دہشتگردوں کی دھلائی کے بعد شرپسندانہ کارروئیوں میں ریکارڈ کمی

ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز اور خاص طور پر “آپریشن غضب للحق” کے مثبت اور واضح اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 کے دوران دہشت گرد حملوں میں 42 فیصد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جسے ملکی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کی طرف ایک اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICS) کے مطابق اپریل کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے 85 حملے ریکارڈ ہوئے، جبکہ مارچ میں یہی تعداد 146 تھی۔ اس طرح ایک ماہ کے اندر حملوں کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم ان حملوں کے نتیجے میں اپریل کے دوران 67 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 28 سیکیورٹی اہلکار، 37 عام شہری اور دو امن کمیٹی کے ارکان شامل ہیں۔ مارچ کے مقابلے میں ہلاکتوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے، کیونکہ اس ماہ 106 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس طرح نہ صرف حملوں کی تعداد کم ہوئی بلکہ جانی نقصان میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بھی اس عرصے میں انتہائی مؤثر رہیں، جن کے نتیجے میں اپریل کے دوران 224 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔ یہ کارروائیاں مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جس سے دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا۔ اسی دوران سیکیورٹی اہلکاروں کے جانی نقصان میں بھی واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مارچ میں 59 اہلکار شہید ہوئے تھے جبکہ اپریل میں یہ تعداد کم ہو کر 28 رہ گئی، جو سیکیورٹی آپریشنز کی مؤثریت کو ظاہر کرتی ہے۔ اپریل کے دوران مجموعی طور پر 100 افراد زخمی ہوئے، جن میں 54 عام شہری اور 46 سیکیورٹی اہلکار شامل تھے۔ مارچ کے مقابلے میں زخمیوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے، جہاں شہری زخمیوں کی تعداد 98 سے کم ہو کر 54 پر آ گئی، جبکہ زخمی اہلکاروں کی تعداد 48 سے کم ہو کر 46 ریکارڈ کی گئی ہے۔

تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق اپریل میں ہونے والے بیشتر حملے کم شدت کے تھے، تاہم کچھ بڑے واقعات بھی رپورٹ ہوئے جن میں خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں دو خودکش حملے اور بلوچستان کے ضلع چاغی کے دالبندین علاقے میں نیشنل ریسورس کمپنی کی کان کنی تنصیب پر بڑا حملہ شامل ہے۔ علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ حملے رپورٹ ہوئے، جس کے بعد بلوچستان کا نمبر آتا ہے۔ اس کے برعکس پنجاب، سندھ، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں کسی بڑے حملے کی اطلاع نہیں ملی، جو نسبتاً بہتر سیکیورٹی صورتحال کی علامت ہے۔ تاہم ان علاقوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں، جن کے نتیجے میں 8 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2026 کے پہلے چار ماہ کے دوران مجموعی طور پر 401 دہشت گرد حملے ریکارڈ ہوئے، جن میں 190 شہری، 158 سیکیورٹی اہلکار اور 7 امن کمیٹی کے ارکان جان کی بازی ہار گئے۔ اسی عرصے میں 469 شہری اور 167 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے 988 دہشت گردوں کو ہلاک اور 121 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ مجموعی طور پر یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز، خاص طور پر “آپریشن غضب للحق”، کے اثرات آہستہ آہستہ نمایاں ہو رہے ہیں۔ اگرچہ خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، تاہم حملوں میں کمی اور سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں ایک مثبت رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں۔

Back to top button