IMF کی گورننس اور کرپشن کی تشخیصی رپورٹ میں مالیاتی بدنظمی پر کڑی تنقید

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں مالیاتی نظم و نسق، نقدی کی نگرانی اور سرکاری وسائل کی تقسیم کے نظام میں ابھی بھی شدید کمزوریاں موجود ہیں، اور اس نے مطالبہ کیا ہے کہ سنگل ٹریژری اکاؤنٹ (ٹی ایس اے) کے بہاؤ میں شفافیت اور مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے تاکہ ٹیکس دہندگان کے پیسے کے غلط استعمال کے امکانات کم سے کم ہوں۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے گزشتہ دو سالوں میں کچھ بہتری دکھائی، لیکن مسلسل کمزور بجٹ کی ساکھ نے کئی بڑے گورننس مسائل کو جنم دیا ہے۔ عوامی سرمایہ کاری کے انتظام میں متعدد خامیاں ہیں، جس کے باعث منصوبے وقت پر مکمل نہیں ہوتے، فنڈنگ میں خلل آتا ہے اور لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔

آئی ایم ایف نے 3 سے 6 ماہ کے اندر فوری اقدامات کرنے پر زور دیا ہے تاکہ ٹی ایس اے کے ادارہ جاتی دائرہ کار کو یکجا کیا جا سکے، نقدی کے مؤثر انتظام کو بہتر بنایا جا سکے، اور مالیاتی اندازوں کے لیے مستقبل بینی پر مبنی نظام اپنایا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمزور ٹی ایس اے فریم ورک اور واضح ادارہ جاتی حدود کے فقدان نے حکومت کے نقدی بیلنس پر کنٹرول کمزور کر دیا ہے، جس سے عوامی فنڈز کے غیر مؤثر استعمال اور بدعنوانی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ مزید یہ کہ مختلف اکاؤنٹس میں بکھری ہوئی نقدی کے باعث غیر ضروری بیلنس پیدا ہوتے ہیں، جنہیں حکومتی ترجیحات کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

آئی ایم ایف نے قرض کے موجودہ نظام کی بھی نشاندہی کی ہے، جس میں کئی ادارے شامل ہیں، مگر اختیارات اور ذمہ داریاں غیر واضح ہیں، جس سے فیصلہ سازی اور ہم آہنگی مشکل ہو گئی ہے۔ بجٹ کے وسائل استعمال کرنے والے ادارے اکثر روایتی مالیاتی احتساب سے باہر کام کرتے ہیں، جس سے بدعنوانی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی نگرانی کمزور ہو گئی ہے، کیونکہ منظور شدہ بجٹ اور حقیقی اخراجات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، قومی اسمبلی نے 25-2024 میں 9 کھرب 40 ارب روپے اضافی اخراجات کی منظوری دی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔

آئی ایم ایف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کمزوریوں کے حل کے لیے مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانا، بدعنوانی کے خطرات کم کرنا اور سرکاری مالیاتی انتظام کاری کی کارکردگی بہتر کرنا ناگزیر ہے۔

اگرچہ وزارت خزانہ نے نقدی اور قرض کے انتظام کے لیے فریم ورک قائم کیا ہے، مگر اس پر عمل درآمد کمزور رہا ہے۔ کیش کوآرڈینیشن کمیٹی (سی سی سی) اور کیش فورآسٹنگ یونٹ (سی ایف یو) کے قیام کے باوجود، سی ایف یو ابھی فعال نہیں اور سی سی سی کے اجلاس غیر باقاعدہ طور پر ہوتے ہیں، جس سے نقدی کے اندازے اور قرض کے مؤثر پروگرام متاثر ہو رہے ہیں۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ کمزور بجٹ کنٹرول کی وجہ سے اخراجات کے کئی مراحل دستی طور پر انجام دیے جاتے ہیں اور بجٹنگ سسٹم میں شامل نہیں ہوتے، جس سے بجٹ کے نفاذ کے دوران گورننس کی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں۔

Back to top button