اگر امریکیوں نے کلنٹن کو معاف نہیں کیا تو عمران کیلیے معافی کیسے؟

کرپشن کے الزامات پر اڈیالہ جیل میں بند عمران خان کو سیاسی قیدی قرار دے کر ان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے ٹرمپ کے مشیر رچرڈ گرینیل شاید بھول گئے کہ بانی پی ٹی آئی کو شک کا فائدہ دینے والے امریکیوں نے اپنے وقت کے مقبول ترین صدر بل کلنٹن کو مونیکا لیونسکی کیس میں شک کا فائدہ نہیں دیا تھا اور ان کا ٹرائل کروا دیا تھا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں معروف صحافی روؤف کلاسرا ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکی عہدیدار عمران خان کے خلاف درج مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں حالانکہ ان کے خلاف کرپشن کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ امریکیوں کے نزدیک عمران خان کا کسی سے عطیات کے نام پر چار سو کنال زمین وصول کرنا، تیس کروڑ روپے نقد عطیہ لینا‘ ہیرے جواہرات کی انگوٹھیاں وصول کرنا یا سعودی شاہی خاندان کی جانب سے دیے گے کروڑوں روپوں کے تحائف دبئی میں بیچ کر منافع کمانا کوئی جرم نہیں۔ امریکیوں کے نزدیک یہ سب کرپشن نہیں بلکہ سیاسی مقدمات ہیں۔
روؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے ہم جنس پرست مشیر رچرڈ گرینیل ایک امریکی ہونے کے باوجود شاید بھول گے کہ امریکی اپنے لیے جس لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں وہ اس کا معمولی سا جھوٹ بھی برداشت نہیں کرتے۔ کلاسرا یاف دلاتے ہیں کہ امریکی عوام نے مونیکا لیونسکی کیس میں صدر بل کلنٹن کا کانگریس سے ٹرائل کروایا تھا جسے ٹی وی پر براہِ راست دنیا بھر کو دکھایا گیا۔ کلنٹن صرف ایک جھوٹ بول کر بدنام ہوا‘ پھر دیوالیہ ہوا اور پھر مقروض ہو گیا کیونکہ امریکیوں نے دل بڑا نہ کیا۔
روؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ وہی امریکی عمران خان کو کرپشن کرنے کے باوجود مظلوم سمجھتے ہیں۔ جو رعایت یا شک کا فائدہ امریکی عمران کو دے رہے ہیں‘ وہی شک کا فائدہ انہوں نے بل کلنٹن کو نہیں دیا تھا۔ اس کا جرم ایک معمولی سا جھوٹ بولنا ہی تو تھا۔ اس پر اپنے منتخب صدر کو اتنا بدنام کرنے‘ اس کا ٹرائل کرنے اور اسے دیوالیہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
کلاسرا بتاتے ہیں کہ مونیکا لیوِنسکی سکینڈل کے بعد بل کلنٹن کے خلاف ہونے والی لیگل کارروائی کے اخراجات صدر نے خود ادا کیے تھے۔
یاد رہے کہ صدر کلنٹن پر مونیکا لیونسکی سے تعلقات کی نوعیت بارے ایک بڑا الزام جھوٹ بولنے کا الزام تھا۔ اس جھوٹ پر کلنٹن کو صدارت سے ہٹانے کیلئے کانگریس نے کارروائی شروع کی۔ کیس کی کارروائی کے دوران کلنٹن لاکھوں ڈالرز کا مقروض ہو گیا کیونکہ اسے وکیل درکار تھے اور یہ وکیل وائٹ ہائوس کے بجٹ سے نہیں لیے جا سکتے تھے۔ کلنٹن کو اپنی جیب سے تمام اخراجات ادا کرنا تھے۔ لہٰذا جب وہ وائٹ ہائوس سے نکلا تو لاکھوں ڈالرز کا قرض اس کے کندھوں پر تھا۔ اسے راتوں کو نیند نہیں آتی تھی کہ وہ یہ قرض کیسے اتارے گا۔ بعد میں اس نے مختلف فورمز پر لیکچر دے کر اور اپنی خود نوشت کی رائلٹی اکٹھی کر کے اپنا قرض اتارا۔
عسکری حلقوں نےعمران کی رہائی کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا
کلاسرا کہتے ہیں کہ اب میں دوبارہ بل کلنٹن کی طرف آتا ہوں کہ اس کہانی میں وہ کہاں فٹ ہو رہا ہے۔ آپ ذرا ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے مشیر رِچرڈ گرینیل کے ٹویٹس پڑھیں۔ وہ عمران خان کو رہائی دلانے کے مطالبے کر رہے ہیں۔ جو بات اہم ہے وہ یہ کہ عمران خان پر لگنے والے کرپشن الزامات کو وہ الزامات نہیں بلکہ سیاسی انتقام سمجھ رہے ہیں۔ یعنی امریکیوں کے نزدیک پاکستان کے قوانین اور عدالتی پراسیس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ لہٰذا رچرڈ گرینیل عمران خان کو بھی ایک سیاسی قیدی سمجھتا ہے جسے فوراً رہا کیا جانا چاہیے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ نے پاکستان کی جانب سے بار بار عافیہ صدیقی کی رہائی کا جو مطالبہ کیا ہے اس سے تسلیم کیا گیا جو پاکستان عمران کی رہائی کا مطالبہ تسلیم کرے گا۔ اگر امریکی قوانین منہ اٹھا کر کسی قیدی کی رہائی کی اجازت نہیں دیتے تو کیا پاکستان میں قوانین نہیں ہیں؟
