نئے گھریلو گیس کنکشنز کی فراہمی پر ایک بار پھر پابندی عائد

پاکستان میں توانائی کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں ملک بھر میں گیس کی قلت میں اضافہ ہو گیا ہے وہیں حکومت نے نئے گھریلو گیس کنکشنز پر دوبارہ پابندی عائد کر دی ہے، جس نے ہزاروں درخواست دہندگان کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس بحران کی بنیادی وجہ درآمدی مائع گیس آر ایل این جی کی سپلائی میں تعطل ہے، جس کے باعث گیس کی مجموعی دستیابی متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکام نے فوری طور پر نئے کنکشنز کے اجرا کو روکنے کا فیصلہ کیا تاکہ موجودہ صارفین کو کسی حد تک سپلائی برقرار رکھی جا سکے۔
سوئی ناردرن گیس کمپنی کے سینئر جنرل منیجر عمران یوسف نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث یہ فیصلہ عارضی طور پر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق جیسے ہی گیس کی سپلائی بہتر ہوگی، نئے کنکشنز کے اجرا کا عمل فوری طور پر دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔ تاہم، اس فیصلے کے اثرات پہلے ہی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ تمام درخواستیں جو پہلے جمع کروائی جا چکی تھیں، ان پر بھی عملدرآمد فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے، جس سے شہریوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو طویل عرصے سے گیس کنکشن کے منتظر تھے، اب مزید انتظار پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گیس کے ذخائر میں مسلسل کمی اور درآمدی گیس پر بڑھتا ہوا انحصار اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اگر اس صورتحال کا بروقت اور مؤثر حل نہ نکالا گیا تو آنے والے مہینوں میں، خصوصاً سردیوں کے دوران، یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو گیس کنکشنز پر پابندی ایک عارضی اقدام ضرور ہے، لیکن یہ ملک میں بڑھتے ہوئے توانائی بحران کی سنگینی کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا حکومت طویل المدتی پالیسی کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پا سکے گی یا عوام کو مستقبل میں بھی اسی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
