حکومتی ہاؤسنگ سکیم آئینی بحران کی زد میں کیوں؟

وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ہاؤسنگ فنانس سکیم بظاہر کم آمدنی والے طبقے کیلئے امید کی کرن بن کر سامنے آئی ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک ایسا آئینی اور قانونی تضاد چھپا ہوا ہے جو مستقبل میں بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ 3.2 کھرب روپے کی اس بھاری بھرکم سکیم کا مقصد لاکھوں افراد کو اپنے گھر کی سہولت فراہم کرنا ہے، لیکن اس کا بنیادی ڈھانچہ سودی قرضوں پر مبنی ہونے کے باعث اسے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
حکومتی ہاؤسنگ سکیم کے تحت حکومت نے پانچ سال کے دوران پانچ لاکھ گھروں کی فنانسنگ کا ہدف رکھا ہے، جہاں ایک کروڑ روپے تک کے قرضے 20 سالہ مدت کیلئے فراہم کیے جائیں گے۔ ابتدائی طور پر پہلے 10 سال کیلئے 5 فیصد مارک اپ رکھا گیا ہے، جبکہ بعد میں اسے مارکیٹ ریٹ سے منسلک کر دیا جائے گا۔ بظاہر یہ ایک سہل اور عوام دوست منصوبہ دکھائی دیتا ہے، لیکن آئینی تقاضوں کے تناظر میں یہ ماڈل کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
پاکستان کے آئین کے مطابق ملک کے مالیاتی نظام سے سود (ربا) کے مکمل خاتمے کیلئے یکم جنوری 2028 کی واضح ڈیڈ لائن مقرر کی جا چکی ہے۔ ایسے میں ایک ایسی سکیم کا آغاز، جس میں سودی قرضے نہ صرف جاری رہیں بلکہ 2028 کے بعد بھی دہائیوں تک چلتے رہیں، ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سکیم کے تحت جاری کیے جانے والے قرضے اپنی طویل مدت کے باعث اس ڈیڈ لائن سے کہیں آگے تک سودی ادائیگیوں کو برقرار رکھیں گے، جو آئین کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مزید برآں، سکیم کا ڈھانچہ بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ پہلے 10 سال کیلئے مقررہ شرح سود اور بعد میں مارکیٹ ریٹ پر منتقلی نہ صرف سودی نظام کو برقرار رکھتی ہے بلکہ اس کے دائرہ کار کو بھی وسیع کرتی ہے۔ اس صورتحال میں یہ سوال شدت اختیار کر جاتا ہے کہ آیا حکومت نے اس اہم آئینی پہلو پر خاطر خواہ غور کیا بھی ہے یا نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس پروگرام کو ایک “مقدس فریضہ” قرار دیتے ہوئے اسے معاشی ترقی اور روزگار کے فروغ کا ذریعہ بتایا ہے۔ بلاشبہ تعمیراتی شعبہ کسی بھی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور ایسے منصوبے معاشی سرگرمیوں کو بڑھا سکتے ہیں۔ تاہم، جب کسی پالیسی کا تصادم آئینی اصولوں سے ہو جائے تو اس کی افادیت بھی سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی اس سکیم کو پائیدار اور آئینی بنانا چاہتی ہے تو اسے سود سے پاک یا شریعت کے مطابق مالیاتی ماڈلز، جیسے اسلامی بینکاری، کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، یہ منصوبہ عدالتوں میں چیلنج ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں نہ صرف حکومتی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ لاکھوں درخواست دہندگان بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں۔ناقدین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک ہاؤسنگ سکیم کا نہیں بلکہ ریاستی پالیسی، آئینی تقاضوں اور عوامی توقعات کے درمیان توازن کا امتحان ہے۔ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو “اپنا گھر” کا خواب ایک نئے قانونی اور آئینی تنازع میں بدل سکتا ہے۔
