LNG کی ترسیل شروع،پاکستان میں گیس کی قلت ختم ہونے کا امکان

پاکستان میں گزشتہ دو ماہ سے جاری گیس بحران ختم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے۔ تقریباً دو ماہ کے وقفے کے بعد ایل این جی کی آمد نے پاکستان کے توانائی شعبے کو بڑا سہارا فراہم کر دیا ہے۔ ایل این جی بردار جہاز “سی پیک میگیلن” پاکستان گیس پورٹ ٹرمینل پر پہنچ چکا ہے اور اس نے ری گیسفائیڈ مائع قدرتی گیس کی فراہمی شروع کر دی ہے۔ اسی کے ساتھ حکومت نے قطر سے رکے ہوئے چار ایل این جی کارگو حاصل کرنے کی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں۔ جس کے بعد آنے والے دنوں میں ملک میں گیس کی قلت ختم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار مکعب میٹر ایل این جی لے کر آنے والا جہاز پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم لمیٹڈ کے زیر انتظام ٹرمینل پر لنگر انداز ہوچکا ہے۔ یہ کارگو ٹوٹل انرجیز کے ذریعے 18.40 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے حاصل کیا گیا۔ ری گیسفیکیشن کا عمل ابتدا میں 50 ایم ایم سی ایف سے شروع کیا گیا جسے بعد میں بڑھا کر 260 ایم ایم سی ایف تک کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق فراہم کردہ گیس میں سے 45 ایم ایم سی ایف کے الیکٹرک کو دی جا رہی ہے جبکہ باقی گیس سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے نیٹ ورک میں شامل کی جا رہی ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق 30 اپریل تک ملک میں لوڈ مینجمنٹ صفر رہی، اور نئی ایل این جی سپلائی سے گرمیوں میں بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر بجلی کے نظام پر دباؤ میں مزید کمی کی توقع ہے، دوسری جانب حکومت 10 سے 12 مئی کے درمیان ایک اور ایل این جی کارگو حاصل کرنے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے، جس کے لیے اوپن ٹینڈر یا سوکار کے ذریعے خریداری پر غور کیا جا رہا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اس وقت قطر سے آنے والے چار ایل این جی کارگو حاصل کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے، جو آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام محفوظ راستہ یقینی بنانے کے لیے سفارتی رابطے بھی کر رہے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایک ڈیزل بردار جہاز کی کامیاب آمد کے بعد امید پیدا ہوئی ہے کہ ایل این جی کارگو بھی جلد پاکستان پہنچ جائیں گے، جس سے آئندہ ہفتوں میں توانائی کی صورتحال مزید بہتر ہو سکتی ہے۔
