عمران خان نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اپنی رہائی کا مطالبہ ڈال دیا

باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان نے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سزا سنائے جانے کے خدشے کے پیش نظر حکومت کے ساتھ شروع کیا جانے والا مذاکراتی عمل رکوا کر ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اپنی رہائی کے مطالبے پر اصرار کرنا شروع کر دیا، عجیب بات یہ ہے کہ مذاکرات کے آغاز سے پہلے دونوں فریقین کے مابین طے پایا تھا کہ کسی قسم کا این آر او نہیں زیر بحث نہیں آئے گا اور کوئی عدالتی فیصلہ بھی مذاکراتی عمل کو متاثر نہیں کرے گا۔ اس معاہدے کی تصدیق خود تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم بھی کر چکے ہیں۔
اسوقت صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کی خواہش پر شروع کیا جانے والا مذاکراتی عمل پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کی عدم دستیابی کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ 19 دسمبر کو حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کے مابین ہونے والے پہلے راؤنڈ کے بعد یہ طے پایا تھا کہ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ 2 جنوری کو ہوگا جس میں تحریک انصاف کی قیادت اپنے مطالبات تحریری صورت میں پیش کرے گی۔ تاہم دو جنوری کو مذاکرات کا دوسرا دور اس لیے نہیں ہو پایا کہ نہ تو تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے مطالبات تحریری صورت میں پیش کیے اور نہ ہی مذاکرات کے لیے آئی۔ پی ٹی ائی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل میں مذاکراتی کمیٹی بانی چیئرمین عمران خان کی یرغمالی ہے اور انہی کی ہدایت پر مذاکرات کا عمل روکا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی عمران خق۔ کے کچھ خدشات اور تحفظات کا جواب نہیں دے پائی۔
دوسری جانب اسلام آباد میں باخبر ذرائع کا دعوی ہے کہ دراصل عمران خان مذاکراتی عمل میں نہ صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کو شامل کرانا چاہتے ہیں بلکہ اپنی جیل سے رہائی کی یقین دہانی بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دونوں مطالبات ناقابل عمل ہیں چونکہ فوجی ترجمان خود واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ فوج ایک غیر سیاسی ادارہ ہے اور اگر تحریک انصاف نے مذاکرات کرنے ہیں تو حکومت کے ساتھ کرے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی سراسر لایعنی ہے چونکہ ان کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور عدالتوں نے ہی ان کے اندر رہنے یا باہر آنے کا فیصلہ کرنا ہے۔
اس وقت عمران خان کی رہائی کا مطالبہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تحریک انصاف کا پہلا اور اہم ترین مطالبہ ہے۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی درپردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے عمران خان کی رہائی پر زور دے رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے مذاکرات کے پہلے راؤنڈ کے دوران عمران کی رہائی کو اپنا اولین مطالبہ بتایا۔ لیکن جب حکومت نے تحریک انصاف کی قیادت کو اپنے مطالبات تحریری صورت میں فراہم کرنے کا کہا تو مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل عمران خان نے مذاکراتی عمل کا آغاز ہی رہائی کی امید پر کیا تھا لیکن وہ تحریری صورت میں یہ مطالبہ پیش کرنے کو تیار نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ عمران عوام میں یہ تاثر برقرار رکھنا چاہتے ہیں کہ وہ ڈٹ کر جیل کاٹ رہے ہیں لہٰذا تحریری صورت میں معافی کا مطالبہ ان کے اس ڈھکوسلے کو بے نقاب کر دے گا۔
جب پوچھا گیا کہ کیا پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے رہا کر کے بنی گالہ میں نظر بند کرنا چاہتی ہے، تو حکومتی ذرائع نے وضاحت کی کہ پی ٹی آئی ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ان کی مکمل رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ وہ نظر بندی نہیں بلکہ عمران خان کو مکمل آزادی دلوانا چاہتے ہیں حالانکہ ان کے خلاف درجنوں مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کا عوامی مؤقف یہ ہے کہ عمران نے صرف پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم سچ یہ ہے کہ اب تک تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی نے حکومتی کمیٹی کے ساتھ جب بھی بات چیت کی ہے تو اس کا واحد مطالبہ عمران خان کی رہائی ہی رہا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی نے بات چیت کے دوران ایگزیکٹو ارڈر کے ذریعے عمران کے علاوہ شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اور اعجاز چوہدری، کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔ تاہم حکومتی کمیٹی نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے سوال کیا کہ عمران دور میں کتنے سیاسی قیدی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے رہا کیے گئے؟ یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں، رانا ثناءاللہ، شہباز شریف، عرفان صدیقی، خواجہ آصف اور دیگر کو گرفتار کرنے کے بعد کیا کسی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے رہا کیا گیا تھا یا وہ عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں باہر آئے تھے؟
عمران کا مذاکراتی عمل رکوا کر دوبارہ فوج کی شمولیت کا مطالبہ
حکومتی ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی ٹیم اس سوال کا کوئی جواب نہیں دے سکی۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم عمران کی رہائی بغیر کسی تحریری مطالبے یا معاہدے کے چاہتی ہے تاکہ شرمندگی سے بچا جا سکے۔
عمل تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔ تاہم ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آتا۔
