اگر اقتدار فوج کا ہے تو ناکامیاں حکومتی کھاتے میں کیوں پڑ رہی ہیں؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ 80 ہزار شہادتیں دینے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ ’اگر مگر‘ کا شکار ہے جبکہ انتہا پسندی کے خلاف بیانیے کا انحصار بھی ’چونکہ چنانچہ‘ پر ہے جو کہ ایک افسوسناک المیہ ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ ہم پاکستانی بحیثیت قوم آج کہاں کھڑے ہیں اور ہمارا ملک کہاں کھڑا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر نئے چیلنجز ابھر رہے ہیں جن میں سب سے بڑا چیلنج امن و امان کا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ لا اینڈ ارڈر کی صورتحال بہتر بنائے بغیر معیشت اور معاشی استحکام لانا ممکن نہیں ہوگا؟ لیکن بڑا سوال یہ بھی ہے کہ امن کا قیام ہر دس سال بعد ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج کیوں بن جاتا ہے، شاید اس کی ایک وجہ پاکستان کا سکیورٹی سٹیٹ ہونا ہے جو کہ خود ایک المیہ ہے۔
عاصمہ کے بقول المیہ تو یہ بھی ہے کہ 80 ہزار لوگوں کی جانیں قربان کرنے کے باوجود پاکستان کو ایک نئی جنگ کا سامنا ہے۔ یہ بھی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ دراصل ایک پرانی جنگ خون آشام پنجے کھولے ہمارے سامنے کھڑی ہے؟ تحریک طالبان، داعش اور خراسان یہ سب ایک جسم مگر انکے نام مختلف ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ تمام دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کے خلاف اکٹھی ہیں، ان کا بنیادی مقصد پاکستان اور اس کی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا اور مملکت خداداد کو کمزور کرنا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ اس پرانی جنگ کے نئے روپ کا نیا انداز کیا ہو گا، کیا اس کا اندازہ کسی کو ہے؟
عاصمہ شیرازی کے بقول پاکستان میں دہشت گردی کا سوئچ اچانک آن نہیں ہوا، البتہ اس کا رخ مذہبی اداروں اور شخصیات کی جانب کیسے مڑا ہے یہ سوال اہم اور سنجیدہ ہے۔ داعش یا خراسان کا وجود مشرق وسطیٰ کی بھیانک جنگ کی صورت سامنے کھڑا ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تمام انتہا پسند اور علیحدگی پسندوں کے گٹھ جوڑ نے افغانستان اور ایران سے جڑے دو صوبوں کے امن کو تہ و بالا کر رکھا ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی مذہبی منافرت کی سازشیں عروج پر ہیں۔ ایران میں ایک نئی صورت حال جنم لے رہی ہے جس کا ادراک ہمیں ابھی سے کرنا ہو گا۔ سندھ میں قوم پرستی نے دوبارہ سر اٹھایا ہے جس کی وجہ سندھ سے نئی نکالی جانے والی نہریں ہیں۔
عاصمہ شیرازی بتاتی ہیں کہ سندھ میں پہلی بار نہروں کے مسئلے پر قوم پرست اور قومی سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر آ گئی ہیں۔ چولستان میں ایس آئی ایف سی اور فوج کی سرپرستی میں شروع کی جانے والی کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر سندھ کے پانی کی تقسیم پر جماعتیں سراپا احتجاج اور سول سوسائٹی شکوہ کناں ہیں، سندھ کی زرخیز زمین سے پانی چھین کر صحراؤں کو سیراب کرنا کون سی حکمت عملی ہے اور اس سے ارباب اختیار کے ہاتھ کیا آئے گا، سمجھ سے بالاتر ہے۔ دوسری جانب اس مسئلے پر آئے دن ہونے والے احتجاج قومی میڈیا سے سرے غائب ہیں۔ اس قدر حساس منصوبے پر بغیر رائے عامہ ہموار کیے اور عوامی جماعتوں کو ساتھ لیے کس طرح آناً فاناً عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔ اس موضوع سمیت کسی بھی اہم مسئلے پر اب تک مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس تک نہیں بلایا گیا حالانکہ صدر اصف زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران بھی اس معاملے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ مانا کہ یہ جمہوریت نہیں ہے لیکن اس ہائبرڈ پلس ’بندوبست‘ میں کم از کم کچھ تو پردہ رکھنا چاہیئے تھا۔ اس حکومت کی تشکیل کے ایک سال میں جہاز نما وفاقی کابینہ کی تشکیل مشرق سے مغرب تک وزرا کا انتخاب اور پیپلز پارٹی کی ’مجبوریوں‘ کے باوجود کابینہ میں عدم شمولیت حکومت کے استحکام کی نہیں بلکہ غیر مستحکم ہونے کی دلیل ہے۔ بظاہر شہباز حکومت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تاہم سیاست بنا ریاست اور بیانیے کے چلانا جمہوری تاثر نہیں دیتا۔ حکومت معاشی اشاریوں میں بہتری کا ایک حد تک دعویٰ تو کر سکتی ہے مگر سیاسی طور پر کمزور حکومت کی حیثیت کسی طور ایک ٹیکنو کریٹک سیٹ اپ سے زیادہ نہیں ہے جہاں فیصلہ سازی منتخب حکومت نہیں بلکہ طاقتور فیصلہ ساز کرتے ہیں۔
خاتون صحافی کا کہنا ہے کہ سیاسی مکالمے کی عدم موجودگی اور سویلین بالادستی تو دور کی بات، سیاسی نظام کی موجودگی کا سوال بھی اپنی حیثیت کھو چکا ہے۔ جہاں حکومتی کامیابیاں ایس آئی ایف سی یعنی فوج کی چھتری تلے چلنے والی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی مرہون منت ہوں اور ناکامیاں ن لیگ کے کھاتے میں، وہاں اقتدار کیسا اور اختیار کیسا؟ موجودہ حکومت کے ایک سال میں سیاسی، معاشی اور داخلی محاذ پر چیلنجز سے نمٹنے کا حساب لگائیں تو دو دونی ایک یعنی منفی پارلیمان ہے۔
صدر ٹرمپ نے عمران کے یوتھیوں کو رونے دھونے پر کیسے لگا دیا ؟
عالمی سطح پر بدلتے حالات اور ریاست کو درپیش چیلنجز پر پارلیمان جیسے اہم فورم پر بحث تک کا نہ ہونا اس بات کا اظہار ہے کہ پارلیمنٹ کی حیثیت اب ربڑ سٹیمپ جیسی بھی نہیں رہی۔ کم از کم پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے اور بتایا جائے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
