خیبر پختون خواہ میں بھی تحریک انصاف کا صفایا شروع

ہری پور ہزارہ میں جنرل ایوب خان کی آبائی نشست پر ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی مسلم لیگ نون کے ہاتھوں غیر معمولی شکست کے بعد یہ تاثر زور پکڑ گیا ہے کہ عمران خان کی محاذ آرائی کی سیاست نے پی ٹی آئی کو اس کے مضبوط ترین گڑھ خیبر پختونخواہ میں بھی غیر مقبول بنا دیا ہے۔ عمر ایوب خان کی اہلیہ کی شکست نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا خیبر پختون خواہ کے عوام اب پارٹی کی احتجاجی سیاست سے مایوس ہو کر نئے سیاسی متبادل چننے لگے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے خیبر پختون خواہ کے وزیراعلی کی تبدیلی کے بعد معاملات بہتر ہونے کی بجائے مذید ابتری کی جانب گامزن ہیں اور پارٹی کی رہی سہی سٹریٹ پاور بھی ختم ہو گئی۔ نئے وزیراعلی سہیل آفریدی کی ہری پور میں بھرپور انتخابی مہم کے باوجود تحریک انصاف کی شکست نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ صوبے میں برسوں کی حکمرانی کے باوجود پی ٹی آئی کا سیاسی گراف نیچے آتا جا رہا ہے اور عوام اب جماعت سے پہلے جیسی امیدیں نہیں رکھتے۔
سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ نون کے امیدوار بابر نواز خان نے 163,996 ووٹ حاصل کیے جبکہ تحریک انصاف کی حمایت یافتہ امیدوار شہرناز عمر ایوب 120,220 ووٹ لے سکیں۔ یوں جنرل ایوب خان کی اس خاندانی نشست پر پی ٹی آئی کو 43,776 ووٹوں کے فرق سے بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا، سیاسی تجزیہ کار اس شکست کو صوبے میں عمران خان کی جماعت کے لیے ایک بڑا دھچکہ قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہری پور ہزارہ کی یہ اہم سیٹ ہارنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے 13 سالہ اقتدار کے دوران خیبر پختون خواہ میں عوامی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینے کے بجائے زیادہ تر محاذ آرائی کی سیاست کو ترجیح دی۔ عوام کا گلہ ہے کہ ان کے مسائل کے حل پر بالکل توجہ نہیں دی جا رہی اور منتخب اراکین اسمبلی اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں۔ اس رویے نے عوام میں مایوسی اور بداعتمادی پیدا کی ہے، جو اب انتخابی نتائج کی صورت میں نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہری پور کا انتخابی حلقہ جسے پی ٹی آئی کا ناقابلِ تسخیر قلعہ سمجھا جاتا تھا، اب اس کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔
یاد رہے کہ عمر ایوب خان کا حلقہ خیبر پختون خواہ کا وہ حلقہ ہے جہاں تحریک انصاف کی اپنی صوبائی حکومت قائم ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اس شکست نے اعلیٰ قیادت میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے اور یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ آیا پارٹی کی مسلسل محاذ آرائی کی پالیسی نے نہ صرف قومی سطح پر بلکہ اپنے ہی صوبے میں بھی پارٹی کا سیاسی دائرہ سکیڑ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قیادت اب سنجیدگی سے اس بات پر غور کر رہی ہے کہ محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کی سیاست اپنائی جائے۔ پارٹی کے چند سینئر رہنما انتخابی نتیجے کو انتہائی پریشان کن قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے جس سیاسی میدان کو پی ٹی آئی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی، وہ اب ’’خیبر پختون خواہ میں بھی سکڑ رہا ہے۔ ان کے لیے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ صوبے میں مکمل اختیار ہونے کے باوجود پارٹی عوامی اعتماد برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے۔
سیاسی حلقوں میں سابق رکن قومی اسمبلی اور سابق قائدِ حزب اختلاف عمر ایوب خان کی نااہلی کے نتیجے میں خالی ہونے والی نشست پر شکست پی ٹی آئی کے اندر ایک واضح وارننگ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ ضمنی انتخاب کے نتائج سامنے آنے کے فوراً بعد پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان عمر ایوب خان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے لیے پہنچے، جہاں دونوں رہنماؤں نے انتخابی صورتحال اور پارٹی کی آئندہ حکمت عملی پر تفصیل سے گفتگو کی۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق انہوں نے گزشتہ تین برسوں میں پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے گوہر علی خان نے جن نرم لہجے میں نئی حکمت عملی کی طرف اشارہ کیا، اسے پارٹی کے اندرونی حلقے اب اعلیٰ قیادت کی موجودہ سوچ کی عکاسی سمجھ رہے ہیں۔
پارٹی حلقوں میں یہ احساس زور پکڑتا جا رہا ہے کہ فوج کے ساتھ لمبی محاذ آرائی کا نتیجہ شکست کی صورت میں نکلا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ویسے بھی اب فوجی اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس احساس نے پارٹی قیادت کو محاذ آرائی کی پالیسی پر ازسرِنو غور کرنے کی طرف مائل کیا ہے۔ بیرسٹر گوہر علی خان کو عرصہ دراز سے پارٹی کی معتدل آواز سمجھا جاتا ہے جو تصادم کے بجائے مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ شاہ محمود قریشی سمیت متعدد رہنما بھی مذاکرات کے آغاز کا مشورہ دیتے رہے ہیں لیکن پارٹی کے اندر موجود محاذ آرائی کے حامیوں نے کبھی اس سوچ کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔
PMLNیاPPP،گلگت بلتستان میں اگلی حکومت کون بنائے گا؟
ذرائع کے مطابق ہری پور کی یہ شکست پارٹی کے اندر موجود معتدل حلقے کے مؤقف کو مضبوط کر رہی ہے اور زیادہ رہنما یہ سمجھنے لگے ہیں کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ مذاکرات پر مبنی سیاست ہے۔ تاہم، پارٹی کے مستقبل کا حتمی فیصلہ بدستور عمران خان ہی کریں گے، جو اب تک محاذ آرائی کے حامی دھڑے کی بات زیادہ سنتے رہے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑا مسئلہ یہ ہو چکا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اب پی ٹی ائی سے کسی لیول پر مذاکرات کرنا ہی نہیں چاہتی چونکہ اب اس کی سٹریٹ پاور بھی ختم ہوتی نظر آتی ہے۔
