی رابطے نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ ایسے ماحول میں دونوں ممالک کی 117 ممتاز شخصیات کی جانب سے مشترکہ مکتوب کو ایک مثبت اور غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد دونوں حکومتوں کو مذاکرات اور اعتماد سازی کی جانب راغب کرنا ہے۔
خیال رہے کہ اس حوالے سے سامنے آنے والے مکتوب میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت مکمل سفارتی تعلقات بحال کریں، ایک دوسرے کے ہاں ہائی کمشنرز دوبارہ تعینات کریں، ویزا سہولیات بحال کی جائیں، فضائی حدود تجارتی پروازوں کے لیے کھولی جائیں اور عوامی و ثقافتی روابط کو فروغ دیا جائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مستقبل کے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم پاکستان کا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ بھارت کے ساتھ پائیدار اور بامقصد تعلقات اسی صورت ممکن ہیں جب دونوں ممالک تمام بنیادی تنازعات، خصوصاً مسئلہ کشمیر، پر مذاکرات کریں۔ اسلام آباد متعدد مواقع پر یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ اختلافات کو جنگ یا محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب بھارت کی موجودہ قیادت، خصوصاً وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں، پاکستان کے ساتھ تعلقات میں نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ بھارتی حکومت نے متعدد مواقع پر مذاکرات کی پیشکشوں کو مسترد کیا، جبکہ کشمیر کو اپنا داخلی معاملہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بات چیت سے بھی گریز کیا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعطل بدستور برقرار ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشترکہ مکتوب ایک مثبت علامت ہے، لیکن صرف شخصیات کی اپیلوں سے تعلقات میں بنیادی تبدیلی آنا آسان نہیں۔ اس کے لیے دونوں ممالک کی سیاسی قیادت، ریاستی اداروں اور فیصلہ ساز حلقوں کے درمیان اعتماد اور سیاسی عزم ناگزیر ہے۔ جب تک دونوں طرف سنجیدہ سیاسی ارادہ موجود نہ ہو، ایسے اقدامات علامتی اہمیت تو رکھتے ہیں مگر عملی نتائج پیدا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دونوں ممالک کی داخلی سیاست میں پاکستان اور بھارت کا بیانیہ مختلف انداز سے استعمال ہوتا رہا ہے۔ پاکستان میں انتخابی سیاست کا محور عموماً بھارت مخالف مہم نہیں رہی، جبکہ بھارت میں بعض اوقات پاکستان سے متعلق سخت مؤقف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پلوامہ، اڑی اور پہلگام جیسے واقعات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے اور مذاکرات کا عمل تقریباً منجمد ہو گیا۔اگرچہ 2021 میں دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق رائے ایک اہم پیش رفت تھی، لیکن یہ پیش رفت بھی صرف لائن آف کنٹرول تک محدود رہی اور وسیع تر سیاسی یا سفارتی مذاکرات کی راہ ہموار نہ ہو سکی۔
ماہرین کے مطابق پاک بھارت تعلقات کی حقیقی بحالی صرف حکومتی مذاکرات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے عوامی سطح پر اعتماد، ذمہ دار میڈیا، ثقافتی روابط، تعلیمی تبادلے اور باہمی احترام پر مبنی ماحول بھی ضروری ہے۔ اسی طرح دونوں ممالک کی سیاسی اور عسکری قیادت کو بھی ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جو کشیدگی کے بجائے تعاون کو فروغ دے۔ تجزیہ کاروں کے بقول جنوبی ایشیا کی ترقی، خطے کے امن اور کروڑوں عوام کے بہتر مستقبل کا انحصار بھی بڑی حد تک پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر ہے۔ اگر دونوں ممالک اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی راہ اختیار کرتے ہیں تو نہ صرف علاقائی استحکام کو تقویت مل سکتی ہے بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے سیاسی عزم، اعتماد سازی اور دیرینہ تنازعات پر سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات ناگزیر ہوں گے۔
