صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟

تحریر:عامر خاکوانی
بشکریہ: وی نیوز

رمضان سے تھوڑا پہلے ایک نوجوان صحافی دوست سے ملاقات ہوئی۔ لاہور کے ایک کیفے میں بیٹھے تھے۔ پریشان لگ رہا تھا۔ پوچھا تو کہنے لگا، ’خاکوانی صاحب، میں اپنا پیشہ چھوڑنے کا سوچ رہا ہوں‘۔ میں نے چائے کی پیالی روک لی، ’کیا ہوا؟‘۔ کہنے لگا، ’پچھلے ہفتے میں ایک رپورٹ بنانے میں 3 دن لگے۔ تحقیق کی، لوگوں سے ملاقات کی، دستاویزات چیک کیں، پھر لکھا۔ میرے ایڈیٹر نے ایک آرٹیکل دکھایا جو اے آئی نے 5 منٹ میں لکھ دیا تھا۔ تقریباً وہی معلومات، تقریباً وہی ساخت۔ پھر مجھے بتایا گیا کہ اخراجات کم کرنے کے لیے شاید ہمیں اے آئی ٹولز زیادہ استعمال کرنے ہوں گے‘۔

میں نے چائے پیتے ہوئے کہا ’کیا اے آئی کا لکھا ہوا وہ آرٹیکل صحیح تھا؟‘ کہنے لگا ’حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بہت حد تک صحیح تھا۔ 2-3 چھوٹی غلطیاں تھیں، مگر مجموعی طور پر پڑھنے والا نہیں سمجھ پائے گا کہ یہ انسان نے نہیں لکھا‘۔

خاکسار کو صحافت کے شعبے میں 30 سال سے تھوڑا اوپر ہوچکے ہیں۔ اردو ڈائجسٹ کے دنوں سے لے کر جنگ کے نیوز روم اور پھر روزنامہ ایکسپریس، روزنامہ دنیا، روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز کے میگزین سیکشن اور 22-23 سال سے ہفتے میں 3-4 کالم لکھنا۔میری نسل نے اس پیشے کی کئی انقلاب دیکھے ہیں۔

ٹائپ رائٹر سے کمپیوٹر، فیکس سے ای میل، پرنٹ سے ٹی وی، ٹی وی سے یوٹیوب، یوٹیوب سے ٹک ٹاک۔ ہر بار ہم نے کہا کہ ’اس بار کا انقلاب صحافت کو بدل دے گا‘۔ اور ہر بار صحافت بدلی، مگر ختم نہیں ہوئی۔ مگر یہ جو نیا طوفان ہے، مصنوعی ذہانت، یہ یکسر مختلف ہے۔ اس بار کا سوال یہ نہیں کہ صحافت کیسے بدلے گی، بلکہ یہ ہے کہ صحافی رہیں گے یا نہیں؟

یاد رہے کہ اے آئی کوئی سائنس فکشن نہیں رہی، یہ روز مرہ کی حقیقت بن چکی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ، جیمنائی، گروک، کوپائلٹ۔ یہ سب ایسے ٹولز ہیں جو چند منٹوں میں پورا آرٹیکل لکھ سکتے ہیں۔ ترجمہ کر سکتے ہیں۔ تحقیق کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ کالم کا خیال بھی تجویز کر سکتے ہیں۔ رائٹرز انسٹیٹیوٹ کی مارچ 2026 کی کانفرنس میں بتایا گیا کہ دنیا بھر کے نیوز رومز اب اے آئی کو روز مرہ کاموں میں شامل کر چکے ہیں۔ڈیٹا اینالسز، ٹرانسکرپشن، ترجمہ، سمری، اور کہیں پر پورا مضمون لکھنا۔ (ہور دسو )۔

مسئلہ مگر یہاں ختم نہیں ہوتا۔ اس سے بڑا مسئلہ ہے ڈیپ فیک کا۔ یعنی مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی جعلی ویڈیوز اور آڈیوز ہیں جو اصلی لگتی ہیں۔ کسی بھی بڑی شخصیت کا چہرہ، اس کی آواز، اس کا انداز، سب کچھ اے آئی بنا لیتی ہے۔ مئی 2025 کے پاک بھارت بحران میں جب بھارتی میڈیا نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی ایک جعلی ویڈیو چلائی جس میں وہ ’شکست تسلیم‘ کرتے نظر آئے، تو کچھ پاکستانی بھی حیران رہ گئے۔ جلد پتا چل گیا کہ یہ جعلی یعنی ڈیپ فیک ویڈیو تھی۔ فیک ویڈیوز کا رجحان خوفناک حد تک بڑھ چکا ہے۔اب تو حال یہ ہے کہ ہم کوئی بھی ویڈیو اپنی ٹائم لائن پر شیئر کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ فیک ہی نہ نکل آئے۔ 2-4 بار ایکس پر ویڈیو پوسٹ کی تو پتا چلا کہ وہ غلط ہے، شرمندگی ہوئی، مگر کیا کریں اصل حقیقت کو جاننا بھی مشکل ہوچکا۔

پریشان کن بات یہ ہے کہ ڈیپ فیکس کی پہچان کے لیے جو ٹولز بنائے جا رہے ہیں، وہ بھی ڈیپ فیکس سے مات کھا رہے ہیں۔ جو ڈیپ فیک بنانے والے ہیں، وہ مسلسل ایسی تبدیلیاں لاتے ہیں کہ ڈیٹیکشن ٹولز ناکام ہو جائیں۔ یو سی برکلے کی ایک ماہر نے جنوری 2026 میں ایک بہت اہم بات کہی: ’ایک ڈیپ فیک بنانے میں چند منٹ لگتے ہیں، اور اسے غلط ثابت کرنے میں ہفتے‘۔ یہ جو غیر متوازن حساب ہے، یہی اصل مسئلہ ہے۔

اے آئی اور ڈیپ فیک اپنی جگہ خطرہ ہے مگر اسی میں سے صحافیوں کی بقا کا راستہ بھی نکلے گا۔ آج کا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں خبریں کم ملتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں خبریں اتنی زیادہ ملتی ہیں کہ کیا سچ ہے کیا جھوٹ، فرق کرنا مشکل ہے۔ ایسے میں صحافی کا کردار ’خبر دینے‘ سے ’خبر کی تصدیق کرنے‘ میں بدل رہا ہے۔ صحافی اب نیوز رپورٹر نہیں، فیکٹ چیکر بن رہا ہے۔ وہ جو گیٹ کیپر کا کردار تھا، وہ دوبارہ ضروری ہو گیا ہے، مگر مختلف شکل میں۔

یہاں پر ایک اور ایشو بھی ہے جسے ڈسکس کرنا چاہیے، ماہرین اسے ’ادارتی خلا‘ کہتے ہیں۔ اے آئی ٹولز اتنے سستے اور تیز ہو گئے ہیں کہ بہت سے میڈیا ادارے انہیں صحافیوں کا متبادل سمجھ رہے ہیں۔ یہ رجحان دنیا بھر میں بڑھ رہا ہے۔ ہمارے ہاں ابھی یہ شدت سے نہیں آیا، مگر آئے گا اور جب آئے گا تو وہ صحافی سب سے پہلے متاثر ہوں گے جو رپورٹنگ، نیوز رائٹنگ، یا ترجمے کا کام کرتے ہیں۔

پچھلے سال میں اسلام آباد گیا تو پیارے دوست معروف مصنف، ریسرچر، دانشور احمد اعجاز مجھے ایک یوٹیوب ڈیجیٹل ادارے میں کسی دوست سے ملوانے لے گئے۔ میزبان نے باتوں میں انکشاف کیا کہ وہ اپنے اسٹاف میں کمی کر کے بعض کام پیڈ اے آئی ٹولز سے لے رہے ہیں، خاص کر پروف ریڈنگ وغیرہ۔

یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے ،کیا اے آئی انسانی تخلیقی صلاحیت کا متبادل بن سکتی ہے؟ میرا جواب واضح ہے، ’نہیں، ہرگز نہیں‘۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ اے آئی وہ لکھ سکتی ہے جو پہلے سے لکھا جا چکا ہے۔ وہ پرانے خیالات کو نئے انداز میں پیش کر سکتی ہے۔ مگر وہ نیا خیال نہیں سوچ سکتی۔

اے آئی آپ کی والدہ کے گھر کی خوشبو نہیں لکھ سکتی۔ وہ احمد پور شرقیہ کے پرانے بازار کی گرد آلود فضا کو دیکھ ہی نہیں سکتی۔ وہ ہمارے شہر کے مشہور چوک منیر شہید (چکر) کی طلسماتی دنیا کو نہیں جان سکتی۔ اے آئی مشینی سوچ ہے، ناسٹلجیا سے واقف نہیں۔ اس حسین یاد کو نہیں پرکھ سکتی جب ہم بچے اپنی ماں کے چولہے کے گرد چوکیوں پر بیٹھے توے سے اترتے گرما گرم پھلکےکا انتظار کرتے اور ماں کے مسکراتے چہرے کو دیکھتے ہوئے کھانا کھاتے۔ اے آئی اس لمحے کو نہیں پکڑ سکتی جب رمضان کے آخری دنوں میں اذان سن کر مشکبار روحانی کیفیت محسوس ہوتی۔ اے آئی وہ سب کچھ نہیں کر سکتی جو انسان کرتا ہے ،یعنی زندگی کو محسوس کرنا اور اسے سچے الفاظ میں خلوص سے پرونا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اے آئی ابھی تک بہت سے بنیادی کام نہیں کر سکتی۔ مثلاً اگر آپ اے آئی سے کہیں کہ ’لاہور کے اندرون شہر کی ایک گلی کا منظر لکھو‘ تو وہ کلیشے بھرا، عمومی، کتابی منظر لکھ دے گی، چھوٹی دکانیں، دھواں، شور۔ مگر وہ یہ نہیں لکھ سکتی کہ موچی دروازے کے قریب ایک دکان پر سرسوں کے تیل کی خوشبو آتی ہے جو آپ کو اپنی دادی کی یاد دلاتی ہے۔ یہ تخصیص، یہ شخصیت، یہ انفرادیت ، یہ صرف انسان کے پاس ہے۔ ایک اچھا صحافی ان تمام چیزوں کو، ان یادوں کو بڑی عمدگی سے بیان کر سکتا ہے۔

پھر ایک اور نکتہ جو سمجھنا ضروری ہے، اے آئی صرف ٹول ہے۔ ٹول کبھی متبادل نہیں بنتا، اگر انسان اپنی قدر سمجھے۔ کیلکولیٹر آنے سے ریاضی دان ختم نہیں ہوئے، وہ بہتر ہوئے۔ کیمرہ آنے سے مصور ختم نہیں ہوئے ،البتہ پینٹنگ کا ہنر بدل گیا۔ کمپیوٹر آنے سے ٹائپسٹ تو کم ہوئے، مگر لکھاری بڑھے۔ اے آئی آنے سے وہ صحافی ختم ہوں گے جو صرف خبر کاپی پیسٹ کرتے تھے، یا تیز رپورٹنگ کو ہی صحافت سمجھتے تھے۔ وہ صحافی نہیں ختم ہوں گے جو تخیل رکھتے ہیں، مشاہدہ رکھتے ہیں، تجزیہ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ مطالعے کی کمی کو اے آئی پورا کر سکتی ہے؟ اس کا جواب بھی مختصر اور صاف ہے، نہیں۔ اے آئی آپ کو معلومات دے سکتی ہے، مگر آپ کو ’دانش‘ نہیں دے سکتی۔ دانش وہ چیز ہے جو برسوں کے مطالعے، تجربے، اور غور و فکر سے آتی ہے۔ عبداللہ حسین کا ’اداس نسلیں‘، قرۃ العین حیدر کا ’آگ کا دریا‘ یا عالمی ادب کی بات کریں تو ٹالسٹائی کا ’وار اینڈ پیس‘ یا دستوفسکی کا ’برادرز کرامازوف‘ آپ کو اے آئی نہیں سمجھا سکتی ۔ قدرت اللہ شہاب کے شہاب نامہ کی ضخامت سے آپ ڈر کر اس کی سمری بنوا لیں تو کوئی فائدہ نہیں، شہاب نامہ کی روح آپ کو اصل کتاب سے ہی ملے گی۔ اشفاق احمد کا ’زاویہ‘ اے آئی چند سطروں میں بتا دے گی، مگر چائے پیتے ہوئے بابا اشفاق کی باتوں کا سواد آپ کو مطالعے سے ہی ملے گا۔

اس کا پورا امکان موجود ہے کہ اے آئی کے باعث وہ لوگ جو پہلے سے سست اور ہڈحرام تھے، وہ مزید سست ہو جائیں ۔ طلبہ اپنی اسائنمنٹس اے آئی سے لکھوائیں گے۔ پروفیشنلز اپنی رپورٹس اے آئی سے بنوائیں گے۔ صحافی اپنے آرٹیکلز اے آئی سے تیار کروائیں گے۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ انسان کی اپنی سوچنے کی صلاحیت کم ہو جائے گی۔ پٹھوں کی طرح دماغ کو بھی استعمال نہ کیا جائے تو وہ کمزور ہو جاتا ہے۔ اگر پوری نسل کا دماغ کمزور ہو گیا تو اگلی نسل کہاں جائے گی؟

اس لیے اے آئی کے اس دور میں اصل کامیابی انہی لوگوں کی ہو گی جو اے آئی کا استعمال ایک ٹول کی طرح کریں نہ کہ اپنے دماغ کا متبادل۔ جو لوگ اے آئی سے ریسرچ کروائیں مگر خود سوچیں، اے آئی سے ترجمہ کرائیں مگر خود ترتیب دیں، اے آئی سے معلومات لیں مگر خود تجزیہ کریں، وہی آگے بڑھیں گے۔ جو لوگ اے آئی کو سوچنے کا متبادل سمجھیں گے وہ پیچھے رہ جائیں گے۔

میں خود بھی اے آئی استعمال کرتا ہوں، ریسرچ کے لیے، نیوز سورسز ڈھونڈنے کے لیے، کبھی لمبی رپورٹ ترجمے کے لیے، لکھنے کا کام مگر خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ تجرباتی طور پر اے آئی سے بعض چیزیں لکھوائیں مگر وہ مصنوعی، مشینی، بے روح، بے رنگ ٹائپ تھیں۔ حقیقت یہ ہے کوئی بھی صحافی، کالم نگار، مصنف اگر اے آئی سے آرٹیکل لکھوائے تو چاہے وہ جتنا ہی اچھا ہو، اس کے اندر روح نہیں ہوگی۔ اپنے ہاتھ سے، اپنی سوچ سے لکھی گئی چیز اگر ماٹھی ہو تب بھی اس میں دھڑکتی روح ملے گی، احساسات ہوں گے، ایک خاص فلیور، مہک اور ٹچ ہوگا۔ آدمی جو خود لکھے اس میں اس کی ذات، اس کا تجربہ، اس کی غلطیاں، کمزوریاں شامل ہوتی ہیں اور یہی چیز تحریر کو زندہ رکھتی ہے۔

ایک اور پہلو جو بہت اہم ہے اور وہی صحافت کو بچائے گا، تخلیقی صحافت کی نظر میں اے آئی کے دور میں ’انسانی کہانی‘ کی قدر اور بڑھے گی۔ لوگ اے آئی سے بنائی گئی مصنوعی خبریں پڑھ پڑھ کر تھک جائیں گے۔ وہ حقیقی انسانی تجربہ چاہیں گے ۔کوئی ایسا مضمون جس میں لکھنے والے نے خود تجربہ کیا ہو، خود محسوس کیا ہو، خود مشاہدہ کیا ہو۔ وہ صحافی جو اپنے پاؤں پر چل کر کہانی تک پہنچتے ہیں، لوگوں سے ملتے ہیں، ان کے گھروں میں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں، ان کی اہمیت اور بڑھے گی۔ کیونکہ اے آئی یہ سب نہیں کر سکتی۔

ہمارے ہاں صحافت کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے پہلے ہی سے فیلڈ رپورٹنگ چھوڑ دی ہے۔ اکثر صحافی دفتر میں بیٹھ کر ایکس/ ٹویٹر سے خبریں لیتے ہیں، ٹی وی دیکھ کر اسٹوری بناتے ہیں۔ اے آئی اس سست صحافت کو مار ڈالے گی اور یہ اچھی بات ہے۔ اگر اے آئی سست صحافت کو ختم کر کے محنتی صحافت کی جگہ بنا دے، تو یہ صحافت کے لیے مفید ہو گا۔

ایک بار کسی صحافتی ورکشاپ میں خاکسار کو بلایا گیا، میں نے نوجوانوں کو ایک ہی نصیحت کی، ’اگر آپ صحافی بننا چاہتے ہیں تو 3 چیزیں سیکھیں: ’اے آئی کا استعمال سیکھیں تاکہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ دوسری، اے آئی کی حدود سمجھیں تاکہ اس کے جال میں نہ پھنسیں اور تیسری جو سب سے ضروری ہے، اپنی انسانیت کو سنبھالیں۔ اپنا مشاہدہ، اپنا تخیل، اپنا تجربہ، اپنی حساسیت۔ یہ سب چیزیں آپ کا اصل سرمایہ ہیں۔ اگر یہ آپ نے چھوڑیں تو اے آئی آپ کا متبادل بن جائے گی۔ اگر یہ آپ نے بڑھائیں تو اے آئی آپ کا ہتھیار بن جائے گی‘۔

سوچتا ہوں، شاید اگلی دہائی صحافت کی سب سے مشکل دہائی ہو گی۔ مگر اس کے بعد جو صحافت نکلے گی، وہ شاید زیادہ خالص ہو گی، زیادہ گہری ہو گی، زیادہ انسانی ہو گی۔ کیونکہ جب سب کام مشینیں کر لیتی ہیں، تب انسان کے پاس صرف وہی کام رہ جاتا ہے جو انسانی ہے یعنی سوچنا، محسوس کرنا، تجزیہ کرنا، کہانی سنانا۔ یہی صحافت کا اصل دل ہے۔ اور اس دل کو کوئی الگورتھم نہیں دھڑکا سکتا۔ آپ بھی سوچیے گا۔

 

Back to top button