اتحادیوں کے تحفظات،کیا بلوچستان کابینہ میں بڑی تبدیلی آنے والی ہے؟

لیگی قیادت کی اسلام ٓباد میں ہونے والی ملاقاتوں نے بلوچستان کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ بلوچستان کی سیاست ایک بار پھر اہم موڑ پر دکھائی دے رہی ہے۔ اگرچہ صوبائی حکومت اپنی آئینی مدت کے مطابق کام کر رہی ہے، لیکن اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے پارلیمانی گروپ اور پارٹی کی مرکزی قیادت کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اتحادی حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے تحفظات مستقبل میں صوبائی کابینہ میں ردوبدل یا وزارتوں کی نئی تقسیم کا باعث بن سکتے ہیں؟
ذرائع کے مطابق دو روز قبل ہونے والی اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ کی موجودگی اس بات کا اشارہ تھی کہ اجلاس صرف تنظیمی نوعیت کا نہیں بلکہ حکومتی معاملات بھی زیر بحث آئے۔
اجلاس میں مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے ارکان نے مرکزی قیادت کے سامنے اپنے تحفظات کھل کر رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام مطلوبہ رفتار سے نہیں ہو رہا، فنڈز کی بروقت فراہمی میں تاخیر ہے اور اپنے حلقوں کے عوامی مسائل حل کرنے میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اراکین کا مؤقف تھا کہ موجودہ صورتحال میں عوامی توقعات پر پورا اترنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث ان کی سیاسی پوزیشن بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے تمام شکایات تفصیل سے سننے کے بعد فی الحال وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی پر اعتماد کا اظہار کیا اور پارلیمانی اراکین کو تعاون جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔تاہم قیادت نے یہ بھی واضح کیا کہ آئندہ دو ماہ کے دوران ترقیاتی کاموں، فنڈز کی تقسیم اور انتظامی معاملات میں واضح بہتری نہ آئی تو پھر صورتحال کا دوبارہ جائزہ لے کر مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔یہ دو ماہ کی مہلت سیاسی مبصرین کے نزدیک غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیادت نے شکایات کو محض رسمی انداز میں نظرانداز نہیں کیا بلکہ انہیں سنجیدگی سے لیا ہے۔
اجلاس میں مبینہ ڈھائی، ڈھائی سالہ پاور شیئرنگ فارمولے پر باضابطہ گفتگو نہیں ہوئی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت جلد بلوچستان کے حکومتی معاملات، وزارتوں کی تقسیم اور اتحادی امور پر الگ اجلاس کرے گی۔اسی وجہ سے سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ اگر موجودہ شکایات برقرار رہیں تو بعض وزارتوں کی تبدیلی، محکموں کی ازسرنو تقسیم یا کابینہ میں محدود ردوبدل بھی زیر غور آسکتا ہے۔تاہم اس حوالے سے اب تک کسی سرکاری ذریعے نے ایسی کسی تبدیلی کی تصدیق نہیں کی، اس لیے موجودہ اطلاعات کو سیاسی امکانات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
مسلم لیگ (ن) نے بلوچستان میں پارٹی معاملات کو بہتر انداز میں چلانے اور کارکنوں و منتخب نمائندوں کے مسائل براہِ راست مرکزی قیادت تک پہنچانے کے لیے ایک رابطہ کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔کمیٹی میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی، پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ، صوبائی وزیر راحیلہ حمید خان درانی، نوابزادہ زرین خان مگسی اور زرک خان مندوخیل شامل ہیں، جبکہ رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ کو سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔اس کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ پارٹی رہنماؤں، ارکان اسمبلی اور کارکنوں کے مسائل مرتب کرکے مرکزی قیادت اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے سامنے پیش کرے تاکہ اختلافات بروقت حل کیے جا سکیں۔
اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقات بظاہر ترقیاتی منصوبوں اور تنظیمی معاملات کا جائزہ لینے کے لیے تھی، لیکن اس کے سیاسی اثرات کہیں زیادہ اہم دکھائی دیتے ہیں۔ایک طرف مسلم لیگ (ن) نے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، تو دوسری جانب دو ماہ کی مہلت دے کر یہ پیغام بھی دیا ہے کہ حکومتی کارکردگی مسلسل نگرانی میں رہے گی۔آئندہ چند ہفتوں میں اگر ترقیاتی فنڈز کی فراہمی بہتر ہوتی ہے، عوامی منصوبوں پر پیش رفت نظر آتی ہے اور اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور ہو جاتے ہیں تو بلوچستان کی موجودہ حکومت مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔البتہ اگر شکایات برقرار رہتی ہیں تو پھر کابینہ میں ردوبدل، وزارتوں کی نئی تقسیم یا اتحادی جماعتوں کے درمیان نئے انتظامی فارمولے پر غور کیے جانے کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
مبصرین کے مطابق بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اس مرحلے پر تبدیلی سے زیادہ احتساب اور کارکردگی کے جائزے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مرکزی قیادت نے فی الحال حکومت کے تسلسل کی حمایت کی ہے، لیکن ساتھ ہی واضح کر دیا ہے کہ آئندہ چند ہفتے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔اسی لیے اگرچہ کابینہ میں فوری ردوبدل کی کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں، تاہم سیاسی سرگرمیوں اور اتحادی مشاورت نے یہ ضرور ظاہر کر دیا ہے کہ بلوچستان کی سیاست آنے والے دنوں میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
