امریکہ کی کوریا سے ایران تک 5بڑی جنگیں،کھربوں کا نقصان،لاکھوں ہلاکتیں

کوریا سے ایران تک گزشتہ 76 برسوں میں امریکا کی پانچ بڑی جنگوں نے عالمی سیاست، انسانی زندگیوں اور معیشت پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ ان جنگوں میں مجموعی طور پر 15983 کھرب روپے کے اخراجات ہوئے جبکہ ایک لاکھ سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور 44 لاکھ 79 ہزار سویلین جان سے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ امریکی فوجی ویتنام جنگ میں مارے گئے جن کی تعداد 58,220 رہی۔ ایران جنگ کے دوران 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ عراق جنگ میں 4,431 امریکی فوجیوں کے مقابلے میں تقریباً 3 لاکھ شہری ہلاک ہوئے، یعنی ہر ایک امریکی فوجی کے بدلے اوسطاً 68 شہری مارے گئے۔ افغانستان جنگ میں 2,461 امریکی فوجیوں کے مقابلے میں تقریباً 1 لاکھ 76 ہزار شہری ہلاک ہوئے، جہاں یہ تناسب 72 شہری فی فوجی رہا۔
2001 کے بعد جنگوں کے اثرات کا جائزہ لینے والے “کاسٹ آف وار پروجیکٹ” کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 9 لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔کوریا جنگمیں بھی 36,574 امریکی فوجیوں کے مقابلے میں تقریباً 20 لاکھ شہری مارے گئے، جبکہ ویتنام جنگ میں 58,220 امریکی فوجیوں کے مقابلے میں تقریباً 20 لاکھ شہری ہلاک ہوئے۔تازہ ایران جنگ کے دوران بھی انسانی نقصان اور معاشی اثرات نمایاں رہے۔ رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے جاری کشیدگی میں کم از کم 3,375 افراد ہلاک ہوئے جبکہ امریکی فوج کے مطابق 13 اہلکار ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔
معاشی لحاظ سے عراق جنگ پر تقریباً 5575 کھرب روپے (2 ٹریلین ڈالر) خرچ ہوئے، جس میں یومیہ اوسط خرچ ایک کھرب 90 ارب روپے (684 ملین ڈالر) رہا۔ افغانستان جنگ پر تقریباً 6411 کھرب روپے (2.3 ٹریلین ڈالر) خرچ ہوئے، جس کا یومیہ اوسط 315 ملین ڈالر رہا۔تازہ اندازوں کے مطابق ایران جنگ کے معاشی اثرات تقریباً 77 کھرب روپے تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ اس کے نتیجے میں فی گھرانہ 200 ڈالر تک اضافی بوجھ اور ایندھن کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 1950 کی دہائی سے اب تک امریکی قیادت میں ہونے والی جنگوں میں شہری ہلاکتوں کا تناسب فوجی ہلاکتوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رہا ہے، جو جنگی حکمت عملیوں کے تباہ کن انسانی اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔مجموعی طور پر کوریا سے ایران تک کی ان جنگوں نے نہ صرف انسانی تاریخ کو متاثر کیا بلکہ عالمی معیشت کو بھی اربوں کھربوں کے نقصان سے دوچار کیا، اور حالیہ ایران تنازع اس رجحان کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
