مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے بادل کیوں منڈلانے لگے؟

مشرقِ وسطیٰ پر ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق امریکی فوجی قیادت تہران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے منصوبے پر صدر ٹرمپ کو بریفنگ دینے والی ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹس کے مطابق سینٹرل کمانڈ نے ایران پر مختصر مگر شدید فضائی حملوں کی حکمت عملی تیار کر رکھی ہے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر ایک نیا عالمی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کی ضرورت پیش آ سکتی ہے، تاکہ ایران پھر اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔صدرٹرمپ اور نیتن یاہو مل کر اس مہم کے مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں،ہم اس کوشش کی حمایت کرتے ہیں لیکن یہ ممکن ہے کہ ان مقاصد کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں جلد ہی دوبارہ کارروائی کرنی پڑے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدہ ہونے تک ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
دوسری جانب اس حوالے سے ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور خلیجی ممالک کا مستقبل مشترک ہے اور خطے میں فساد پھیلانے والے غیر ملکی عناصر کا انجام تباہی ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کا ہر صورت دفاع کرے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ سیز فائر کے باوجود امریکی ناکہ بندی دراصل جارحیت کا تسلسل ہے، جو ناقابل برداشت ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ایرو اسپیس کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید ماجد موسوی نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو خطے میں اس کے اڈوں اور طیارہ بردار جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آبنائے ہرمزپرتہران کا کنٹرول خطے میں امریکی موجودگی سے پاک مستقبل کو یقینی بنائے گا۔سوشل میڈیا پر ان کا کہنا تھا کہ آج آبنائے ہرمز کے انتظام کے ذریعے ایران اپنے اور پڑوسیوں کو امریکی موجودگی اور مداخلت سے پاک مستقبل کی بیش قیمت نعمت فراہم کرے گا۔
تاہم اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کو عالمی معیشت کے لیے خطرہ قرار دیا، جبکہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا کہ دنیا ایک بڑے توانائی بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچیں، جو گزشتہ چار برس کی بلند ترین سطح ہے، تاہم بعد ازاں یہ کم ہو کر 113 ڈالر تک آ گئیں۔
