عوام پر پٹرول بم گرنے سے آئل ریفائنریز کو اربوں کا منافع

وفاقی حکومت کی جانب سے بار بار عوام پر پٹرول بم گرانے سے جہاں عوام کی چیخیں آسمان کی بلدنی کو چھوتی دکھائی دیتی ہیں وہیں دوسری جانب حکومتی پالیسیوں سے آئیل ریفائنریز گزشتہ ایک ماہ میں اربوں کا منافع حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا نظام ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں ہے، جہاں قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں تبدیلی کے باوجود عوام کو کوئی خاطر خواہ ریلیف نہ مل سکا، جبکہ مقامی ریفائنریز نے اربوں روپے کا غیر معمولی منافع کما لیا۔ تازہ اعداد و شمار اور انڈسٹری ذرائع کی معلومات نے اس پورے نظام میں موجود ایک بڑے تضاد کو بے نقاب کر دیا ہے، جس نے پالیسی سازی اور ریگولیٹری عمل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے اپریل 2026 میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں تبدیلی کا اعلان کیا تاھ تاکہ مقصد عوام کو ریلیف دیتے ہوئے قیمتوں میں توازن پیداکیا جا سکے۔ تاہم عملی طور پر یہ تبدیلی محدود ثابت ہوئی اور قیمتوں میں وہ کمی نہ آ سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس صورتحال نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ آیا مسئلہ صرف فارمولے میں تھا یا اس کے نفاذ اور نگرانی میں بھی کمزوریاں موجود ہیں۔

تیل کے شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق اصل مسئلہ “کریک سپریڈ” میں غیر معمولی اضافے کا تھا، جسے بروقت کنٹرول نہیں کیا گیا۔ مارچ 2026 کے دوران یہ فرق غیر معمولی حد تک بڑھ گیا، جہاں ڈیزل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے مقابلے میں تقریباً 180 فیصد تک پہنچ گئی، جو کہ تاریخی طور پر ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔ اگر اس فرق کو بروقت ایڈجسٹ کر لیا جاتا تو قیمتوں میں اتنا بڑا بگاڑ پیدا نہ ہوتا۔ تاہم دوسری جانب مارچ کا مہینہ ریفائنریز کے لیے غیر معمولی منافع کا سبب بنا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس دوران ڈیزل کی اوسط قیمت 193.96 ڈالر فی بیرل رہی جبکہ خام تیل 108.45 ڈالر فی بیرل کے قریب تھا، جس کے نتیجے میں ریفائنریز کوفی لیٹر تقریباً 121 روپے تک اضافی مارجن حاصل ہوا۔ اسی غیر معمولی فرق کی بدولت مقامی ریفائنریز نے صرف ایک ماہ میں تقریباً 60 ارب روپے کا اضافی منافع کمایا، جس میں سے ایک بڑا حصہ ماہ کے آخری ہفتے میں حاصل کیا گیا۔

اس تمام صورتحال میں حکومتی ردعمل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام کو اس غیر معمولی فرق کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا، مگر بروقت اقدامات نہ کیے جا سکے۔ اگر یہ اصلاحی اقدامات مارچ کے آغاز میں ہی نافذ کر دیے جاتے تو نہ صرف قیمتوں میں توازن پیدا ہو سکتا تھا بلکہ عوام کو بھی بڑے مالی بوجھ سے بچایا جا سکتا تھا۔

اپریل میں حکومت نے صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تین ماہ کے لیے “کاسٹ پلس” فارمولہ متعارف کروایا، جس کے تحت کریک سپریڈ کو ایک مخصوص حد تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگرچہ اس اقدام سے قیمتوں میں کچھ کمی ضرور آئی، لیکن مسئلہ مکمل طور پر حل نہ ہو سکا۔ اپریل کے دوران بھی ڈیزل کی قیمت خام تیل کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی اور تقریباً 100 روپے فی لیٹر تک اضافی مارجن برقرار رہا، جبکہ مجموعی قیمت اب بھی حقیقی سطح سے تقریباً 30 روپے فی لیٹر زیادہ رہی۔

ریفائنریز کے مالیاتی نتائج بھی اس رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ جنوری سے مارچ 2026 کے دوران چار بڑی ریفائنریز نے مجموعی طور پر 72.2 ارب روپے کا منافع ظاہر کیا، جو اس سے قبل کے چھ ماہ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ منافع میں یہ غیر معمولی اضافہ بنیادی طور پر اسی عرصے میں ہونے والے قیمتوں کے فرق کا نتیجہ تھا۔

دوسری جانب مارکیٹ ذرائع اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار عوام کے لیے ایک نئی آزمائش بن سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر قیمتوں کو خام تیل کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقے سے ہم آہنگ نہ کیا گیا اور اضافی منافع کی ریکوری نہ کی گئی تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پیٹرولیم قیمتوں کا موجودہ نظام ایک پیچیدہ مگر نہایت اہم چیلنج بن چکا ہے، جہاں پالیسی میں تاخیر، ریگولیٹری کمزوری اور عالمی قیمتوں کے غیر متوازن اثرات نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں فائدہ محدود حلقوں کو جبکہ نقصان عام عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اب یہ حکومت کے لیے ایک اہم امتحان ہے کہ آیا وہ اس نظام میں حقیقی اور مؤثر اصلاحات لا سکتی ہے یا نہیں۔

Back to top button